Updated: June 04, 2026, 7:02 PM IST
| New Delhi
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے ہندوستان اور کمبوڈیا کے درمیان ادائیگی کے نظام کی کنیکٹیویٹی کے آغاز کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت ہندوستانی مسافر اب کمبوڈیا میں یو پی آئی کے ذریعے براہِ راست کیو آر کوڈ اسکین کر کے ادائیگیاں کر سکیں گے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں کمبوڈیا کے ۴۵؍ لاکھ سے زائد تاجروں کو ادائیگی کی سہولت دستیاب ہوگی، جبکہ دوسرے مرحلے میں کمبوڈیائی مسافر ہندوستان میں کیو آر کے ذریعے یو پی آئی ادائیگیاں کر سکیں گے۔
یو پی آئی۔ تصویر: آئی این این
ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے بدھ کو ہندوستان اور کمبوڈیا کے درمیان ادائیگی کے نظام کی کنیکٹیویٹی کے آغاز کا اعلان کیا، جس کے بعد ہندوستانی مسافر جنوب مشرقی ایشیائی ملک کمبوڈیا میں UPI کے ذریعے براہِ راست ادائیگیاں کر سکیں گے۔ یہ سہولت منگل کو نوم پنہ میں باضابطہ طور پر شروع کی گئی۔ یہ منصوبہ آر بی آئی اور کمبوڈیا کے مرکزی بینک، نیشنل بینک آف کمبوڈیا، کی نگرانی میں نافذ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں NPCI International Payments اور Acleda Bank Plc کے درمیان اشتراک عمل قائم کیا گیا ہے۔ نئے نظام کے تحت ہندوستانی صارفین یو پی آئی سے چلنے والے ایپس کے ذریعے کمبوڈیا کے قومی کیو آر کوڈ معیار KHQR سے منسلک ۴۵؍ لاکھ سے زائد تاجروں کو حقیقی وقت میں ادائیگیاں کر سکیں گے۔ اس سے ہندوستانی سیاحوں اور کاروباری افراد کو نقد رقم یا کارڈ پر انحصار کیے بغیر آسان اور محفوظ لین دین کی سہولت حاصل ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: ترکی :بس ڈرائیور کو دل کا دورہ پڑا، حادثے میں ۸؍مسافر ہلاک
آر بی آئی کے مطابق یہ منصوبہ ہندوستان-کمبوڈیا ادائیگی کنیکٹیویٹی پروگرام کے پہلے مرحلے کی نمائندگی کرتا ہے، جو کیو آر کوڈ پر مبنی فرد سے مرچنٹ (P2M) ادائیگیوں پر مرکوز ہے۔ اس مرحلے میں ہندوستانی صارفین کمبوڈیا میں مقامی تاجروں کو براہِ راست یو پی آئی کے ذریعے ادائیگی کر سکیں گے۔ مرکزی بینک نے کہا کہ اس اقدام سے سرحد پار مالی لین دین میں سہولت پیدا ہوگی، نقد رقم کے استعمال میں کمی آئے گی اور ادائیگیوں کے لیے ایک جدید، تیز رفتار اور محفوظ متبادل دستیاب ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ کےپھر ایک دوسرے پر حملے،حالات دھماکہ خیز
منصوبے کے دوسرے مرحلے میں کمبوڈیا کے شہریوں اور مسافروں کو ہندوستان میں کیو آر کوڈ کے ذریعے یو پی آئی سے منسلک تاجروں کو ادائیگی کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ آر بی آئی نے بتایا کہ اس مرحلے کا آغاز بعد میں کیا جائے گا۔ مرکزی بینک کے مطابق یہ پیش رفت یو پی آئی کو دنیا کے دیگر ممالک کے فوری ادائیگی نظاموں کے ساتھ جوڑنے کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد بین الاقوامی ادائیگیوں کو زیادہ آسان، تیز اور کم لاگت بنانا ہے۔ یہ منصوبہ جی ۲۰؍ کے اس روڈ میپ سے بھی مطابقت رکھتا ہے جس کے تحت رکن ممالک سرحد پار ادائیگیوں کو سستا، شفاف، تیز اور زیادہ قابلِ رسائی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے معاہدے نہ صرف سیاحت اور تجارت کو فروغ دیتے ہیں بلکہ مالیاتی شمولیت کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔
واضح رہے کہ ہندوستان پہلے ہی کئی ممالک کے ساتھ یو پی آئی رابطہ کاری قائم کر چکا ہے، اور کمبوڈیا کے ساتھ نئی شراکت داری کو خطے میں ڈِجیٹل ادائیگیوں کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔