Updated: September 17, 2026, 7:03 PM IST
| Washington
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی عہدیداروں کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ امریکی فیصلے کے بعد محمود عباس کا جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب متوقع ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ دو ریاستی حل اور خطے میں امن و استحکام کی کوششوں کے منافی ہے۔
فلسطینی صدر محمود عباس۔ تصویر: آئی این این
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور دیگر اعلیٰ فلسطینی عہدیداروں کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد عباس کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاس سے براہِ راست خطاب کرنے کے بجائے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرنا پڑے گا۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب امریکی ویزا پابندیوں کے باعث فلسطینی صدر جنرل اسمبلی میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکیں گے۔ امریکی محکمۂ خارجہ نے بدھ کو کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کے بعض عہدیداروں پر ویزا پابندیاں جاری رکھی جائیں گی۔ واشنگٹن نے اس فیصلے کی وجہ فلسطینی قیادت کی جانب سے سابقہ معاہدوں کے تحت امن کے لیے کیے گئے وعدوں پر عمل نہ کرنا، اسرائیل کے خلاف بین الاقوامی عدالتوں میں قانونی کارروائیاں اور ایسے اقدامات قرار دیے ہیں جن کے بارے میں امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ امن کے امکانات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران نے جنگ بندی کیلئے براہ راست رابطہ کیا: ٹرمپ کا دعویٰ
محکمۂ خارجہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں اسرائیل کے خلاف قانونی کارروائیاں جاری رکھی ہیں۔ امریکی حکام نے فلسطینی اتھارٹی پر اسرائیلی حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں سزا پانے والے قیدیوں کے اہلِ خانہ کو مالی امداد دینے کا الزام بھی عائد کیا ہے۔ محکمۂ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا، ’’اصلاحات کرنے میں ناکامی، امریکہ سے کیے گئے وعدوں کے برخلاف اقدامات اور امن کے امکانات کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں کے نتیجے میں امریکہ پی ایل او کے ارکان اور فلسطینی اتھارٹی کے عہدیداروں کے ویزے روکنے والی پابندیاں جاری رکھے گا۔‘‘
فلسطینی قیادت کا ردِعمل
فلسطینی وزارتِ خارجہ نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام فلسطین اور امریکہ کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے اور دو ریاستی حل کے نفاذ اور خطے میں امن و استحکام کے لیے ضروری سیاسی ماحول پیدا کرنے کی کوششوں کے منافی ہے۔ فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی ثالثی میں کئی دہائیوں سے جاری مذاکرات اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں ناکام رہے ہیں۔ تاہم، محمود عباس کی جانب سے اس معاملے پر براہِ راست کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: وزیر خارجہ ایس جے شنکر کا بھوٹان دورہ، اہم لیڈروں سےملاقات
محمود عباس کا اقوامِ متحدہ میں خطاب
محمود عباس نے گزشتہ سال بھی امریکی ویزا نہ ملنے کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کیا تھا۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ۲۰۲۵ء میں ۱۴۵؍ ووٹوں سے عباس کو ویڈیو کے ذریعے خطاب کی اجازت دی تھی، جبکہ ۵؍ ممالک نے مخالفت کی تھی۔ عباس نے اپنے گزشتہ خطاب میں فلسطینی ریاست کے قیام، اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حمایت پر زور دیا تھا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور عالمی برادری سے فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے لیے کردار ادا کرنے کا مطالبہ بھی کیا تھا۔ عباس کے اقوامِ متحدہ میں ماضی کے بیانات میں یہ مؤقف نمایاں رہا ہے کہ فلسطینی عوام کو آزادی، خودمختاری اور ایک آزاد ریاست کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ۲۰۱۸ء میں بھی امریکی پالیسیوں کو بین الاقوامی قانون کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ اسرائیل کی جانب جھکاؤ رکھتا ہے اور امن مذاکرات میں دیگر فریقوں کو بھی کردار ادا کرنا چاہیے۔
اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی نمائندگی
امریکی ویزا پابندیوں کے باوجود فلسطین کی نمائندگی اقوامِ متحدہ میں جاری رہے گی۔ فلسطینی سفارت کار، جو پہلے ہی اقوامِ متحدہ میں منظور شدہ حیثیت رکھتے ہیں، جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ فلسطین اقوامِ متحدہ میں غیر رکن مبصر ریاست کی حیثیت رکھتا ہے اور جنرل اسمبلی میں ووٹ دینے کا حق نہیں رکھتا۔ تاہم اسے عالمی ادارے کے اجلاسوں میں شرکت اور خطاب کا حق حاصل ہے۔
امریکہ اور اقوامِ متحدہ کے درمیان قانونی تنازع
امریکہ اور اقوامِ متحدہ کے درمیان ۱۹۴۷ء کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکہ سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اقوامِ متحدہ میں مدعو غیر ملکی سفارت کاروں کو رسائی فراہم کرے گا۔ تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف بھی اقدامات کیے ہیں۔ امریکہ نے آئی سی سی کے ان اقدامات کی مخالفت کی ہے جن کے تحت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر کارروائی کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں عمارت منہدم، کم از کم۲۰؍ فلسطینی جاں بحق، متعدد ملبے تلے دبے
فلسطین اور امریکہ کے تعلقات پر اثرات
امریکی فیصلے سے فلسطینی قیادت اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی تعلقات مزید کشیدہ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات دو ریاستی حل اور امن مذاکرات کے لیے ضروری ماحول کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کا آئندہ اجلاس نیویارک میں منعقد ہوگا، جہاں دنیا بھر کے رہنما عالمی مسائل پر اظہارِ خیال کریں گے۔ محمود عباس کا ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب فلسطینی قیادت کو اپنی پالیسیوں اور فلسطینی عوام کے مطالبات عالمی برادری کے سامنے پیش کرنے کا موقع فراہم کرے گا۔