Updated: March 28, 2026, 9:04 PM IST
| Berlin
جرمن کار ساز کمپنی فوکس ویگن اور اسرائیلی دفاعی کمپنی رافیل ایڈوانسڈ ڈیفنس سسٹمز کے درمیان آئرن ڈوم سسٹم کے اجزاء کی ممکنہ تیاری پر عالمی قانونی ماہرین نے شدید خدشات ظاہر کیے ہیں۔ آئی سی سی کی ۲۰۲۴ء رائے کے مطابق ایسی مدد تیسرے ممالک کے لیے غیر قانونی ہو سکتی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ یہ تعاون جرمنی کو بین الاقوامی اور ملکی قوانین کی خلاف ورزی میں دھکیل سکتا ہے، جبکہ سیاسی حلقوں میں بھی اس پر سخت تنقید سامنے آئی ہے اور اسے اخلاقی و قانونی خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
جرمن آٹو موبائل کمپنی Volkswagen اور اسرائیلی دفاعی ادارے Rafael Advanced Defense Systems کے درمیان آئرن ڈوم ایئر ڈیفنس سسٹم کے پرزے تیار کرنے کے مجوزہ منصوبے نے بین الاقوامی سطح پر ایک بڑی قانونی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں ماہرین نے اسے ممکنہ طور پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، اس شراکت داری کے تحت جرمنی کے اوسنابرک پلانٹ میں لانچرز اور ٹرانسپورٹ گاڑیاں تیار کی جا سکتی ہیں، تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عالمی عدالت انصاف (آئی سی سی) کی جولائی ۲۰۲۴ء کی رائے سے متصادم ہو سکتا ہے، جس میں ریاستوں کو مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی سرگرمیوں کی حمایت سے روکا گیا تھا۔
قطر میں نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کے ماہر ٹورسٹن مینگے نے خبردار کیا، ’’ایسی ریاست کے ساتھ کوئی بھی فوجی یا سیکوریٹی تعاون جو نسل کشی جیسے جرائم میں ملوث ہو، نہ صرف بین الاقوامی قانون بلکہ جرمنی کے آئینی اور قانونی ڈھانچے کی بھی خلاف ورزی ہے۔‘‘ انہوں نے جرمن بنیادی قانون کے آرٹیکل ۲۵؍ اور ۲۶؍ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے ہتھیاروں کی تیاری یا برآمد غیر قانونی ہو سکتی ہے۔ کنیڈین قانونی ماہر ایڈن سمارڈون نے بھی کارپوریٹ ذمہ داری پر زور دیتے ہوئے کہا، ’’جب کمپنیاں ایسے ممالک کو ہتھیار فراہم کرتی ہیں جہاں انسانیت کے خلاف جرائم دستاویزی شکل میں موجود ہوں، تو وہ خود بھی قانونی طور پر جوابدہ ہو سکتی ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ملائیشیا: اسرائیلی شہریوں کی گرفتاری، چیٹ بوٹ مشورہ مصیبت بن گیا
اس معاملے میں ایک تاریخی پہلو بھی نمایاں ہوا، جہاں ماہرین نے نشاندہی کی کہ فوکس ویگن کی بنیاد نازی دور میں رکھی گئی تھی اور اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران عسکری پیداوار میں کردار ادا کیا تھا۔ ماہرین کے مطابق، ’’یہ ایک تلخ ستم ظریفی ہے کہ کمپنی دوبارہ دفاعی پیداوار کی طرف جا رہی ہے۔‘‘ سیاسی سطح پر بھی مخالفت سامنے آئی ہے۔ جرمنی کی لیفٹ پارٹی کے رکن مرزے ایڈیس نے کہا، ’’جرمن حکومت کو اس اسرائیلی حکومت کو یہاں ہتھیار بنانے کی اجازت دینے سے پہلے کئی بار سوچنا چاہیے، ورنہ برلن خود جنگی جرائم میں ملوث ہو سکتا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید الزام لگایا کہ ’’غزہ میں ہونے والے واقعات نسل کشی کے مترادف ہیں، اور اسلحے کی فراہمی سے جرمنی کے ہاتھ بھی خون سے رنگے جا سکتے ہیں۔‘‘
دوسری جانب، جرمن حکومت نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، جبکہ کمپنی کے ترجمان نے واضح کیا کہ ’’ہتھیاروں کی تیاری فی الحال مستقبل کے منصوبوں میں شامل نہیں ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: جنگ کے دوران سائرن کا غلط استعمال، یہودی مفت اشیاء لے کر فرار
ادھر ترکی نے اس معاملے پر اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے بارہا زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ہتھیاروں کے استعمال کی مذمت کی جانی چاہیے اور تمام ممالک کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ معاملہ نہ صرف قانونی بلکہ اخلاقی اور سیاسی سطح پر بھی سنگین اثرات رکھتا ہے، اور اگر یہ منصوبہ آگے بڑھتا ہے تو جرمنی کو عالمی سطح پر شدید دباؤ اور ممکنہ قانونی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔