Updated: July 12, 2026, 8:03 PM IST
| New York
صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) نے خبردار کیا ہے کہ امدادی وسائل میں خطرناک حد تک کمی کے باعث بحران زدہ علاقوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سخت مشکلات کا شکار ہیں اور ڈیڑھ سال میں۱۰؍ لاکھ خواتین اور لڑکیاں ضروری انسانی امداد سے محروم ہو گئی ہیں۔
صنفی مساوات کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) نے خبردار کیا ہے کہ امدادی وسائل میں خطرناک حد تک کمی کے باعث بحران زدہ علاقوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں سخت مشکلات کا شکار ہیں اور ڈیڑھ سال میں۱۰؍ لاکھ خواتین اور لڑکیاں ضروری انسانی امداد سے محروم ہو گئی ہیں۔اس مسئلے پر ادارے کی تازہ ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ خواتین اور لڑکیوں کو بنیادی خدمات فراہم کرنے والی تنظیمیں شدید مالی بحران کے باعث اپنے پروگرام محدود یا مکمل طور پر بند کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دنیا بھر میں انسانی امداد کی ضرورت اب تک کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں۱۲؍ کروڑ خواتین اور لڑکیوں کو انسانی امداد اور تحفظ کی ضرورت ہے لیکن مقامی سطح پر انہیں مدد پہنچانے والی خواتین کی تنظیمیں وسائل کی شدید قلت کا شکار ہیں جبکہ وہ اکثر ایسے علاقوں میں بھی خدمات انجام دیتی ہیں جہاں بین الاقوامی اداروں کی رسائی ممکن نہیں ہوتی۔خواتین کی تنظیمیں افغانستان، جمہوریہ کانگو اور ہیٹی سمیت دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں لوگوں کی مدد کے لیے اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یو این ویمن میں امدادی کارروائیوں کے شعبے کی سربراہ صوفیہ کالٹورپ نے کہا ہے کہ ان تنظیموں سے واپس لیا جانے والا ہر ڈالر دراصل جنگی حالات میں جنسی تشدد کا شکار خواتین اور لڑکیوں، بے گھر ماؤں، تعلیم سے محروم لڑکیوں اور بقا کی جنگ لڑنے والی پوری برادریوں سے چھین لیا جاتا ہے۔انہوں نے خبردار کیا ہے کہ امدادی ادارے اور ان کے شراکت دار ایسے وقت اپنے پروگرام محدود کرنے پر مجبور ہیں جب ان خدمات کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سریبرینیکا نسل کشی: ۳۱؍ ویں برسی، تین دہائیوں بعد بھی متاثرین اپنوں کے متلاشی
امدادی تنظیموں کی قیادت کرنے والی بہت سی خواتین خود بھی جنگ، بدامنی یا نقل مکانی جیسے حالات سے گزر رہی ہیں۔ تقریباً دو تہائی تنظیموں نے بتایا کہ ان کا عملہ ضروری خدمات برقرار رکھنے کے لیے اجرتوں کے بغیر کام کر رہا ہے۔تقریباً نصف تنظیموں نے اپنے عملے میں ذہنی اور جسمانی تھکن میں اضافے کی نشاندہی کی جبکہ ۸۸؍ فیصد نے بتایا کہ وہ جن خواتین اور لڑکیوں کی مدد کر رہی ہیں ان کی ذہنی صحت بھی مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ امدادی وسائل کی کمی کے اثرات اب براہ راست بحران زدہ علاقوں میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ یو این ویمن کے جائزے میں شامل نصف تنظیموں نے بتایا کہ وسائل کی کمی کے باعث انہوں نے امداد کےمنتظر لوگوں کی فہرستیں بنا دی ہیں یا ضرورت مند خواتین اور لڑکیوں کو واپس بھیجنے پر مجبور ہیں کیونکہ وہ مزید لوگوں کی مدد نہیں کر سکتیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ویزا پالیسی میں سختی کے سبب وہاں مقیم ہندوستانی طلبہ کو ملازمت ملنا انتہائی مشکل: رپورٹ
بعد ازاں یو این ویمن کا کہنا ہے کہ اس مالی بحران کے اثرات صرف ہنگامی امداد تک محدود نہیں رہیں گے۔ خواتین کی تنظیموں کے کمزور ہونے سے مقامی سطح پر خواتین کی قیادت، فیصلہ سازی میں ان کی شرکت اور معاشرتی بحالی کی کوششیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ یو این ویمن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ خواتین کی تنظیموں پر مستقل اور موثر سرمایہ کاری کی جائے کیونکہ یہی ہنگامی حالات میں سب سے پہلے مدد کے لیے پہنچتی، خواتین کے حقوق کا دفاع کرتی اور امن و بحالی میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
رپورٹ کے اہم نکات
(۱)جنوری۲۰۲۵ء سے اب تک امدادی فنڈز میں ریکارڈ کمی کے باعث کم از کم۱۰؍ لاکھ خواتین اور لڑکیاں ضروری امدادی خدمات سے محروم ہو چکی ہیں۔
(۲)۹۰؍ فیصد تنظیمیں موجودہ ضروریات پوری کرنے کے قابل نہیں رہیں جبکہ۸۴؍ فیصد نے بتایا کہ ان کی خدمات کی طلب میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
(۳)موجودہ حالات میں ایسی خواتین اور لڑکیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں جن کے پاس مدد حاصل کرنے کے متبادل ذرائع موجود نہیں۔۶۳؍ فیصد تنظیموں نے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں میں اپنی خدمات محدود کر دی ہیں۔
(۴)صنفی بنیاد پر تشدد میں اضافہ ہو رہا ہے۔۸۶؍ فیصد تنظیموں کے مطابق، خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات بڑھے ہیں جبکہ۶۲؍ فیصد نے بتایا کہ خواتین کے لیے محفوظ مراکز بند ہو گئے ہیں یا ان کی خدمات میں نمایاں کمی آ گئی ہے۔
(۵)مالی وسائل میں کمی اور خواتین کے حقوق کی بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث فیصد تنظیمیں خواتین کی قیادت اور صنفی مساوات سے متعلق اپنا کام معطل کر چکی ہے۔