Inquilab Logo Happiest Places to Work

اکولہ میونسپل کارپوریشن میں بے دریغ گالی گلوچ، عوامی نمائندوں کے ہاتھوں ایوان کا وقار پامال

Updated: April 16, 2026, 10:34 AM IST | Inquilab News Network | Akola

جنسی استحصال کے ملزم کو سر آنکھوں پر بٹھانے سے لے کر ایوان میں غیر اخلاقی حرکت کرنے تک، عوام اور دانشوروں میں خاموشی، کیا مہاراشٹر میںسیاسی لیڈران کو ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا ہے؟

Eknath Shinde Needs To Keep His Leaders In Check .Photo:INN
ایکناتھ شندے کو اپنے لیڈران کو قابو میں رکھنے کی ضرورت ہے- تصویر:آئی این این
ایک روز قبل اکولہ میونسپل کارپوریشن کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں جو کچھ ہوا اس نے ملک کی سب سے ترقی پسند اور مہذب کہلانے والی ریاستوں میں سے ایک مہاراشٹر کو شرمسار کرکے رکھ دیا ہے۔ اس میٹنگ میں کمیٹی کے چیئرمین اور ایک رکن کے درمیان بے دریغ گالی گلوچ ہوئی۔ حتیٰ کہ ہاتھا پائی کی نوبت آتے آتے رہ گئی۔ اہم بات یہ ہے کہ اکولہ میونسپل کاپوریشن میں اسٹینڈنگ کمیٹی کےچیئرمین بی جے پی کے وجے اگروال ہیں جبکہ جس کارپوریٹر ساگر بھاروکا سے ان کی گالی گلوچ ہوئی ان کا تعلق ایکناتھ شندے کی پارٹی شیوسینا سے ہے۔ 
ہوا یوں کہ اسٹینڈنگ کمیٹی کی میٹنگ میں شیوسینا (شندے) کے گروپ لیڈر ساگربھاروکا نے سرکاری کاموں کیلئے دیئے گئے ٹھیکوں پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹھیکے کے ٹینڈر جاری کرنے کیلئے کم از کم ۳؍ ٹھیکیداروں کے ٹینڈر موصول ہونا ضروری تھا لیکن اس معاملے میں صرف ۲؍ ہی ٹینڈر بھرے گئے تھے اور کارپوریشن نے ان میں سے ایک کے نام ٹینڈر جاری کر دیا جو کہ غلط ہے۔ کارپوریشن نے اپنے قریبی لوگوں کو ٹینڈر دیا ہے۔ اس پر کمیٹی کے چیئر مین وجے اگروال نے انہیں یہ کہہ کر بولنے سے روکنے لگے کہ ’’اس معاملے پر کوئی بحث نہیں ہوگی۔  اور یہ ٹینڈر اب واپس نہیں ہوں گے۔‘‘ جب ساگر بھاروکا نے کہا’’ آپ کا من مانی کاروبار چل رہا ہے تو ‘‘ تو اگروال نے کہا ’’ہاں چل رہا ہے۔‘‘ اس پر ساگر بھاروکا نے کہا’’ آپ ٹینڈر واپس بھلے ہی نہ لیں لیکن مجھے اپنی مخالفت تو درج کروانے دیجئے۔ آخر ہم بھی حکومت میں ہیں‘‘
اس پر وجے اگروال بھڑک اٹھے، اور کہنے لگے ’’اگر حکومت میں ہے تو کیا لائسنس ہے تمہارے پاس؟ کیا تمہیں لائسنس مل گیا ہے؟ کوئی ضرورت نہیں ہے تمہاری یہاں جائوں یہاں سے۔‘‘ اگلے ہی پل وجے اگروال تو تڑاخ پر اتر آئےاور ساگر بھاروکا سے کہا ’’کوئی ضرورت نہیں تیری، توحکومت میں نہیں ہے چل جا یہاں سے۔ ‘‘ پھر کارندوںکو مخاطب کرکے کہا’’ اس کو میں نے معطل کر دیا ہے ، اسے یہاں سے باہر نکالو۔‘‘ اس پر ساگر بھاروکا بھی مشتعل ہو گئے اور تقریباً چیختے ہوئے کہا ’’ معطل کروگے مجھے؟ کرکے دکھائو!‘‘ بات یہیں تک نہیں رکی بلکہ انوپ اگروال نے بے ساختہ کہہ دیا کہ ’’ ابے گدھے کے بچے باہر جا!‘‘ جواب میں ساگر بھاروکا نے بھی بلاجھجھک انہیں ماں کی گالی دی۔ ماں کی گالی سن کر وجے اگروال اپنی جگہ سے اٹھے اور ساگر کی طرف بڑھے جیسے انہیں مارنا چاہتے ہوں لیکن دیگر لوگ درمیان میں آگئے۔ دونوں ایک دوسرے پر چیختے رہے جبکہ کارندوں اور وہاں موجود کارپوریٹروں نے ساگر بھاروکا کو ایوان سے باہر نکالا۔ 
اب سوال یہ ہے کہ اگر ایوان میں ماں کی گالیاں دی جا رہی ہیں اور ایک دوسرے کو ’گدھے کا بچہ‘ کہا جا رہا ہے تو وہ کون سی جگہ باقی رہ گئی ہے جہاںعوامی نمائندے اخلاق یا ڈسپلن کا مظاہرہ کرتے ہوں گے؟ اس سے قبل بھی ایوان میں جھگڑے ہوتے رہے ہیں۔ ہاتھا پائی بھی ہوئی ہے ، لیکن الفاظ کے نپے تلے استعمال کے ساتھ ہوئی ہے۔ یوں کسی کو بلاجھجھک ماں کی گالی دینا اور کمیٹی کے چیئرمین کا یہ کہنا ہے ’’ ہاں ، ہم اپنی من مانی سے کام کرتے ہیں۔‘‘ یہ غیر آئینی، غیر قانونی اور غیر اخلاقی سب کچھ ہے۔ 
 
 
سوال یہ ہے کہ ان عوامی نمائندوں میں اتنی ہمت یا یوں کہیں بے حسی کہاں سے آگئی کہ وہ ہر غلط کام کریں اور انہیں اس بات کا کوئی خیال ہی نہ ہو کہ عوام انہیں دیکھ رہے ہیں؟ واضح رہے کہ اس واقعے کا ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہو رہا ہے۔ ان عوامی نمائندوں کی گالیاں اور من مانی دونوں ہی لوگ دیکھ رہے ہیں۔حکام کی طرف سے کسی کارروائی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا ، سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈران کی نکیل کسنے کے موڈ میں نہیں دکھائی دیتیں لیکن سوال یہ ہے کہ عوام کو کیا ہو گیا ہے؟
 
 
موجودہ حالات میں لیڈران کیسی ہی حرکت کر لیں عوام کی جانب سے کوئی سوال ، کو ئی انتباہ، یا کسی طرح کا احتجاج سامنے نہیں آتا۔ سماج کا دانشور طبقہ شاید منظر ہی سے غائب ہو گیا ہے۔ اسے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ عوامی نمائندے الیکشن جیتنے کے بعد ایوان میں گالی گلوچ کر رہے ہیں، خواتین کا جنسی استحصال کرنے والے کسی فرضی بابا کو چڑھاوے چڑھا رہے ہیں یا پھر سرعام کسی کینٹین کے ملازم کو پیٹ رہے ہیں۔ ریاست کا جمہوری ماحول دھیرے دھیرے غنڈہ گردی کی طرف مائل ہوتا جا رہا ہے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK