Updated: April 04, 2026, 2:03 PM IST
| Washington
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں، منفرد طبی ضرورت (مثلاً نایاب بلڈ گروپ) پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ویکسین کی حفاظت کے متعلق خدشات کی وجہ سے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ کووڈ-۱۹ ویکسین خون کی ساخت، ڈی این اے کو تبدیل کرتی ہے یا انتقالِ خون کے ذریعے خطرات کا باعث بنتی ہے۔
امریکہ میں طبی ماہرین نے ایک بڑھتے ہوئے رجحان کی اطلاع دی ہے۔ ملک میں مریض اب ویکسین شدہ عطیہ دہندگان کا خون لینے سے انکار کر رہے ہیں، چاہے اس کی وجہ سے فوری طبی امداد کی فراہمی میں تاخیر ہی کیوں نہ ہو جائے۔ اس رجحان نے ڈاکٹروں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اس طرح کے مطالبات غلط معلومات پر مبنی ہیں اور مریضوں کو زیادہ خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
ٹینیسی کے وینڈربلٹ یونیورسٹی میڈیکل سینٹر کے اعداد و شمار کے مطابق، گزشتہ دو برسوں کے دوران ”ڈائریکٹڈ بلڈ ڈونیشن“ (مخصوص عطیہ دہندگان سے خون لینے) کی درخواستوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ عام طور پر گمنام عطیات کے برعکس، ڈائریکٹڈ ڈونیشن مریضوں یا ان کے اہل خانہ کو مخصوص افراد کو بطور عطیہ دہندہ منتخب کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ محققین نے پایا کہ ان میں سے بہت سی درخواستیں ایسے افراد کی جانب سے کی گئی تھیں جو کووڈ-۱۹ کے خلاف ویکسین لگوانے والے عطیہ دہندگان کے خون سے بچنا چاہتے تھے۔
مارچ میں ’ٹرانسفیوژن‘ (Transfusion) نامی جریدے میں شائع ہونے والے ایک رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ ۲۰۲۴ء اور ۲۰۲۵ء کے درمیان، کم از کم ۱۵ مریضوں نے اسی وجہ سے مخصوص افراد سے خون لینے کی درخواست کی۔ ایسے معاملات کی تعداد ۲۰۲۴ء میں ۴ سے بڑھ کر ۲۰۲۵ء میں ۱۱ تک پہنچ گئی۔ ان میں ۸ سے زیادہ معاملات بچوں سے متعلق تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ جنگ کے درپے، پزشکیان امن کے خواہاں
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ یہ درخواستیں، منفرد طبی ضرورت (مثلاً نایاب بلڈ گروپ) پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ویکسین کی حفاظت کے متعلق خدشات کی وجہ سے ہیں۔ تاہم، اس بات کا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے کہ کووڈ-۱۹ ویکسین خون کی ساخت، ڈی این اے کو تبدیل کرتی ہے یا انتقالِ خون کے ذریعے خطرات کا باعث بنتی ہے۔
اس رجحان کے پیش نظر، طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ڈائریکٹڈ ڈونیشن درحقیقت صحت کے خطرات کو بڑھا سکتا ہے۔ پہلی بار خون دینے والے یا خاندان کے عطیہ دہندگان کے خون میں باقاعدہ اسکریننگ شدہ گمنام عطیہ دہندگان کے مقابلے متعدی امراض لے جانے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ مزید برآں، رشتہ داروں سے جمع کئے گئے خون کو مدافعتی پیچیدگیوں سے بچنے کیلئے اکثر اضافی عمل، جیسے شعاع ریزی کی ضرورت ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، اس طرح کی درخواستوں کی وجہ سے کئی مریضوں کو علاج میں پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کم از کم ۴ معاملات میں علاج متاثر ہوا، جن میں سے ۲ معاملات میں مخصوص عطیہ دہندگان کے انتظار میں سرجریوں کو ملتوی یا دوبارہ شیڈول کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی مشیر نے صدر کا موازنہ مسیحا سے کیا، بیان پر شدید تنقید اور ردعمل
طبی ماہرین نے اس رجحان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس طرح کے مطالبات میں اضافہ جاری رہا، تو خون کے عطیہ کے قائم کردہ نظام میں خلل پڑ سکتا ہے اور اہم نگہداشت تاخیر کا شکار ہوسکتی ہے۔ محققین نے یہ انتباہ بھی دیا کہ ”غیر ویکسین شدہ“ خون کی درخواستوں کو قانونی منظوری ملنے سے طبی طریقہ کار مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ ڈاکٹر اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ عطیہ شدہ خون سخت اسکریننگ سے گزارا جاتا ہے اور ویکسینیشن کی حیثیت سے قطع نظر، انتقالِ خون کیلئے محفوظ ہے۔