فنانشیل ٹائمز کے مطابق امریکہ میں ہند مخالف نفرت میں ۶۹؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایچ ون بی ویزا کے خلاف امریکی اقدام کے نتیجے میں امریکی کمپنیاں متاثر ہورہی ہیں
EPAPER
Updated: January 14, 2026, 8:03 PM IST | Washington
فنانشیل ٹائمز کے مطابق امریکہ میں ہند مخالف نفرت میں ۶۹؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں ایچ ون بی ویزا کے خلاف امریکی اقدام کے نتیجے میں امریکی کمپنیاں متاثر ہورہی ہیں
امریکی کمپنیوں میں ایچ ون بی ویزا کے تنازع اور آن لائن مہم کے درمیان ہندوستانی مخالف جذبات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ فنانشیل ٹائمز کی تازہ رپورٹ کے مطابق، کئی امریکی کمپنیوں نے حال ہی میں ہندوستانی مخالف رویوں میں بتدریج اضافہ کا سامنا کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق، صدر ٹرمپ کے ستمبر میں ایچ ون بی ویزا پروگرام میں ترامیم کا اعلان کرنے کے بعد یہ حملے بڑھ گئے ہیں۔کرسمس سے کچھ دیر پہلے فیڈایکس ٹرک کے حادثے نے آن لائن ہندوستانی مخالف پوسٹس کی ایک لہرپیدا کر دی۔ تباہ ہوئے ٹرک کی ویڈیو ایکس پر وائرل ہوئی، جس پر درجنوں افراد نے اس حادثے کا الزام فیڈایکس کے سی ای او راج سبرامنینم پر عائد کیا۔
ایف ٹی نے سنٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ کی ایک رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ ان آن لائن حملوں پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایگزیکٹو ڈائریکٹر رقیب نائک نے انہیں مربوط مہم قرار دیا ہے جو ہندوستانی نژاد امریکی کاروباری افراد کو نشانہ بناتی ہیں جنہوں نے چھوٹے کاروباری انتظامی قرضے حاصل کیے تھے۔ نائک کا کہنا تھا کہ یہ دشمنی ایک بڑے رجحان کا حصہ ہے، امریکہ میں نسلی امتیاز اور ہراسانی میں اچانک اضافہ ہوا ہے جس میں ہندوستانیوں کو نوکری چور اور ویزابدعنوان کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔فنانیشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، اسٹاپ اے اے پی آئی ہیٹ اور کاؤنٹر ٹیررازم کمپنی مون شاٹ کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نومبر تک جنوبی ایشیائی افراد، خاص طور پر ہندوستانیوں کے خلاف تشدد کی دھمکیوں میں۱۲؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اسی عرصے کے دوران آن لائن توہین آمیز الفاظ کے استعمال میں۶۹؍ فیصد اضافہ درج کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: اگر سپریم کورٹ نے ٹیرف کے خلاف فیصلہ دیا تو امریکہ کی حالت ’غیر‘ ہوجائے گی: ٹرمپ
گزشتہ سال، درجنوں کمپنیوں نے تنوع، مساوات اور شمولیت کے پروگراموں کو معطل کر دیا تھا بعد ازاں قدامت پسندوں نے استدلال کیا تھا کہ ان کوششوں سے سفید فام امریکیوں کو ناانصافی کا سامنا ہوتا ہے۔بعد ازاں ستمبر میں، حکومت نے ایچ ون بی ویزا فراڈ کی مبینہ تحقیقات کے لیے پروجیکٹ فائر وال لانچ کیا تو کئی گمنام اکاؤنٹس نے والمارٹ، ویریزون، ڈش نیٹ ورک اور دیگر کمپنیوں کے ملازمین کے نام اور رابطے کی معلومات شیئر کیں، یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ وہ ہندوستانی شہریوں کو نوکریاں بیچ رہے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر کمپنیوں نے ایسے طریقوں سے فوری انکار کیا۔جب فیڈایکس واقعہ پیش آیا، تو کئی آن لائن صارفین نے سی ای او کی ہندوستانی نسل کے سی ای او کو نشانہ بنایا۔ ایک پوسٹ میں لکھا تھا، ’’ہماری عظیم امریکی کمپنیوں پر ہندوستانیوں کے قبضے کو روکو۔‘‘ اسی طرح کا ایک نمونہ اس وقت دیکھا گیا جب ڈیلاس ایکسپریس کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ کمپنی امریکیوں کو نکال رہی ہے جبکہ ایچ ون بی کارکنوں کو بھرتی کر رہی ہے۔کمپنی نے اس وقت ان الزامات کی سختی سے تردید کی۔
ہندوستانیوں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟
کمپنیاں ہندوستانی سافٹ ویئر ڈویلپرز، انجینئرز، ڈاکٹرز اور محققین کو گھریلو صلاحیتوں کے فرق کو پورا کرنے کے لیے بھرتی کر رہی ہیں۔جبکہ وائٹ ہاؤس نے درخواست دہندگان کو محدود کرنے کے لیے ایک لاکھ ڈالر کی فیس تجویز کی ہے۔ فروری سے، محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی اعلیٰ تنخواہ والے کارکنوں سے ایچون بی ویزادرخواستوں کو ترجیح دے گا، تاکہ امریکی کارکنوں کو بہتر تحفظ دیا جا سکے۔یہاں تک کہ امریکہ کے کچھ اعلیٰ ایگزیکٹوز، جیسے گوگل کے سندر پیچائی اور مائیکروسافٹ کے ستیہ نڈیلا، نے بھی ایچ ون بی پروگرام کے ذریعے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ لیکن اس سے ہندوستانی مخالف بیانیہ پھیلنے کی رفتار کم نہیں ہوئی ہے۔