Updated: June 01, 2026, 10:08 PM IST
| Georgia
امریکی ریاست جارجیا میں ایک افسوسناک فضائی حادثے میں ہندوستانی نژاد ۲۶؍ سالہ پائلٹ دیو پاجی اپنی شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی جان کی بازی ہار گئے، جبکہ ان کی نئی نویلی دلہن جیسنی شدید زخمی ہونے کے باوجود زندہ بچ گئیں۔ ڈیلٹا ایئر لائنز سے وابستہ دیو پاجی اپنی شادی کے بعد دلہن کے ساتھ خصوصی فضائی سفر پر روانہ ہوئے تھے جب ان کا رابنسن آر ۶۶؍ ہیلی کاپٹر جارجیا کے جنگلاتی علاقے میں گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں ہیلی کاپٹر پائلٹ بھی ہلاک ہوگیا، جبکہ دلہن تقریباً چھ گھنٹے تک ملبے میں پھنسی رہی۔
امریکی ریاست جارجیا میں پیش آنے والے ایک المناک ہیلی کاپٹر حادثے نے خوشیوں بھرے ایک دن کو غم میں بدل دیا، جب ہندوستانی نژاد نوجوان پائلٹ دیو پاجی اپنی شادی کے چند گھنٹوں بعد ہی حادثے میں ہلاک ہوگئے، جبکہ ان کی دلہن معجزانہ طور پر زندہ بچ گئیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ۲۶؍ سالہ دیو پاجی، جو امریکی فضائی کمپنی Delta Air Lines میں پائلٹ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، ہندوستانی ریاست کیرالا سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے جمعہ کو اپنی دیرینہ دوست جیسنی سے شادی کی تھی، جن سے ان کی ملاقات تقریباً ایک دہائی قبل ایک چرچ میں ہوئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق شادی کی تقریب جارجیا کے شہر ڈاسن ولے میں منعقد ہوئی، جس میں تقریباً ۴۰۰؍ مہمانوں نے شرکت کی۔ شادی اور استقبالیہ تقریب کے بعد نوبیاہتا جوڑا ایک خصوصی فضائی سفر کے لیے روانہ ہوا، جو ان کی نئی زندگی کے آغاز کا یادگار حصہ بننے والا تھا۔ جوڑا ایک رابنسن آر ۶۶؍ ہیلی کاپٹر میں سوار ہوا جس کا رخ DeKalb-Peachtree Airport کی جانب تھا۔ منصوبے کے مطابق وہاں سے وہ اٹلانٹا کے ایک ہوٹل میں رات گزارنے والے تھے، تاہم یہ سفر کبھی مکمل نہ ہو سکا۔ ہیلی کاپٹر پرواز کے کچھ ہی دیر بعد ڈاسن کاؤنٹی کے ایک دور افتادہ جنگلاتی علاقے میں، ماؤنٹ ورنن ڈرائیو کے قریب گر کر تباہ ہوگیا۔ حادثے میں دیو پاجی اور ہیلی کاپٹر کے پائلٹ دونوں موقع پر ہی ہلاک ہوگئے، جبکہ دلہن شدید زخمی حالت میں ملبے کے اندر پھنس گئی۔
یہ بھی پڑھئے: شہری شعور کو سنجیدگی سے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے:ہرش گوئنکا
متاثرہ نوجوان کے والد جارج پاجی نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ ریسکیو ٹیموں کو ہیلی کاپٹر کا ملبہ تلاش کرنے میں کافی وقت لگا۔ ان کے مطابق جیسنی تقریباً چھ گھنٹے تک زخمی حالت میں تباہ شدہ ہیلی کاپٹر کے اندر موجود رہی، اس دوران اسے مدد کے لیے انتظار کرنا پڑا۔ جارج پاجی نے اپنی بہو کے حوالے سے بتایا کہ ’’جب وہ ہوش میں آئی تو اس نے دیکھا کہ دیو اس کے سینے پر جھکا ہوا ہے۔ اس کے جسم پر خون تھا اور جسم بالکل ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ چونکہ وہ پیشے کے اعتبار سے نرس ہے، اس لیے اسے فوراً اندازہ ہو گیا کہ دیو دنیا سے جا چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ جیسنی شدید ذہنی صدمے سے دوچار ہے، تاہم ان کی طبی حالت اب بہتر ہو رہی ہے اور وہ اسپتال میں زیر علاج ہے۔
حادثے کے حوالے سے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے دیو کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا خود ایک تربیت یافتہ پائلٹ تھا اور روانگی سے قبل موسم کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہا تھا۔ ان کے مطابق دیو نے مبینہ طور پر ہیلی کاپٹر کے پائلٹ کو خبردار کیا تھا کہ علاقے میں حدِ نگاہ تقریباً صفر ہے اور ایسے حالات میں پرواز محفوظ نہیں سمجھی جاتی۔ جارج کے مطابق، ’’میرے بیٹے نے پائلٹ سے کہا تھا کہ ویزیبلٹی صفر ہے اور ہم ایسے حالات میں کبھی پرواز نہیں کرتے، لیکن پائلٹ نے یقین دلایا کہ وہ زیادہ بلندی پر پرواز کریں گے اور مسئلہ نہیں ہوگا۔‘‘ ادھر امریکی ادارے National Transportation Safety Board نے حادثے کی باضابطہ تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ حادثے کی اصل وجہ جاننے کے لیے ملبے، موسم کے ریکارڈ، پرواز کے راستے اور دیگر تکنیکی شواہد کا تفصیلی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’من کی بات‘ میں مودی نے طلبہ سے ایسٹرونومی کلبوں سے وابستہ ہونے کی اپیل کی
ابھی تک تحقیقاتی اداروں نے کسی حتمی نتیجے یا وجہ کا اعلان نہیں کیا ہے، تاہم فضائی ماہرین کا کہنا ہے کہ کم حدِ نگاہ اور خراب موسمی حالات ہیلی کاپٹر حادثات میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، خاص طور پر جب پرواز رات کے وقت یا دشوار گزار علاقوں میں کی جا رہی ہو۔ اس المناک واقعے نے امریکی ہندوستانی برادری، خاص طور پر کیرالا سے تعلق رکھنے والے افراد میں گہرے دکھ کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا پر ہزاروں افراد نے دیو کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے جیسنی کی جلد صحت یابی کے لیے دعائیں کی ہیں۔