Updated: May 23, 2026, 7:09 PM IST
| Washington
امریکی عدالت نے محمود خلیل کے فیصلے پر دوبارہ غور کرنے سے انکار کر دیا، جس سے ان کی دوبارہ گرفتاری کی راہ ہموار ہو گئی، خلیل کے ترجمان نے کہا کہ وہ فوری طور پر امریکی سپریم کورٹ میں اپیل کریں گے، کیونکہ ان کی قانونی ٹیم خلیل کی ملک بدری کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔
فلسطین حامی کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل۔ تصویر: ایکس
ایک امریکی وفاقی اپیل عدالت نے کولمبیا یونیورسٹی کے گریجویٹ محمود خلیل کے کیس میں ایک فیصلے پر دوبارہ غور کرنے سے انکار کر دیا ہے جس نے فلسطین حامی کارکن کی دوبارہ گرفتاری اور ملک بدری کی راہ ہموار کر دی ہے۔ امریکی سرکٹ کورٹ آف اپیلز سوم نے۵؍ کے مقابلے۶؍ ووٹوں سے خلیل کی درخواست کو مسترد کر دیا کہ وہ جنوری میں فلاڈیلفیا میں قائم اسی عدالت کے دو م سے ایک پینل کے دیے گئے فیصلے پر دوبارہ غور کیا جائے۔ اس فیصلے میں کہا گیا تھا کہ نچلی عدالت کے جج کو گزشتہ سال امیگریشن حراست سے ان کی رہائی کا حکم دینے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔
یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کا تحفہ،نیویارک کے مکینوں کے لیے سستے ٹکٹ اور مفت بس سروس
واضح رہے کہ محمود خلیل متعدد غیر ملکی طلباء میں سب سے نمایاں تھے جنہیں پچھلے سال امیگریشن حکام نے اپنے کالج کیمپس میں فلسطین حامی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بعد حراست میں لیا تھا۔چھ جج اکثریت میں تھے، جبکہ پانچ ججوں نے کیس پر دوبارہ سماعت کرنے کے حق میں ووٹ دیا، جن میں امریکی سرکٹ جج چیرل این کراؤز بھی شامل تھیں جنہوں نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلے نے عدلیہ کی غیر شہریوں جیسے خلیل کی شہری آزادیوں کے تحفظ کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔جج کراؤز نے لکھا، ’’ہم اس کردار کو پورا نہیں کر سکتے اگر ہم خود کو غیر متعلقہ بنا دیں اور ایگزیکٹو برانچ کو خود کو چیک کرنے کے لیے چھوڑ دیں۔‘‘دریں اثناء سنٹر فار کنسٹی ٹیوشنل رائٹس میں خلیل کے وکیل بہیر عظمیٰ نے ایک بیان میں امریکی سپریم کورٹ سے خلیل کا کیس سننے اور سوم سرکٹ کے خطرناک فیصلے کو کالعدم کرنے کی درخواست کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔انہوں نے کہا، ’’یہ فیصلہ کسی شخص کو طویل اور سفاکانہ حراستی حالات میں بغیر کسی بامعنی عدالتی جائزے کے رکھنے کی راہ ہموار کرتا ہے تاکہ اسے سزا دی جا سکے اور دوسروں کو امریکی خارجہ پالیسی سے اختلاف کرنے سے روکا جا سکے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں اب بھی انسانی صورتحال بد ترین: بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیمیں
واضح رہے کہ خلیل کو گزشتہ سال گرفتاری کے بعد مہینوں تک لوزیانا کے ایک حراستی مرکز میں رکھا گیا تھا، جس کی وجہ سے وہ اپنے بچے کی پیدائش کے موقع پر پہنچنے سے محروم رہ گئے تھے۔تاہم انہیں جون میں رہا کر دیا گیا تھا، لیکن ان کا امیگریشن معاملہ آگے بڑھ گیا۔اس سال کے اوائل میں، ایک امیگریشن عدالت نے فیصلہ دیا تھا کہ انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔