Updated: March 29, 2026, 10:33 PM IST
| Washington
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران سے نکل جائے گا اور ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جنگ کا مقصد ایران کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے، اور یہ یقینی بنایا جائے گا کہ ایک بار جب ہم نکلیں، تو ہمیں یہ کام بہت طویل عرصے تک دوبارہ نہ کرنا پڑے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس۔ تصویر: آئی این این
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ جلد ہی ایران سے نکل جائے گا اور ایندھن کی قیمتیں کم ہو جائیں گی۔کنزرویٹو پوڈکاسٹر بینی جانسن کو دیے گئے ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ’’ جنگ کا مقصد ایران کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور اسے ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے روکنا ہے۔‘‘انہوں نے اس جنگ کو ہتھیاروں کی صلاحیت کو بہت طویل عرصے کے لیے غیر موثر بناناقرار دیا۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکہ نے ایران جنگ میں اپنے بیشتر فوجی مقاصد حاصل کر لیے ہیں، جسے صدر ڈونلڈ ٹرمپ مزید کچھ وقت جاری رکھنےکا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ ایران کی حکومت شدید طور پر محدود ہو جائے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کا امریکہ کو الٹی میٹم، مغربی ایشیا میں امریکی یونیورسٹیز پرحملوں کی دھمکی
دریں اثناء وینس نے اشارہ دیا کہ واشنگٹن ایران میں فوجی کارروائی طویل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا، لیکن انہوں نے تنازع کے قلیل مدتی معاشی اثرات کو بھی تسلیم کیا۔وینس نے کہا، ’’ ٹرمپ اسے مزید کچھ وقت جاری رکھیں گے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ایک بار جب ہم نکلیں، تو ہمیں یہ کام بہت طویل عرصے تک دوبارہ نہ کرنا پڑے۔بعد ازاں وینس نے کہا کہ ’’ہمیں ایرانی حکومت کو بہت طویل عرصے کے لیے غیر موثر بنانا ہے، اور یہی مقصد ہے۔‘‘ حالانکہ وینس نے تسلیم کیا کہ تنازع کے نتیجے میں پٹرول کی قیمتیں بڑھی ہیں، لیکن کہا کہ وہ جلد کم ہو جائیں گی۔ ‘‘یہ ایک بہت ہی عارضی ردِعمل ہے جو بالآخر ایک قلیل مدتی جنگ کا نتیجہ ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل کو ملٹری اسٹیل کی ترسیل پر اٹلی میں تحقیقات، بی ڈی ایس کا دعویٰ
مزید برآں امریکی نائب صدر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کا مقصد یہ ہے کہ واپسی سے پہلے اپنا مشن فیصلہ کن طور پر مکمل کر لیا جائے، صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل مدتی جنگ کا ارادہ نہیں رکھتے۔وینس نے کہا، ’’میرے خیال میں صدر نے اس بارے میں بہت واضح کہا ہے،’’ہمیں ایک سال بعد یا دو سال بعد ایران میں رہنے میں دلچسپی نہیں ہے۔ ہم اپنا کام نمٹا رہے ہیں، ہم جلد ہی وہاں سے نکل جائیں گے، اور پٹرول کی قیمتیں واپس نیچے آ جائیں گی۔‘‘
امریکی فوج نے ہفتہ کو ایران کے بحری اہداف پر حملوں کی تصاویر بھی جاری کیں۔ سینٹرل کمانڈ نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’دہائیوں سے ایرانی بحری جہاز علاقائی پانیوں میں عالمی تجارت کیلئے خطرہ تھےاورانہیں ہراساں کرتے رہے ہیں، لیکن وہ دن ختم ہو گئے۔‘‘