Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ-ایران مذاکرات جاری، ٹرمپ نے اسے ایران کیلئے”آخری موقع“ قرار دیا، بدھ تک ہرمز کے کھلنےکا امکان

Updated: August 04, 2026, 9:06 PM IST | Washington/Tehran

ایرانی حکام نے خطے میں جاری امریکی بحری ناکہ بندی پر نئی تنبیہات جاری کی ہیں۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران اس ناکہ بندی کو برداشت نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی دوسرے راہداری کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

Photo: X
ڈونالڈ ٹرمپ اور پیٹ ہیگسیتھ۔ تصویر: ایکس

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے دن بتایا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات ”اس وقت“ جاری ہیں۔ انہوں نے اسے تہران کیلئے معاہدے تک پہنچنے کا آخری موقع قرار دیا۔ وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”ایک اچھے دستاویز پر دستخط کرنے کا ان کے پاس یہ آخری موقع ہے۔“ تاہم ایران نے واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی براہِ راست مذاکرات کی تردید کی اور کہا کہ وہ اس کے بجائے عمان کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے تاکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے فی الوقت استعمال ہونے والی الگ الگ شپنگ لینز کی جگہ ”واحد دو طرفہ راستہ“ قائم کیا جا سکے۔

امریکہ کے خزانہ سیکریٹری اسکاٹ بیسنٹ نے منگل کے روز کہا کہ بدھ تک آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کیلئے کسی معاہدے تک پہنچنے کا امکان موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاہدے سے توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔ ایک علیحدہ بیان میں ٹرمپ نے عزم ظاہر کیا کہ امریکہ ایران کو اس آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے والے جہازوں پر ٹرانزٹ فیس عائد کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے زور دیا کہ اس معاملے پر واشنگٹن کو ”مکمل کنٹرول“ حاصل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کا ایران کے ساتھ گفتگو شروع ہونے کادعویٰ ، تہران کی تردید

ایرانی حکام نے خطے میں جاری امریکی بحری ناکہ بندی پر نئی تنبیہات جاری کی ہیں جو پہلی بار جولائی میں واشنگٹن اور تہران کے درمیان جون میں طے پانے والے معاہدے کی ناکامی کے بعد عائد کی گئی تھی۔ سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے فوجی مشیر محسن رضائی نے کہا کہ ایران اس ناکہ بندی کو برداشت نہیں کرے گا اور آبنائے ہرمز کے ذریعے کسی دوسرے راہداری کی ہرگز اجازت نہیں دے گا۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بیان دیا ہے کہ تہران کسی وسیع جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن خطرہ محسوس ہونے پر اپنی سرحدوں کا دفاع کرے گا۔ دریں اثناء، ’انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار‘ نے رپورٹ کیا کہ خامنہ ای کے بیٹے، مجتبیٰ، امریکہ کے بارے میں حکومت کے نقطۂ نظر کی وجہ سے پزشکیان کے بڑھتے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کیلئے اقدامات کرسکتے ہیں، کیونکہ اس بات پر اندرونی بحث جاری ہے کہ ایران کو آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کیلئے کتنی کوششیں کرنی چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج کی غزہ پر تازہ جارحیت، گولہ باری اور فائرنگ،۱۹؍ فلسطینی شہید

قطر نے بتایا کہ سفارتی حل کیلئے ثالثی کی کوششیں جاری ہیں، اگرچہ فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان کسی براہِ راست گفتگو کا منصوبہ زیر غور نہیں ہے۔ حزب اللہ کے قائد نعیم قاسم نے کہا کہ انہیں ملک شام کی نئی قیادت سے ملنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے، جو ان کے موقف میں تبدیلی کی نشان دہی کرتا ہے۔ ’ارامکو‘ کے سی ای او نے کہا کہ سعودی تنصیبات پر حوثی حملوں سے پیداوار پر کوئی مادی اثر نہیں پڑا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK