امریکی صدر نے اوہائیو ریلی میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ان منصوبوں کو روکنے سے سرمایہ کاری چین منتقل ہوسکتی ہے، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات پر امریکی عوام کی تشویش برقرار ہے۔
EPAPER
Updated: October 05, 2026, 6:05 PM IST | Ohio
امریکی صدر نے اوہائیو ریلی میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کرنے والوں کو خبردار کیا کہ ان منصوبوں کو روکنے سے سرمایہ کاری چین منتقل ہوسکتی ہے، جبکہ بجلی کے بڑھتے اخراجات پر امریکی عوام کی تشویش برقرار ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت کے لیے بنائے جانے والے بڑے ڈیٹا سینٹرز کی مخالفت کے خلاف اپنی مہم تیز کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو مصنوعی ذہانت کی عالمی دوڑ میں چین سے پیچھے نہیں رہنا چاہیے۔ اوہائیو کے وینڈالیا میں ۳؍ اکتوبر کو انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا، ’’اوہائیو کے لیے بہت زیادہ پیسہ کمایا جاسکتا ہے۔ آپ انہیں صرف بند نہیں کرسکتے، وہ چین چلے جائیں گے۔‘‘ ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی تیزی سے تعمیر کے خلاف مقامی سطح پر مخالفت بڑھ رہی ہے۔ ان مراکز کو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز کی تربیت اور انہیں چلانے کے لیے وسیع کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ہورہا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس اضافی طلب سے بجلی کے نظام، پانی کے وسائل، مقامی ماحول اور بعض علاقوں میں گھریلو صارفین کے اخراجات پر دباؤ پڑسکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:دنیا بھر میں فعال صنعتی روبوٹس کی تعداد ۵۰ لاکھ سے تجاوز کر گئی
ٹرمپ نے اوہائیو میں ڈیٹا سینٹرز کو مقامی معیشت کے لیے آمدنی اور سرمایہ کاری کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان منصوبوں سے ریاست کو مالی فائدہ ہوسکتا ہے۔ تاہم ریلی کے دوران جب انہوں نے ڈیٹا سینٹرز کا دفاع کیا تو حاضرین کا ردعمل ان کی تقریر کے بعض دوسرے حصوں کے مقابلے میں نسبتاً مدھم رہا۔ ڈیٹا سینٹرز کا معاملہ اوہائیو کی موجودہ انتخابی سیاست میں بھی اہم بن چکا ہے۔ ریپبلکن سینیٹر جون ہسٹڈ نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹک امیدوار اور سابق سینیٹر شیروڈ براؤن کے مقابلے میں دوبارہ انتخاب لڑ رہے ہیں۔ ہسٹڈ پر ریاست میں ڈیٹا سینٹرز لانے میں اپنے سابق عہدے کے دوران کردار ادا کرنے پر تنقید ہوتی رہی ہے، جبکہ براؤن کی انتخابی مہم نے بھی اس معاملے کو ہسٹڈ کے خلاف استعمال کیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:صومالیہ کسی بھی صورت میں اسرائیلی موجودگی کو قبول نہیں کرے گا: صدر
ہسٹڈ نے خود ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والے بجلی کے اخراجات کے معاملے سے نمٹنے کے لیے ریٹ پیئر پروٹیکشن ایکٹ پیش کیا تھا۔ اس قانون کا مقصد ریاستی بجلی ریگولیٹرز کو یہ معیار اپنانے کی ترغیب دینا تھا کہ بڑے بجلی صارفین، جن میں ڈیٹا سینٹرز بھی شامل ہیں، ان کے لیے ضروری بجلی پیدا کرنے، ترسیلی لائنیں بچھانے اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے اضافی اخراجات برداشت کریں۔ امریکی ایوانِ نمائندگان نے یہ بل ۱۶؍ ستمبر کو ۴۱۷؍ کے مقابلے میں صرف ۳؍ ووٹوں سے منظور کیا تھا، لیکن سینیٹ میں ۳۰؍ ستمبر کو اسے آگے بڑھانے کے لیے درکار ۶۰؍ ووٹ نہیں مل سکے۔ ووٹنگ ۵۷۔۴۳؍ رہی۔ ریپبلکن ارکان نے اس قانون کو صارفین کو ڈیٹا سینٹرز سے پیدا ہونے والے اضافی اخراجات سے بچانے کی کوشش قرار دیا، جبکہ متعدد ڈیموکریٹ ارکان کا مؤقف تھا کہ مجوزہ قانون بڑے بجلی صارفین پر مطلوبہ ذمہ داری عائد کرنے کے لیے کافی مضبوط نہیں تھا۔
ڈیٹا سینٹرز کے بارے میں امریکی عوام کی رائے بھی ٹرمپ کے مؤقف سے مختلف تصویر پیش کرتی ہے۔ حالیہ اکانومسٹ/یوگوو سروے کے مطابق صرف ۲۴؍ فیصد امریکیوں نے ملک میں نئے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر کو بہت یا کسی حد تک اچھی چیز قرار دیا، جبکہ ۴۷؍ فیصد نے اسے بری چیز کہا۔ ۶۱؍ فیصد نے اپنی مقامی کمیونٹی میں نیا ڈیٹا سینٹر تعمیر کرنے کی مخالفت کی۔ سروے میں ۶۲؍ فیصد افراد نے کہا کہ مقامی ڈیٹا سینٹر ان کے بجلی کے اخراجات میں اضافہ کرسکتا ہے۔ پیو ریسرچ سینٹر کے اگست ۲۰۲۶ء کے سروے میں بھی بجلی کے اخراجات اور ماحول سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔ ۵۰؍ فیصد امریکیوں نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز گھریلو توانائی کے اخراجات کے لیے زیادہ تر نقصان دہ ہیں، جبکہ ۵۴؍ فیصد نے ماحول کے حوالے سے انہیں زیادہ تر نقصان دہ قرار دیا۔ اس کے مقابلے میں صرف ۴؍ فیصد نے ماحول اور گھریلو توانائی کے اخراجات، دونوں حوالوں سے انہیں زیادہ تر فائدہ مند قرار دیا۔
یہ بھی پڑھئے:۲۰۲۵ء کے دوران سمندروں نے ہر سیکنڈ ہیروشیما کے ۱۲ ایٹم بموں کے برابر حرارت جذب کی
امریکی ٹیکنالوجی صنعت کے لیے مسئلہ صرف مقامی مخالفت تک محدود نہیں۔ پانچ بڑی ہائپر اسکیل ٹیکنالوجی کمپنیوں، ایمیزون، مائیکروسافٹ، گوگل، میٹا اور اوریکل، کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ ۲۰۲۶ء میں اے آئی انفراسٹرکچر پر مجموعی طور پر ۵۶۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کریں گی۔ اسی دوران امریکی ڈیٹا سینٹرز کی بجلی کی طلب تیزی سے بڑھ رہی ہے، جس نے وفاقی حکومت اور ریاستی حکام کے سامنے نئے بجلی پیدا کرنے اور ترسیلی نظام کی تعمیر کا سوال بھی کھڑا کردیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ستمبر میں بجلی کے قومی گرڈ کو مضبوط بنانے کے لیے تقریباً ۲؍ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بھی پیش کیا تھا۔ ۲۶؍ ریاستوں میں ۳۱؍ منصوبوں کے ذریعے ۲۳؍ گیگاواٹ سے زیادہ اضافی گرڈ صلاحیت پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ حکومت نے اسے بڑھتی ہوئی بجلی کی طلب، بالخصوص مصنوعی ذہانت کے مراکز، کے تناظر میں پیش کیا۔ ٹرمپ اس سے پہلے بھی ڈیٹا سینٹرز کے مخالفین کو خبردار کرچکے ہیں کہ امریکہ اگر مصنوعی ذہانت کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر سست کرتا ہے تو چین کو فائدہ ہوسکتا ہے۔ دوسری جانب مقامی مخالفین کا بنیادی سوال یہ ہے کہ اے آئی صنعت سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد کے مقابلے میں بجلی، پانی، زمین اور بنیادی ڈھانچے کے اضافی اخراجات آخر کون برداشت کرے گا۔ اوہائیو میں اسی سوال نے ڈیٹا سینٹرز کو ۲۰۲۶ء کے وسط مدتی انتخابات کے اہم مقامی معاشی موضوعات میں شامل کردیا ہے۔