Inquilab Logo Happiest Places to Work

پینٹاگون نے یو ایف او فائلیں عوامی کرنا شروع کر دیں

Updated: May 09, 2026, 10:11 PM IST | Washington

پینٹاگون نے UFOs یا نامعلوم غیر معمولی مظاہر (UAPs) سے متعلق کئی برسوں سے زیر بحث سرکاری فائلوں کو مرحلہ وار عوامی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ابتدائی دستاویزات ۸؍ مئی کو جاری کی گئیں اور اب PURSUE نامی سرکاری پورٹل پر دستیاب ہیں۔ ان ریکارڈز میں ایسے واقعات شامل ہیں جن کی ابھی تک مکمل وضاحت نہیں ہو سکی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام شفافیت بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ تاہم، امریکی محکمہ دفاع کی ۲۰۲۴ء رپورٹ کے مطابق اب تک UFO واقعات کو ماورائے زمین مخلوق یا اجنبی ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت نہیں ملا۔

UFO. Image: X
یو ایف او۔ تصویر: ایکس

پینٹاگون نے یو ایف او ، جنہیں اب سرکاری طور پر نامعلوم غیر معمولی مظاہر (UAPs) کہا جاتا ہے، سے متعلق فائلوں کو مرحلہ وار عوامی کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ اقدام کئی دہائیوں سے خفیہ سمجھے جانے والے ریکارڈز کو عوام تک پہنچانے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ ابتدائی مرحلے میں جاری کی گئی دستاویزات ۸؍ مئی کو منظر عام پر آئیں اور اب PURSUE نامی ایک سرکاری آن لائن پورٹل پر دستیاب ہیں۔ حکام کے مطابق یہ پلیٹ فارم یو اے پی مقابلوں سے متعلق غیر خفیہ مواد کو عوامی رسائی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ فائلوں کی ریلیز مرحلہ وار ہو گی، اور جیسے جیسے مزید ریکارڈز کا جائزہ اور ڈی کلاسیفیکیشن مکمل ہوتی جائے گی، نئی دستاویزات بھی شامل کی جاتی رہیں گی۔

یہ بھی پڑھئے : ہنٹا وائرس: کروز شپ مسافروں کے انخلا کیلئے ڈبلیو ایچ او سربراہ کینری جزائر روانہ

جاری کردہ ابتدائی ریکارڈز میں ایسے کیسز شامل ہیں جن کی مکمل وضاحت ابھی تک ممکن نہیں ہو سکی۔ تاہم حکام نے واضح کیا کہ ’’غیر وضاحت شدہ‘‘ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کا تعلق لازماً ماورائے زمین مخلوق سے ہے۔ یہ اقدام اس وقت سامنے آیا ہے جب امریکہ میں UFOs اور UAPs سے متعلق عوامی اور سیاسی دلچسپی میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی اس سال کے آغاز میں ایک ہدایت جاری کی تھی، جس میں یو ایف او اور ممکنہ ماورائے زمین سرگرمیوں سے متعلق سرکاری ریکارڈز کی نشاندہی اور انہیں عوامی کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

اسی دوران امریکی قانون ساز بھی زیادہ شفافیت پر زور دے رہے ہیں۔ اینا پولینا لونا کی سربراہی میں قائم ایک ٹاسک فورس نے دفاعی حکام سے مزید مواد، بشمول یو اے پی مقابلوں کے ۴۶؍ ویڈیوز، جاری کرنے کی درخواست کی ہے۔ اس پیش رفت سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ آنے والے مہینوں میں مزید ویڈیوز، تصویری شواہد اور سرکاری رپورٹس عوام کے سامنے آ سکتی ہیں۔ تاہم امریکی محکمہ دفاع کی ۲۰۲۴ء رپورٹ میں واضح کیا گیا تھا کہ اب تک کسی بھی یو اے پی واقعے کو اجنبی مخلوق یا غیر انسانی ٹیکنالوجی سے جوڑنے کا کوئی تصدیق شدہ ثبوت موجود نہیں۔ رپورٹ کے مطابق بیشتر واقعات کی وضاحت عام فضائی اشیاء، موسمی مظاہر یا دیگر قدرتی عوامل سے کی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے : صومالیہ : خوراک کے بحران کے سبب لاکھوں افراد بھوک کا شکار: ورلڈ فوڈ پروگرام

ناسا نے بھی اس معاملے پر محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے سائنسی تحقیقات اور شفافیت کی حمایت کی ہے۔ ناسا کے ایڈمنسٹریٹر جیرڈ آئزک مین نے کہا کہ ایجنسی اس حوالے سے کھلے انداز میں معلومات شیئر کرتی رہے گی اور نامعلوم مظاہر کو سمجھنا اس کے وسیع تر سائنسی مشن کا حصہ ہے۔ ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ فائلیں یو ایف او کے بارے میں تمام سوالات کا جواب نہیں دیتیں، لیکن یہ عوام کو پہلی بار اس عمل کی جھلک ضرور فراہم کرتی ہیں کہ امریکی حکومت اس نوعیت کے واقعات کی تفتیش کیسے کرتی ہے۔ پینٹاگون نے واضح کیا ہے کہ مزید فائلیں ’’رولنگ بنیاد‘‘ پر جاری کی جائیں گی، یعنی جیسے ہی نئے ریکارڈز کی جانچ مکمل ہو گی، انہیں عوامی رسائی کے لیے اپ لوڈ کر دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK