Inquilab Logo Happiest Places to Work

اترپردیش: مدرسے دہشت گرد پیدا کرتے ہیں: کیشو پرساد موریہ

Updated: August 05, 2026, 7:38 PM IST | Lukhnow

اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے ایک متنازع بیان میں کہاکہ مدرسے دہشت گرد پیدا کرتے ہیں، ان کے اس اشتعال انگیز بیان پر انہیں سخت تنقید کا سامنا ہے۔

Uttar Pradesh Deputy Chief Minister Keshav Prasad Maurya. Photo: INN
اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ۔ تصویر: آئی این این

اترپردیش کے نائب وزیر اعلیٰ کیشو پرساد موریہ نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’مدرسے، چاہے ہندوستان میں ہوں، پاکستان میں یا بنگلہ دیش میں، دہشت گرد پیدا کرتے ہیں۔‘‘ ان تبصروں نے بڑے پیمانے پر تنقید کو جنم دیا، اور مخالفین نے ان پر مسلم مذہبی تعلیمی اداروں کے بارے میں غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز بیان دینے کا الزام عائد کیا۔بعد میں جب ان سے اپنے بیان کی وضاحت کرنے کو کہا گیا تو موریہ اپنی بات پر قائم رہے اور انہوں نے اپنے دعوے کو مزید دہرایا۔ انہوں نے کہا، ’’کیا یہ پہلی بار ہے؟ یہ حقیقت ہے، یہ سچ ہے۔ مدرسہ کی تعلیم یقینی طور پر ذمہ دار ہے، سب سے بڑے دہشت گرد، چاہے وہ ہندوستان کے اندر حملوں میں ملوث ہوں یا دنیا بھر میں، مدرسہ کی تعلیم کی پیداوار ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ "میں نے یہ پہلے بھی کہا ہے اور آج دوبارہ کہہ رہا ہوں۔ جو کوئی مدرسہ کی تعلیم حاصل کرتا ہے وہ بھارت ماتا کی جئے نہیں کہتا، وندے ماترم نہیں گاتا، اور ان کی ذہنیت ایک دہشت گرد کی طرح ہو جاتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: یوپی مدرسہ بورڈ ایکٹ میں ترمیم پر کابینہ کی مہر، ’کامل‘ اور ’فاضل‘ کی اسناد پر خطرے کی تلوار

واضح رہے کہ موریہ کے یہ بیانات ایسے وقت میں آئے ہیں جب جلاوطن بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین، جن کے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تبصروں نے بار بار غم و غصے کو جنم دیا ہے، نے مدرسوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا تھا۔ کلکتہ کے دورے کے دوران بولتے ہوئے اس نے کہا کہ مدرسوں کا وجود نہیں ہونا چاہیے اور الزام لگایا کہ کچھ مدرسے جہادیوں کو پیدا کرنے کی فیکٹریاںبن گئے ہیں، جبکہ ان کا استدلال تھا کہ ان کی جگہ سیکولر اسکول ہونے چاہئیں۔ بعد ازاں سماج وادی پارٹی کے ایم ایل اے برجیش یادو نے بی جے پی پر انتخابی فائدے کے لیے فرقہ وارانہ بیان بازی کا سہارا لینے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا، ’’اگر وہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے بارے میں بات کرنا بند کر دیں تو انہیں چار سیٹیں بھی نہیں ملیں گی۔ ان کا ایجنڈا مذہب پھیلانا، لوگوں کو مذہب کی افیون سے مسحور کرنا، لوگوں سے جھوٹ بولنا اور ملک کو لوٹنا ہے۔‘‘ جبکہ ایک اور سماج وادی پارٹی ایم ایل اے محمد حسن رومی نے الزام لگایا کہ یہ بیانات انتخابات سے پہلے ووٹرز کومرکوز کرنے کیلئے تھے۔ انہوں نے کہا، "نائب وزیر اعلیٰ  کو لوگوں کو گمراہ نہیں کرنا چاہیے۔ انتخابات قریب ہیں، اور اگر وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کا حوالہ نہ دیں تو وہ اپنا ایجنڈا کیسے چلائیں گے؟‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: سی جے پی کی پریس کانفرنس، ایتھنال ملا ایندھن، بے روزگاری اور عوامی مسائل پر توجہ

ذہن نشین رہے کہ موریہ اپنے مسلم مخالف بیانات کی وجہ سے تنازعات کا شکار رہے ہیں۔ ۲۰۲۱ء میں، اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے پہلے، انہوں نے مبینہ مجرموں کو ’’لنگی چھاپ‘‘ اور ’’جالی دار ٹوپی‘‘ کا غنڈہ قرار دیا تھا، جسے ناقدین نے مسلمانوں کے لیے اشاراتی زبان قرار دیا تھا۔ مزید یہ کہ اسی سال انہوں نے ایک ٹویٹ کر کے ایک اور تنازعہ کھڑا کر دیا کہ ایودھیا اور کاشی کے بعد متھرا کی تیاریاں ہو رہی ہیں، جو کرشن جنم بھومی شاہی عیدگاہ تنازع کی طرف اشارہ سمجھا گیا۔ ۲۰۱۹ء میں انہوں نے ایک پولیس افسر کا دفاع کیا جس نے سی اے اے مخالف مظاہرین سے کہا تھا کہ ’’پاکستان چلے جائیں‘‘، جبکہ ۲۰۲۲ء میں ہری دوار دھرم سنسد کے بعد انہوں نے مذہبی لیڈروں کے متنازع تقریر کرنے کے حق کا دفاع کیا جہاں مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیان بازی کی  گئی تھیں۔ دریں اثناءبی جے پی کی حکومت والی ریاستوں اتر پردیش، اتراکھنڈ، آسام اور مغربی بنگال نے مدرسوں کے سروے اور معائنے کے احکامات جاری کیے، ضوابط سخت کیے، غیر ملکی فنڈنگ کی تحقیقات کیں، مالی امداد کم یا واپس لی، اور بعض صورتوں میں سرکاری مدرسوں کو بند یا انہیں تبدیل کیا۔مغربی بنگال میں، بی جے پی حکومت نے مدرسوں میں وندے ماترم گانے کو لازمی قرار دیا ہے، جس کی کئی مسلم تنظیموں نے مخالفت کی ہے، جن کا کہنا ہے کہ گیت کے کچھ حصے اسلامی توحیدی عقائد سے متصادم ہیں۔ تاہم، حزب مخالف، مسلم تنظیموں اور حقوق گروہوں نے حکومتوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایک وسیع تر ہندوتوا ایجنڈے کے تحت مسلم تعلیمی اداروں کو انتخابی طور پر نشانہ بنا رہی ہیں اور آئینی طور پر محفوظ اقلیتی تعلیمی حقوق کو مجروح کر رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: الہ آباد میں ہونے والے ’چھاتروں کی گونج‘ کیلئے کانگریس کی مہم تیز

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جنوری ۲۰۲۶ء میں الہ آباد ہائی کورٹ نے ایک غیر تسلیم شدہ مدرسے کو بند کرنے کے ریاستی فیصلے پر سوال اٹھایا اور کہا  کہ سرکاری شناخت کا فقدان، مدرسے کو بند کرنے کو درست ثابت نہیں کرتا۔ عدالت نے کہا کہ ۲۰۱۶ء کے مدرسہ ریگولیشنز کے تحت، غیر تسلیم شدگی صرف ادارے کو سرکاری گرانٹس حاصل کرنے سے محروم کرتی ہے اور حکام کو اسے بند کرنے کا اختیار نہیں دیتی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK