امریکی عدالت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کے بعد اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر لگائی گئی پابندیاں ختم کیں،اس سے قبل ایک وفاقی جج نے کہا تھا کہ یہ تعزیری اقدامات ان کے آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی نظر آتے ہیں۔
EPAPER
Updated: May 21, 2026, 9:03 PM IST | Washington
امریکی عدالت کی جانب سے ٹرمپ انتظامیہ کی سرزنش کے بعد اقوام متحدہ کی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر لگائی گئی پابندیاں ختم کیں،اس سے قبل ایک وفاقی جج نے کہا تھا کہ یہ تعزیری اقدامات ان کے آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی نظر آتے ہیں۔
امریکہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز پر عائد کردہ پابندیاں واپس لے لی ہیں۔ یہ اقدام وفاقی جج کے اس فیصلے کے کچھ دنوں بعد آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یہ تعزیری اقدامات ان کے آزادیٔ اظہار کے حق کی خلاف ورزی نظر آتے ہیں۔بدھ کو جاری کردہ ایک اپ ڈیٹ میں، امریکی محکمہ خزانہ نے البانیز کا نام اپنی پابندیوں کی فہرست سے ہٹا دیا۔یہ فیصلہ اس وقت واپس لیا گیا جب امریکی ڈسٹرکٹ جج رچرڈ لیون نے عارضی طور پر پابندیوں کو روکنے کا حکم دیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ: اقوام متحدہ کے مطابق چوہوں اور کیڑوں کے سبب جلد کے انفیکشن میں اضافہ
واضح رہے کہ یہ مقدمہ فروری میں البانیز کے شوہر اور بیٹی نے دائر کیا تھا۔اس قانونی چیلنج میں کہا گیا تھا کہ یہ پابندیاں سیاست زدہ ہیں اور ان کا مقصد البانیز کو غزہ پر جاری حملے کے سلسلے میںاسرائیل کے احتساب پر زور دینے کی پاداش میں سزا دینا تھا۔اپنے فیصلے میں، جج لیون نے کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی ماہر کی تقریر کو دبانے کی جبری کوشش کی تھی۔تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے البانیز پر یہ الزام لگاتے ہوئے پابندیاں عائد کی تھیں کہ وہ متعصب اور نقصان دہ سرگرمیوں میں ملوث ہیں، جس میں بین الاقوامی فوجداری عدالت سے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور سابق اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی ان کی حمایت بھی شامل تھی۔بعد ازاں جج لیون نےٹرمپ انتظامیہ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے زور دیا کہ البانیز کی سفارشات کا بین الاقوامی فوجداری عدالت پر کوئی پابند اختیار نہیں تھا اور یہ ان کی ذاتی رائے کے سوا کچھ نہیں تھیں۔
دریں اثناء پابندیاں ہٹائے جانے کے بعد البانیز نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ تاہم، اس سے قبل انہوں نے ان اقدامات کو اپنے مشن کو کمزور کرنے کی ایک دانستہ کوشش قرار دیا تھا۔جبکہ گزشتہ ہفتے کی عارضی روک کے بعد، البانیز نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک بیان میں اپنے شوہر اور بیٹی کا شکریہ ادا کیا کہ’’ انہوں نے میرے دفاع کے لیے قدم بڑھایااور ان حامیوں کے لیے شکر گزاری کا اظہار کیا جنہوں نے اس قانونی جدوجہد میں ان کا ساتھ دیا۔محکمہ خزانہ نے جولائی میں ابتدائی طور پر پابندیاں عائد کی تھیں جب البانیز نے ایک رپورٹ جاری کی جس میں۴۸؍ کارپوریشنوں پر غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ میں ملی بھگت کا الزام لگایا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں مائیکروسافٹ، ایلفابیٹ انکارپوریٹڈ، اور ایمیزون سمیت متعدد بڑی امریکی ٹیکنالوجی فرموں کے نام شامل تھے۔
ذہن نشین رہے کہ البانیز مئی سے مقبوضہ فلسطینی علاقے کے لیے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندے کے طور پر خدمات انجام دے رہی ہیں۔ وہ متعدد آزاد ماہرین میں سے ایک ہیں جنہیں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی نگرانی اور رپورٹنگ کے لیے مقرر کیا ہے۔ ٹرمپ کے دور میں، واشنگٹن نے فلسطینی حقوق اور انصاف جیسی دیگر ترقی پسند تحریکوں کی حامیوں کے خلاف پابندیوں اور قانونی دباؤ کا استعمال بڑھا دیا ہے۔اس ہفتے کے شروع میں، ٹرمپ انتظامیہ نے چار کارکنوں پر بھی پابندیاں عائد کیں جو غزہ پر اسرائیل کی ناکہ بندی کو چیلنج کرنے والے بین الاقوامی بحری بیڑے کے مشن میں ملوث تھے۔ انتظامیہ نے بغیر کوئی ثبوت پیش کیے ان پر حماس کی حمایت میں محصور فلسطینی علاقے کا سفر کرنے کا الزام لگایا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیلی فوج میں جنسی ہراسانی کے کیسز میں اضافہ، ۲۰۲۵ء میں ۲۴۲۰؍ شکایات
علاوہ ازیں امریکہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے وابستہ ججوں اور پراسیکیوٹرز کو بھی نشانہ بنایا ہے، کیونکہ عدالت نے نیتن یاہو اور گیلنٹ کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔اس کے علاوہ ۲۰۲۴ءمیں، بین الاقوامی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر کریم خان نے غزہ پر اسرائیلی فوجی حملے کے دوران مبینہ انسانیت کے خلاف کارروائی اور جنگی جرائم کے الزامات پر اسرائیلی عہدیداروں کے خلاف چارجز طلب کیے تھے۔