• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کا چاند پر مستقل قیام کا منصوبہ: جیف بیزوس

Updated: October 10, 2026, 10:13 AM IST | New York

ایمیزون کے بانی جیف بیزوس نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ کا چاند پر مستقل قیام کا منصوبہ ہے، ساتھ ہی انہوں نے ۲۰۲۸ء میں انسانوں کی چاند پر اترنے کی پیش گوئی کی، جبکہ قمری اڈہ مستقبل میں مریخ کی تلاش کی تیاری کر رہا ہے۔

Amazon CEO Jeff Bezos. Photo: INN
ایمیزون کے سی ای او جیف بیزوس۔ تصویر: آئی این این

امریکی خلائی کمپنی بلیو اوریجن کے بانی اور ایمیزون کے سی ای او جیفری بیزوس نے کہا کہ امریکہ اپولو دور کی مختصر مہم کو دہرانے کے بجائے چاند پر مستقل اور معاشی طور پر قابل عمل موجودگی قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔بیزوس نے بدھ کو فاکس نیوز کو بتایا، ’’آج ہم اسے کم لاگت پر کرنے جا رہے ہیں اور چاند پر رہنے کے لیے جا رہے ہیں۔یہ صرف ایک مشن نہیں ہوگا اور چھوڑ دیا جائے گا۔ یہ ایک حقیقی پائیدار قمری اڈہ ہوگا۔ اس طرح ہم چاند کی تلاش کریں گے اور دلچسپ چیزیں تلاش کریں گے۔‘‘بیزوس نے جدید کمرشل خلائی پرواز کا موازنہ۱۹۶۹ء کے قمری پروگرام سے کرتے ہوئے وضاحت کی کہ ابتدائی کوشش کے لیے جی ڈی پی کا تقریباً ۳؍ فیصددرکار تھا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ معمول کے کارگو ڈیلیوری سسٹم کا قیام عملے کی لینڈنگ سے پہلے ایک اہم پیش خیمہ ہے اور کہا،یہ یقین کرنے کی ہر وجہ ہے کہ ہم۲۰۲۸ء میں انسانوں کو چاند پر اتار سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مجھےامن کا نوبیل انعام ملنا چاہئے: ٹرمپ نے اپنا دعویٰ دہرایا

علاوہ ازیں اسٹریٹجک مسابقت کو اجاگر کرتے ہوئے، بیزوس نے زور دیا کہ واشنگٹن کو بیجنگ سے آگے نکلنا چاہیے اور کہا،’’ہمیں چاند تک پہنچنے میں چین کو ہرانا ہوگا۔ مجھے یقین ہے کہ ہم چاند تک پہنچنے میں چین کو ہرا دیں گے۔‘‘انہوں نے یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ عملہ پیچیدہ لانچ ونڈوز کا انتظار کیے بغیر تین دن میں منزل تک پہنچ سکتا ہے، چاند کو مریخ پر عملے کے مشن کی کوشش سے پہلے ایک ناگزیر لاجسٹک قدم قرار دیا ۔ انہوں نے کہا کہ’’ قمری سطح سے آپریٹ کرنے میں کم کشش ثقل کی وجہ سے کسی چیز کو اٹھانے کے لیے۲۸؍ گنا کم توانائی درکار ہوتی ہے جبکہ مقامی وسائل وافر مقدار میں موجود ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ایچ ایس بی سی کے برطانیہ کے ویلتھ مینجمنٹ کاروبار میں بڑی چھٹنی کا امکان

واضح رہے کہ بلیو اوریجن ناسا کی آرٹیمس مہم میں ایک مرکزی کمرشل پارٹنر کے طور پر کام کرتی ہے، جو آرٹیمس وی مشن کے لیے خلابازوں کو چاند کی سطح پر لے جانے کے لیے ڈیزائن کردہ ہیومن لینڈنگ سسٹم تیار کر رہی ہے۔بعد ازاں مصنوعی ذہانت کی نگرانی کے حوالے سے، بیزوس نے بنیادی فاؤنڈیشن ماڈلز پر بھاری ضوابط کے بجائے ہدفی پابندیوں کی وکالت کی۔ انہوں نے،یہ دلیل دیتے ہوئے کہ حکومتوں کو ٹول کے بجائے نقصان دہ ایپلی کیشنز اور بدنیتی پر مبنی عناصر پر توجہ دینی چاہیے کہا’’آپ قتل کو ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں، آپ چاقو کو ریگولیٹ نہیں کرنا چاہتے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK