وجے وڈیٹیوار نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ اب لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے، وہ عوام دشمن حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں‘‘۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 10:09 AM IST | Ali Imran | Chandrapur
وجے وڈیٹیوار نے جم غفیر سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’ اب لوگ خاموش نہیں بیٹھیں گے، وہ عوام دشمن حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں‘‘۔
بی جے پی حکومت کی عوام دشمن، کسان مخالف اور نوجوان مخالف پالیسیوں کے خلاف جمعرات کو چندر پور کے برہما پوری علاقے میں کانگریس لیڈر وجے ودیٹیوار کی قیادت میں ایک بڑا جن آکروش مہا مورچہ نکالا گیا۔ راشٹریہ سنت توکڑوجی مہاراج میدان سے شروع ہونے والے اس مارچ میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر حکومت مخالف نعروں سے پورا شہر لرز اٹھا۔
ریلی سے خطاب کرتے ہوئے وجے وڈیٹیوار نے کہا کہ بی جے پی نے اپنی طاقت کا استعمال عوام کے فائدے کیلئے نہیں بلکہ چند صنعت کاروں کے فائدے کیلئے کیا ہے۔ اس حکومت نے ملک کے اثاثے بیچ دیئے، سرکاری اداروں کو کمزور کیا اور عام لوگوں کو مہنگائی کی گہری کھائی میں دھکیل دیا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے پورے ملک کو لوٹنے اور ملک کو گروی رکھنے کا بڑا گناہ کیا ہے۔ مہنگائی نے عام شہریوں کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نے نوجوانوں کا مستقبل تاریک کر دیا ہے، جبکہ کسان قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور خواتین کے تحفظ کے مسائل مزید سنگین ہوتے جارہے ہیں اور حکومت کی غلط پالیسیوں سے معاشرے کا ہر طبقہ متاثر ہوا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نابالغ ملزمین کو گاڑی کے بونٹ پر باندھ کر گھمانے والے افسر کا تبادلہ
وجے وڈیٹیوار نے الزام لگایا کہ الیکشن سے پہلے لاڈلی بہن اسکیم کے ذریعے بڑے بڑے وعدے کئےگئے، لیکن اقتدار میں آنے کے بعد تقریباً ایک کروڑ خواتین کو اسکیم سے باہر کردیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دھان کے کاشتکاروں کو بونس نہیں ملا، قرض معافی کا اعلان فراڈ نکلا ہے اور اس سے کسانوں کو کسی طرح کا فائدہ نہیں پہنچا ہے۔ انہوں الزام لگا یا کہ ہر کام میں بدعنوانی بڑھ گئی ہے اور ۴۰؍فیصد کمیشن کے بغیر کوئی کام نہیں ہوتا، انہوں نے گوسی خورد پراجیکٹ کا بھی ذکر کیا۔ جب وہ کانگریس حکومت کے دوران وزیر تھے تو گوسی خورد پروجیکٹ کیلئے ۵؍ہزار کروڑ روپے کا فنڈ منظور کیا گیا تھا۔ اس سے اس علاقے میں آبپاشی کو فروغ ملا۔ تاہم، آج پروجیکٹوں کا کام آہستہ آہستہ چل رہا ہے اور اس کی وجہ سے کسانوں کو نقصان ہو رہا ہے۔ سمردھی ہائی وے کی توسیع کے لیے زرخیز زمین کو کم قیمت پر حاصل کرنے کی کوششیں جاری ہیں اور حکومت کسانوں کو تباہ کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ لیکن ہم کسانوں کیلئے لڑیں گے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’ایکناتھ شندے نے ہم سے ڈبل گیم کھیلا ہے‘‘
ریاست میں تعلیمی نظام پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہزاروں اسکولوں کو بند کرنے کے فیصلے سے طلبہ کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ جہاں حکومت ایک طرف وہ خواتین کو مالی امداد دینے کا وعدہ کر رہی ہے ہیں وہیں دوسری طرف اسمارٹ میٹرز کے ذریعے عوام کو مالی طور پر لوٹا جا رہا ہے۔ جنتر منتر پر ملک بھر کے نوجوانوں نے حکومت کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کیا لیکن ان پر لاٹھی چارج کیا گیا، ہم طلبہ پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہیں، لوگ اب اس عوام دشمن حکومت کو سبق سکھانے کیلئے تیار ہیں۔ اب وہ خاموش نہیں بیٹھیں گے۔