• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ: ٹرمپ کی ویزا پالیسی، کولمبیا جرنلزم میں درخواستوں میں کمی، داخلے رکے

Updated: October 03, 2026, 9:55 PM IST | Washington

ایک رپورٹ کے م طابق ٹرمپ کی ویزا پالیسیوں کی وجہ سے کولمبیا جرنلزم میں درخواستوں میں کمی واقع ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں داخلے روک دیے گئے،کولمبیا کے داخلہ عمل سے واقف لوگوں نے رائٹرز کو بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ ایم اے پروگرام کے اندراج کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔

Columbia University. Photo: X
کولمبیا یونیورسٹی۔ تصویر: ایکس

ٹرمپ انتظامیہ کی ویزا پالیسیوں اور امیگریشن قوانین کے ارد گرد بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کولمبیا یونیورسٹی کے صحافت پروگرام میں بین الاقوامی درخواستوں میں تیزی سے کمی کا باعث بنی ہے، جس سے اسکول کو اپنے ماسٹر آف آرٹس کورس میں داخلوں کو ایک سال کے لیے روکنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔کولمبیا جرنلزم اسکول کے ڈین جیلانی کوب نے کہا کہ داخلہ وقفے کے دوران ایم اے پروگرام کا تنقیدی جائزہ لیا جائے گا کیونکہ اسکول ڈگری کو دوبارہ ڈیزائن کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو۲۰۰۵ء میں شروع کی گئی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف نئی امریکی کارروائی کا عندیہ

کوب نے رائٹرز کو بتایا، ویزوں کی حرکیات اور اس طرح کی دیگر تمام چیزیں غور کا حصہ تھیں،جبکہ ادارے  کو یہ جانچنے کے لیے بھی وقت درکار ہے کہ پروگرام کو کیسے تیار ہونا چاہیے۔رائٹرز نے رپورٹ کیا کہ داخلہ میں سست روی اور امریکی ویزا پالیسیوں کے درمیان تعلق، نیز وقفے کی ایک سالہ مدت، پہلے رپورٹ نہیں کی گئی تھی۔بعد ازاں کولمبیا کے داخلہ عمل سے واقف لوگوں نے رائٹرز کو بتایا کہ بین الاقوامی طلبہ ایم اے پروگرام کے اندراج کا تقریباً نصف حصہ ہیں۔واضح رہے کہ اس سے پہلے کہ انہیں درخواست دہندگان کی آن لائن سرگرمی کی توسیعی اسکریننگ کے ساتھ دوبارہ شروع کیا جائے، ٹرمپ انتظامیہ نے گزشتہ سال نئے طلبہ ویزوں کے لیے تقرریوں کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ انتظامیہ نے کہا کہ اضافی جانچ کا مقصد ممکنہ قومی سلامتی کے خطرات کی نشاندہی کرنا تھا۔
ذہن نشین رہے کہ کولمبیا ان یونیورسٹیوں میں شامل تھی جنہیں۲۰۲۴ء میں فلسطین نواز کیمپس احتجاج کے بعد انتظامیہ کی طرف سے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ یونیورسٹی نے بعد میں وفاقی تحقیقات کو نمٹانے اور اپنی زیادہ تر معطل وفاقی فنڈنگ کو بحال کرنے کے لیے۲۰۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ ادا کرنے پر اتفاق کیا۔مزید برآں اس سال متعارف کرائے گئے ایک علاحدہ اصول نے غیر ملکی طلبہ اور صحافیوں کے توسیع کے لیے درخواست دیے بغیر امریکہ میں رہنے کی مدت کو محدود کرنے کی کوشش کی۔ ایک وفاقی جج نے اس اصول کو نافذ ہونے سے پہلے ہی روک دیا، اس کے جوازکی دلیل کو غیر معمولی طور پر کمزور قرار دیا۔

یہ بھی پڑھئے: اے آئی ایجنٹس کنٹرول سے باہر ؟۱۰۰؍زائد عالمی اداروں کے نظام میں سیندھ ماری

ویزا ماحول نے پہلے ہی انفرادی ممکنہ طلبہ کو متاثر کیا ہے۔ دی انٹرسیپٹ کے مطابق، ہندوستانی صحافی کوشک راج، جنہیں کولمبیا کے ڈیٹا جرنلزم میں علاحدہ ایم ایس پروگرام میں داخلہ دیا گیا تھا، کو پچھلے سال امریکی اسٹوڈنٹ ویزا سے انکار کر دیا گیا ۔ دریں اثناء ایم اے پروگرام بڑی حد تک وسط کیریئر کے صحافیوں کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جو سیاست، کاروبار اور سائنس جیسے شعبوں میں اپنی مہارت کو گہرا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کولمبیا کے ایم ایس پروگرام سے چھوٹا ہے، جو کم صحافتی تجربہ رکھنے والے طلبہ کے لیے ہے۔ تاہم  بشمول ۲۰۲۴ء-۲۵ء تعلیمی سال کے دوران سائنس اور سیاست کے سیمینارز کا امتزاج، کم اندراج پہلے ہی ایم اے کورس میں تبدیلیوں کا باعث بنا ہے۔جبکہ کولمبیا نے ایک نیا دو سالہ، جز وقتی آن لائن ایم ایس پروگرام کا بھی اعلان کیا ہے۔ اگرچہ ایسا کورس ممکنہ طور پر بین الاقوامی طلبہ کو امریکی ویزا حاصل کیے بغیر تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے، کوب نے رائٹرز کو بتایا کہ نیا پروگرام ایم اے داخلہ وقفے سے غیر متعلقہ تھا۔
واضح رہے کہ یہ جائزہ ایسے وقت میں آیا ہے جب صحافت کے اسکولوں اور نیوز تنظیموں کو وسیع تر چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں مصنوعی ذہانت، سرچ ٹریفک میں کمی اور صنعت بھر میں ملازمتوں میں کٹوتی شامل ہے۔کولمبیا کا اندازہ ہے کہ نو ماہ کے ایم اے پروگرام کی لاگت مالی امداد سے پہلے تقریباً ایک لاکھ ۲۰؍ ہزار ڈالر ہے، جبکہ ڈیٹا جرنلزم میں اس کا ایک سالہ ایم ایس تقریباًایک لاکھ ۸۰؍ ہزار ڈالر کا ہے۔ ادارے کی ویب سائٹ کے مطابق تقریباً۸۰؍ فیصد طلبہ کو کسی نہ کسی طرح کی مالی امداد ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK