ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اور کیوبا کے مابین۱۰۰؍ ملین ڈالر کی امداد پر مذاکرات ہوئے، اگر یہ امداد قبول کی جاتی ہے تو یہ کیتھولک ریلیف سروسز اور سامریٹنز پرس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، نہ کہ براہِ راست کیوبا کی حکومت کو دی جائے گی۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 8:58 PM IST | Washington
ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ امریکہ اور کیوبا کے مابین۱۰۰؍ ملین ڈالر کی امداد پر مذاکرات ہوئے، اگر یہ امداد قبول کی جاتی ہے تو یہ کیتھولک ریلیف سروسز اور سامریٹنز پرس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، نہ کہ براہِ راست کیوبا کی حکومت کو دی جائے گی۔
امریکی محکمہ خارجہ کے ایک افسر نے بتایا کہ امریکہ اور کیوبا کے مابین۱۰۰؍ ملین ڈالر کی امداد پر مذاکرات ہوئے اگر یہ امداد قبول کی جاتی ہے تو یہ کیتھولک ریلیف سروسز اور سامریٹنز پرس کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، نہ کہ براہِ راست کیوبا کی حکومت کو دی جائے گی۔ امریکی افسر کے مطابق، واشنگٹن نے یہ رقم اصلاحات کی ترغیب کے طور پر پیش کی ہے۔محکمہ خارجہ کے افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہوانا میں امریکی قائم مقام سفیر مائیک ہیمر نے پیر کو وزارت خارجہ کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔افسر نے کہا،’’ہم کیوبا کے ساتھ قریبی ہم آہنگی برقرار رکھی ہے۔ ہماری کل ملاقات ہوئی اور کیوبا کی وزارت خارجہ کے بعض جھوٹوں کے برخلاف ہم اس تجویز کو سختی سے آگے بڑھا رہے ہیں۔
تاہم انہوں نے مزید کہا،’’ہم حکومت پر زور دیتے رہیں گے کہ وہ یہ تجویز قبول کرے اور امداد کی ترسیل میں رخنہ اندازی روکنے کی کوشش کرے۔یہ امداد کیتھولک ریلیف سروسز اور سامریٹنز پرس (ایک انجیلی پروٹسٹنٹ خیراتی ادارہ) کے ذریعے تقسیم کی جائے گی، نہ کہ براہِ راست کیوبا کی حکومت کو دی جائے گی۔ ‘‘بعد ازاں انہوں نے کہا،’’کیوبا کی حکومت کئی ارب ڈالر پر بیٹھی ہے۔ ہم ان پر زور دیں گے کہ وہ یہ رقم عوام کی مدد کے لیے انفراسٹرکچر میں لگائیں، نہ کہ جمع کر کے رکھیں۔‘‘دریں اثناءامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے عوامی طور پر یہ۱۰۰؍ ملین ڈالر پیش کیے ہیں لیکن مطالبہ کیا ہے کہ کیوبا کھلے پن کا مظاہرہ کرے۔
یہ بھی پڑھئے: تائیوان: مقامی الیکشن کے امیدوار کے بل بورڈ پر ہند مخالف پیغام کے بعد تنازع
جبکہ کیوبا کے وزیر خارجہ برونو روڈریگیز نے پچھلے ہفتے کہا کہ کیوباامدادی تجویز کا جائزہ لینے کے لیے تیار ہے، اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ روبیو اس پیشکش کے بارے میں جھوٹ بول رہے ہیں۔ واضح رہے کہ کیوبا شدید معاشی بحران کا شکار ہے، جہاں بجلی کی مسلسل بندش ہے، جبکہ امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کر لیا اور کیوبا کی طبی مہارت اور دیگر خدمات کے بدلے وہاں سے مفت تیل آنے کا سلسلہ ختم کر دیا۔صورتحال انتہائی سنگین ہونے پر کیوبا نے مجبوراًگزشتہ ہفتے غیرمعمولی قدم اٹھاتے ہوئے سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف کو مذاکرات کے لیے خوش آمدید کہا۔