باپ کی میت ٹھیلے پرلئے آخری رسومات کیلئے دو نابالغ بھٹکتے رہے، آخر کارمسلمان آگے آئے،اور انہوں نے میت جلانے کا انتظام کیا، ساتھ ہی بچوں کی مدد بھی کی، بعد میں حکام نے مالی اور تعلیمی امداد فراہم کی۔
EPAPER
Updated: August 28, 2025, 9:02 PM IST | Lukhnow
باپ کی میت ٹھیلے پرلئے آخری رسومات کیلئے دو نابالغ بھٹکتے رہے، آخر کارمسلمان آگے آئے،اور انہوں نے میت جلانے کا انتظام کیا، ساتھ ہی بچوں کی مدد بھی کی، بعد میں حکام نے مالی اور تعلیمی امداد فراہم کی۔
اتر پردیش کے ضلع مہاراج گنج کے قصبہ نوتنوا میں۴۰؍ سالہ لو کمار کی المناک موت نے اس کے تین بچوں کو اس کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے جدوجہدکرنے پر مجبور کردیا، جہاں وہ گھنٹوں اس کی لاش کے ساتھ گھومتے رہے لیکن مدد دستیاب نہ ہو سکی۔اپنی اہلیہ کی موت کے بعد اکیلے رہنے والے لکش کمار کے دو بیٹے اور ایک بیٹی تھی جو اپنی دادی کے ساتھ رہتے تھے۔ اسپتال میں علاج کے بعد گھر واپس آنے کے بعد اس کی صحت مزید خراب ہو گئی اور وہ گزشتہ ہفتے انتقال کر گئے۔اطلاعات کے مطابق ان کے بچوں نے پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے مدد مانگی لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔۱۴؍ سالہ بیٹے نے اس تکلیف دہ واقعے کو یاد کرتے ہوئے کہا: `ہم دروازے پر ایک ٹھیلے کے ساتھ کھڑے تھے۔ بہت سے لوگ آئے لیکن کسی نے مدد نہیں کی۔مسلمانوں کے قبرستان میں لاش کو دفن کرنے کی کوشش کو مرحوم کے ہندو ہونے کی وجہ سے مسترد کر دیا گیا۔ بچے، جو مایوس اور تنہا تھے، خود سے میت جلانے کے لیے راہگیروں سے لکڑیاں مانگ رہے تھے۔ آخرکار مقامی مسلم شہری راشد قریشی اور ان کے رشتہ دار وارث قریشی آگے آئے۔
یہ بھی پڑھئے: حیدرآباد: رفیع بن کر تین مسلم لڑکیوں سے شادی کرنے والا روی کمار گرفتار
راشد قریشی نے صورتحال بیان کرتے ہوئے کہاکہ ’’مجھے پیر کو تقریباً سات بجے فون آیا کہ چھپواتراہا پر ایک لاش پڑی ہے۔ بچے رو رہے تھے۔ لیکن کوئی مدد نہیں کر رہا تھا۔ جب میں اس جگہ پر پہنچا تو میں نے دیکھا کہ لاش پھول گئی تھی اور بدبو آ رہی تھی۔ لوگ اس کے قریب جانا بھی نہیں چاہتے تھے۔ گھر والوں نے کہا کہ انہیں دو دن سے کہیں سے بھی کوئی مدد نہیں مل رہی تھی۔‘‘ راشد قریشی نے فوراً لکڑی کا انتظام کیا اور مقامی شمشان گھاٹ پر ہندو روایات کے مطابق آخری رسومات ادا کرتے ہوئے آدھی رات تک میت کو جلانے کی نگرانی کی۔ وارث قریشی اور دیگر خاندان والوں نے بھی ان کی مدد کی۔ راشد قریشی نے بی بی سی کو بتایاکہ ’’ `انسانیت مذہب سے بالاتر ہے۔ جب بچے اپنے باپ کی لاش کے ساتھ اکیلے کھڑے رو رہے ہوں تو خاموش رہنا ایک جرم ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: کولہا پور تشدد معاملے میں۴۰۰؍افراد پر کیس درج
اس واقعے کے بعد، نوتنوا کے ذیلی ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نوین کمار نے بچوں سے ملاقات کی اور فوری مدد کا یقین دلایا۔ انتظامیہ نے بال سیوا یوجنا کے تحت مالی امداد، راشن کی فراہمی اور تعلیمی انتظامات فراہم کیے۔ انہوں نے کہا: `بچے یتیم ہو گئے ہیں۔ انہیں بال سیوا یوجنا میں شامل کیا گیا ہے۔ جیسے ہی بینک اکاؤنٹ کھلے گا، ہر بچے کو ماہانہ۵۰۰۰؍ روپے ملیں گے۔ اب تک وہ سکول بھی نہیں جا رہے تھے لیکن انتظامیہ نے ان کی تعلیم کا انتظام کر دیا ہے۔ایس ڈی ایم نے وضاحت کی کہ امداد میں تاخیر اس لیے ہوئی کیونکہ مرحوم نگر پنچایت سے باہر رہتے تھے اور ابتدائی طور پر حکام ان کی موت سے بے خبر تھے۔