• Wed, 02 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ کے ایران پر نئے حملے، ٹرمپ کا ایران کو ”شدید نقصان پہنچانے“ کا عزم، ایران امن کیلئے کوشاں

Updated: September 01, 2026, 10:03 PM IST | Washington/Tehran

اتوار کے روز، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی حملوں میں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ تہران نے پیر کے ابتدائی گھنٹوں میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

گزشتہ چند ہفتوں کے وقفے کے بعد امریکہ نے ایران پر نئے حملے کئے، جن کے جواب میں ایران نے بھی مشرق وسطیٰ میں واقع امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر کے روز ایران کو ”شدید نقصان پہنچانے“ کی دھمکی دی۔ اتوار کے روز، امریکی افواج نے آبنائے ہرمز میں واقع جزیرہ لارک پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکہ کے مطابق، ان حملوں کا مقصد تہران کو جہاز رانی کے راستے میں بارودی سرنگیں بچھانے سے روکنا تھا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے امریکی حملوں میں تین افراد کی ہلاکت اور متعدد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی۔ 

تہران نے پیر کے ابتدائی گھنٹوں میں اردن اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اہداف پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔ سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) نے ان حملوں کے ذریعے اردن میں دو امریکی ایئر بیسز کو ”شدید نقصان“ پہنچانے کا دعویٰ کیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ’وائٹ ہاؤس بال روم‘ کی تعمیر جاری رکھنے دی

ٹرمپ نے بتایا کہ غیر خطرناک سمجھے جانے والے ایک میزائل کے علاوہ امریکی افواج کو نشانہ بنانے والے تمام میزائلوں کو روک دیا گیا۔ اردن کی فوج نے بتایا کہ اس نے ۸ میزائلوں کو فضا میں ہی تباہ کیا۔ ایران نے متحدہ عرب امارات کے المنہاد ایئر بیس پر امریکی اہلکاروں کو نشانہ بنانے اور ہرمز کے اوپر ایک امریکی ڈرون مار گرانے کا بھی دعویٰ کیا جسے ابوظہبی نے ”بے بنیاد“ قرار دے کر مسترد کر دیا۔ عمان کے قریب ایک آئل ٹینکر پر بھی گولہ باری کی اطلاع ملی۔

دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے باوجود، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کرغیزستان میں ایک سربراہی اجلاس کے دوران مذاکرات کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جنگ جاری رکھنا کسی کے مفاد میں نہیں ہے۔ وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ”امریکہ کو جون میں دستخط کردہ یادداشت مفاہمت (ایم او یو) کے تحت کئے گئے اپنے وعدوں کی طرف واپس آنا چاہئے۔“

یہ بھی پڑھئے: کینیڈا: ایم پی سلمیٰ زاہد کی رہائش گاہ کے باہر لوٹ مار کی کوشش، گاڑی نذرآتش

یورپی یونین پر امریکہ کے سامنے ”خود مختاری کا سودا کرلیا“: ایران 

یورپی یونین (ای یو) نے ایران پر عائد کردہ امریکی معاشی پابندیوں کی حمایت کی ہے۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے ایران نے ای یو پر اپنی خودمختاری ترک کر دینے کا الزام لگایا۔ ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یورپی یونین ”اپنی خود مختاری... امریکی جبر کے آگے سرینڈر کر رہی ہے۔“ انہوں نے اس کا موازنہ اس کے ۱۹۹۶ء کے ’بلاکنگ اسٹیچیوٹ‘ (Blocking Statute) سے کیا جس کا مقصد یورپی کاروباری اداروں کو سرحد پار پابندیوں سے بچانا تھا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ واشنگٹن کی دباؤ کی مہم کی حمایت کے نتائج کی ذمہ داری ای یو ممالک پر عائد ہو سکتی ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی پر بین الاقوامی ردِعمل

بشکیک میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہی اجلاس میں روسی صدر ولادیمیر پوتن نے پزشکیان سے ملاقات کے دوران ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کہا کہ روس کشیدگی کے باوجود ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے گا۔ ایس سی او کے سربراہی اعلامیے میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر ”گہری تشویش“ کا اظہار کیا گیا اور ایرانی سرزمین پر حملوں کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی مذمت کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مکہ معاہدہ: سعودی وزیر دفاع، پاکستانی آرمی چیف کا دفاعی تعاون پر تبادلۂ خیال

قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری نے اسرائیل پر خطے بھر میں مہلک حملے کرنے کیلئے امریکہ-ایران تنازع کا فائدہ اٹھانے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کے بحران کو حل کئے بغیر چھوڑنا مزید کشیدگی کا سبب بنے گا۔ انہوں نے اسرائیل کی جانب سے فلسطینی، لبنانی اور شامی علاقوں میں ”نئی حقیقت“ مسلط کرنے کیلئے اس افراتفری کو استعمال کرنے کے خلاف متنبہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے عمان اور پاکستان کے ساتھ جاری کشیدگی کم کرنے کیلئے جاری گفتگو کی توثیق کی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK