Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: آئی اے ایس افسر درگا شکتی ناگپال پر جج کو متاثر کرنے، دھمکانے کا الزام

Updated: August 25, 2026, 9:43 PM IST | Lukhnow

اترپردیش کی آئی اے ایس افسر درگا شکتی ناگپال پر ایک سول جج نے انہیں متاثر کرنے اور دھمکانے کا الزام عائد کیا ہے، ناگپال اس وقت دیوی پاٹن کی ڈویژنل کمشنر ہیں، جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ کی اس معاملے کی نگرانی کررہا ہے۔

Indian Administrative Service (IAS) officer Durga Shakti Nagpal. Photo: INN
ہندوستانی ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کی افسر درگا شکتی ناگپال۔ تصویر: آئی این این

ہندوستانی ایڈمنسٹریٹو سروس (آئی اے ایس) کی افسر درگا شکتی ناگپال ایک اور تنازع میں گھر گئی ہیں، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک زیرِ التوا سول تنازع کے سلسلے میں ایک جج کو متاثر کرنے اور دھمکانے کی کوشش کی۔۲۰۱۰ء بیچ کی افسر ناگپال اس وقت دیوی پاٹن کی ڈویژنل کمشنر ہیں۔ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ نے ان پر نظر رکھنا شروع کی جب گونڈا کی سول جج (سینئر ڈویژن) شبینہ خان نے الزام لگایا کہ اتر پردیش کی اس سینئر افسر نے ان کے عدالت میں زیرِ التوا کیس کے بارے میں فون پر رابطہ کیا۔ہائی کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ ابتدائی طور پر یہ مبینہ گفتگو جج کو متاثر کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے، اور انہوں نے ناگپال کے رویے کو کرمنل توہینِ عدالت سے متعلق عدالت کے حوالے کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ جسٹس سید قمر حسن رضوی نے یہ مشاہدے ایک درخواست کی سماعت کے دوران کیے جو ۱۹۹۷ء سے جیوتی ودیا مندر اسکول اور نگر پالکا پریشد، گونڈا کے درمیان زیرِ التوا ایک سول مقدمے کی منتقلی سے متعلق تھی۔تنازع ناظول زمین کے کئی پارسلوں سے متعلق ہے جو دیوی پٹن ڈویژن کے کمشنر کے نام درج ہیں۔ ناظول زمین ریاست کی ملکیت ہوتی ہے، اور عام طور پر لیز ہولڈ جائیداد کے طور پر زیرِ انتظام ہوتی ہے۔عدالت میں کمشنر کے موقف کے مطابق، یہ زمین ایک دفتری عمارت اور دیگر سرکاری مقاصد کے لیے مختص تھی۔ الزام تھا کہ بعد میں اس زمین پر ایک اسکول کی عمارت تعمیر کر دی گئی، جس سے تنازعہ پیدا ہوا جو دو دہائیوں سے سول عدالت میں زیرِ التوا ہے۔یہ مقدمہ فی الحال شواہد کے مرحلے پر ہے، اور اس پر تعطل کا حکم بھی نافذ ہے۔ اسکول نے الزام لگایا تھا کہ سرکاری افسران عدالت پر غیر ضروری دباؤ ڈالنے کے لیے اپنے عہدوں کا غلط استعمال کر رہے ہیں اور انہوں نے کیس کو دیوی پاٹن ڈویژن سے باہر منتقل کرنے کی استدعا کی تھی۔ تاہم تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب سول جج شبینہ خان نے عدالت کو ۱۵؍ جولائی کو ناگپال کے ساتھ مبینہ فون گفتگو سے آگاہ کیا۔ان کے تحریری بیان (جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوا) میں خان نے الزام لگایا کہ درگا نے کہا، ’’میں ایک سینئر آئی اے ایس افسر ہوں، اور آپ نے میری فون کال نہ لے کر نامناسب سلوک کیا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا، ’’اچھا ہوا کہ آپ نے مجھ سے بات کی؛ ورنہ میں آپ کے خلاف ہائی کورٹ میں شکایت درج کروانے والی تھی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: اُترپردیش میں ایک بھی مسلم کو بلٹ پروف جیکٹ نہیں ملی، حکومت پر جانبداری کا الزام

بعد ازاں جسٹس رضوی نے مشاہدہ کیا کہ مبینہ گفتگو کا لہجہ اور زبان براہِ راست یہ تاثر دیتی ہے کہ عدالت کے پریسائیڈنگ افسر کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ ہائی کورٹ نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ناگپال نے فون کال کرنےکی بات سے انکار نہیں کیا۔ عدالت نے حیرت کا اظہار کیا کہ ایک فریقِ مقدمہ یا ریاست کسی زیرِ التوا معاملے کے سلسلے میں فون کال کے ذریعے عدالت سے رابطہ کر سکتی ہے۔ عدالت نے کہا کہ مبینہ رویہ ابتدائی طور پر عدلیہ کی آزادی پر براہِ راست حملہ اور انصاف کی فراہمی میں مداخلت کے مترادف ہے، ہائی کورٹ نے کہا کہ اس معاملے پر مجرمانہ توہینِ عدالت کے تحت غور کیا جانا چاہیے۔عدالت نے ہدایت دی کہ چیف جسٹس یا متعلقہ سینئر جج سے ضروری ہدایات حاصل کرنے کے بعد، یہ معاملہ مجرمانہ توہینِ عدالت کے مقدمات سے متعلق مناسب عدالت کے سامنے پیش کیا جائے۔

یہ بھی پڑھئے: ’چڑھاوا چوری‘ کے بعد اب اُترپردیش میں ۵؍سرکاری اسکولوں کے ’چوری‘ ہو جانے کاالزام

’’دی پرنٹ‘‘ نے ناگپال سے ان کا موقف جاننے کے لیے رابطہ کیا ہے۔ تاہم انھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ناگپال کسی بڑے تنازعہ کا مرکز بنی ہوں۔۲۰۱۳ میں، جب وہ اتر پردیش کے ضلع گوتم بدھ نگر میں ذیلی ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) تعینات تھیں، تو ناگپال نے دریائے یمنا اور ہندن کے کنارے مبینہ غیر قانونی ریت کی کان کنی کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا۔ناگپال کی غیر قانونی کان کنی کے خلاف کارروائی (چھاپے اور ملوث افراد کے خلاف اقدامات) نے اس وقت بڑا تنازع کھڑا کر دیا جب انہیں جولائی ۲۰۱۳ ءمیں اس وقت کی اکھلیش یادو حکومت نے گاؤں کادل پور میں زیرِ تعمیر مسجد کی دیوار گرانے کے بعد معطل کر دیا۔ تاہم چو طرفہ دباؤ کے بعد اکھلیش یادو حکومت نے اکتوبر ۲۰۱۳ ءمیں بالآخر ان کی معطلی ختم کر دی۔
اس کےعلاوہ ناگپال پر ۲۰۲۲ء سے ۲۰۲۵ء سرکاری بنگلہ پر غیر مجاز قبضہ کا بھی الزام لگا، حالانکہ انہوں نے والدین کی خرابی صحت کے حوالے سے قبضہ کو جائز ٹھہرانے کی کوشش کی، تاہم انہوں نے کرایہ ادا کیا اور بالآخر فروری میں بنگلہ خالی کر دیا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK