Updated: April 06, 2026, 9:58 PM IST
| Washington
امریکہ کی مسلم شہری حقوق تنظیم ’’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن‘‘ (سی اے آئی آر) نے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ جنگ روکنے کے لیے فوری اجلاس بلا کر ووٹنگ کرے۔ تنظیم نے ڈونالڈ ٹرمپ کے بیانات کو ’’خطرناک‘‘ اور ’’اسلام کی توہین‘‘ قرار دیا، خاص طور پر جب انہوں نے فوجی دھمکیوں کے ساتھ مذہبی الفاظ کا استعمال کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این
امریکہ میں مسلمانوں کے شہری حقوق کی سب سے بڑی تنظیم ’’کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشن‘‘ (سی اے آئی آر) نے ایران کے خلاف بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں امریکی کانگریس سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے زور دیا کہ قانون ساز فوری طور پر دوبارہ اجلاس بلا کر جنگ کے امکان کو روکنے کے لیے ووٹنگ کریں اور اپنے آئینی اختیار کا استعمال کریں۔ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ایران میں پاور پلانٹ اور پل کا دن ہوگا‘‘، اور ساتھ ہی آبنائے ہرمز کھولنے کا مطالبہ کیا۔ ان کے بیان میں مذہبی جملہ ’’اللہ اکبر‘‘ کے استعمال نے بھی تنازع کو بڑھا دیا۔
یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کے ٹرانزٹ فیس پر ایران سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی: حکومت
سی اے آئی آر نے اپنے ردعمل میں کہا کہ شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں ’’لاپروائی اور خطرناک‘‘ ہیں، اور یہ انسانی جانوں کے احترام کی کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ تنظیم کے مطابق ایسے بیانات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہو سکتے ہیں بلکہ بڑے پیمانے پر انسانی بحران کو بھی جنم دے سکتے ہیں۔ تنظیم نے خاص طور پر مذہبی الفاظ کے استعمال پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ فوجی دھمکیوں کے ساتھ ’’اللہ اکبر‘‘ کہنا اسلام کی توہین اور مذہبی زبان کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی مثال ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ رویہ مذہبی جذبات کو مجروح کرتا ہے اور ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے جہاں مذہب کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔‘‘
سی اے آئی آر نے امریکی قانون سازوں پر زور دیا کہ وہ چھٹیوں پر نہ رہیں جبکہ صدر کھلے عام جنگی کارروائیوں کی بات کر رہے ہیں۔ تنظیم کے مطابق کانگریس کا آئینی فرض ہے کہ وہ جنگ اور امن کے فیصلوں میں اپنا کردار ادا کرے اور کسی بھی ممکنہ فوجی اقدام کو روکنے کے لیے فوری قدم اٹھائے۔ مزید برآں، تنظیم نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ بیانات کسی ایک واقعے کا حصہ نہیں بلکہ ایک طویل سلسلے کی کڑی ہیں، جس میں مسلمانوں کے خلاف بیان بازی اور پالیسیوں نے انہیں اندرون و بیرون ملک غیر انسانی بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا سخت ردعمل، صحت کے شعبے پر حملوں کی مذمت، عالمی خدشات
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی حالیہ ہفتوں میں شدت اختیار کر چکی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے تنازع کے بعد۔ عالمی برادری اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے کیونکہ اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی سلامتی اور توانائی سپلائی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق سی اے آئی آر کا یہ مطالبہ امریکہ کے اندر بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، جہاں شہری تنظیمیں حکومت کے ممکنہ فوجی اقدامات پر سوال اٹھا رہی ہیں۔ اگر کانگریس اس معاملے میں فعال کردار ادا کرتی ہے تو یہ کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔