اتراکھنڈ کے جم مالک دیپک کمار عرف محمد دیپک کو ایک تاجر کو مبینہ دھکمی دینے کے الزام گرفتار کرلیا گیا ہے، شکایت گزار نے الزام لگایا کہ جب اس نے اجین مسجد کے انہدام کے بارے میں جم مالک کی پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا،تو دیپک کمار نے اس پر حملہ کیا۔
EPAPER
Updated: October 02, 2026, 6:04 PM IST | Ujjain
اتراکھنڈ کے جم مالک دیپک کمار عرف محمد دیپک کو ایک تاجر کو مبینہ دھکمی دینے کے الزام گرفتار کرلیا گیا ہے، شکایت گزار نے الزام لگایا کہ جب اس نے اجین مسجد کے انہدام کے بارے میں جم مالک کی پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا،تو دیپک کمار نے اس پر حملہ کیا۔
انڈین ایکسپریس کی خبر کے مطابق دہرادون کے جم مالک دیپک کمار، جنہوں نے جنوری میں مبینہ بجرنگ دل ارکان کی جانب سے ایک بزرگ مسلم دکاندار کو ہراساں کرنے کی مخالفت کی تھی، کو جمعرات کو ایک تاجر پر مبینہ حملے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ مبینہ طور پر کمار نے اجین میونسپل اتھارٹی کی جانب سے ہندو مذہبی اجتماع سمہستھ کمبھ میلے سے قبل سڑک کو چوڑا کرنے کے منصوبے کے تحت ایک مسجد کے حصے کو مسمار کرنے کے بارے میں سوشل میڈیا پوسٹ اپ لوڈ کی تھی۔شکایت گزار سنجیو ٹونک نے اپنی شکایت میں کہا کہ اس نے دیپک کی پوسٹ پر تبصرہ کیا تھا۔ اتراکھنڈ کے پوڑی گڑھوال کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سرویش پنوار نے ٹائمز آف انڈیا کو بتایاکمار پھر ٹونک کی دکان پر گیا اور جمعرات کو اس پر حملہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: منڈھوا زمین گھوٹالے میں پارتھ پوار کو ملزم کیوں نہیں بنایا؟
دریں اثناءکمار کے خلاف ابتدائی ایف آئی آر بھارتیہ نیائے سنہتا کی مجرمانہ دھمکی اور امن کی خلاف ورزی کے تحت درج کی گئی تھی۔پولیس نے کہا کہ بعد میں انہوں نے ایف آئی آر میں مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینے اور رضاکارانہ طور پر چوٹ پہنچانے سے متعلق دفعات شامل کیں۔
اجین میں انہدام
واضح رہے کہ شاہی مسجد کے قریب ایک سڑک کو مارچ۲۰۲۸ء میں ہونے والے سمہستھ کمبھ میلے سے قبل چوڑا کیا جا رہا ہے۔انتظامیہ کے مسجد کے کچھ حصوں کو گرانے کے منصوبے کے بعد وہاں تشدد کے واقعات رونما ہوئے، پولیس نے نوٹس کے خلاف احتجاج کرنے والے مسلم رہائشیوں پر آنسو گیس فائر کی۔
یہ بھی پڑھئے: مہوا موئترا کے خلاف تعزیری کارروائی پر روک میں توسیع
محمد دیپک واقعہ
۲۶؍جنوری کو، مبینہ بجرنگ دل کے اراکین پوڑی گڑھوال ضلع میں ایک بزرگ مسلم شخص وکیل احمد کی دکان پر گئے تھے اوردکان کے نام میں لفظ ’’بابا‘‘ استعمال کرنے پر اعتراض کیا تھا۔کمار اور ایک اور شخص وجے راوت نے ہجوم کے اقدامات پر اعتراض کیا تھا۔واقعے کی ایک ویڈیو میں کمار کو یہ پوچھتے ہوئے دیکھا گیا کہ دیگر دکانوں کو لفظ ’’بابا‘‘ استعمال کرنے کی اجازت کیوں ہے، لیکن احمد کی دکان کو نہیں۔ جب ان سے ان کا نام پوچھا گیا تو کمار نے جواب دیا،’’میرا نام محمد دیپک ہے۔‘‘