گھریلو اور تجارتی گیس سلنڈروں کی شدید قلت نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی قلت کے خلاف ونچت بہوجن اگھاڑی نے پیر کے روز ریاست گیر احتجاج کیا۔اسی سلسلے میں بھیونڈی کے دھامنکر ناکہ پر پارٹی کے مقامی صدر منیش دیشمکھ کی قیادت میں کارکنان نے سڑک پر چولہا جلا کر اورروٹیاں سینک کر علامتی احتجاج درج کیا۔
ونچت بہوجن اگھاڑی کے کارکنان چولہے پر روٹیاں بناتے ہوئے- تصویر:آئی این این
گھریلو اور تجارتی گیس سلنڈروں کی شدید قلت نے عوام کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے۔ اس بڑھتی ہوئی قلت کے خلاف ونچت بہوجن اگھاڑی نے پیر کے روز ریاست گیر احتجاج کیا۔اسی سلسلے میں بھیونڈی کے دھامنکر ناکہ پر پارٹی کے مقامی صدر منیش دیشمکھ کی قیادت میں کارکنان نے سڑک پر چولہا جلا کر اورروٹیاں سینک کر علامتی احتجاج درج کیا۔
مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے منیش دیشمکھ نے کہا کہ گیس کی قلت کے باعث گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑ گئے ہیں جبکہ چائے کی ٹپریاں اور سڑک کنارے کھانے پینے کے اسٹال بند ہونے سے چھوٹے کاروباری افراد شدید متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ شادی بیاہ، مذہبی تقاریب اور کیٹرنگ جیسے کام بھی گیس نہ ملنے کی وجہ سے التوا کا شکار ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ بیرونِ شہر زیرِ تعلیم طلبہ بھی اس بحران سے متاثر ہیں کیونکہ ہاسٹل کے میس میں گیس نہ ہونے کے سبب کھانا بند ہو گیا ہے، جس کے باعث کئی طلبہ کو تعلیم ادھوری چھوڑ کر اپنے گھروں کو واپس جانا پڑ رہا ہے۔
احتجاج کے بعد ونچت اگھاڑی کے وفد نے سب ڈویژنل افسر کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے فوری طور پر گیس کی فراہمی بحال کرنے اور عوامی مسائل کے حل کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر خواتین ونگ کی صدر چھایا جادھو، جنرل سیکریٹری سدام اہیرے، سدانند بنسوڑے، اکشے کامبلے، ایڈوکیٹ شیوکمار پاٹھک، سنجے گپتا سمیت متعدد عہدیداران اور کارکنان موجود تھے۔