• Sun, 08 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’میلانیا‘ پر ۷۵؍ ملین ڈالر، شادی پر ۵؍ ملین؛ واشنگٹن پوسٹ کیلئے؟ بیزوس پر تنقید

Updated: February 07, 2026, 10:35 PM IST | Washington

امریکی سینیٹر برنی سینڈرس نے ارب پتی کاروباری شخصیت جیف بیزوس پر تنقید کی ہے کہ انہوں نے میلانیا ٹرمپ سے متعلق فلم اور ذاتی اخراجات پر بھاری رقوم خرچ کیں جبکہ ان کی ملکیت والے اخبار دی واشنگٹن پوسٹ میں مالی دباؤ کے نام پر ملازمین کو نکالا جا رہا ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

امریکہ میں میڈیا اداروں کی مالی حالت اور ارب پتی مالکان کی ترجیحات پر بحث اس وقت شدت اختیار کر گئی جب سینیٹر برنی سینڈرز نے جیف بیزوس کے حالیہ اخراجات کو واشنگٹن پوسٹ میں عملے کی کٹوتیوں سے جوڑتے ہوئے سوالات اٹھائے۔ فنانشل ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق برنی سینڈرز نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا کہ بیزوس نے امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ پر بننے والی فلم کے لیے تقریباً ۷۵؍ ملین ڈالر خرچ کیے، جبکہ شادی سے متعلق اخراجات میں بھی لاکھوں ڈالر صرف کیے گئے۔ ان کے مطابق یہ اخراجات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب واشنگٹن پوسٹ نے مالی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے ملازمین کو فارغ کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اسلام آباد، پاکستان: نمازِ جمعہ کے دوران مسجد میں دھماکہ، ۳۰؍ ہلاک، کئی زخمی

سینڈرز نے سوال اٹھایا کہ اگر اتنی بڑی رقم نجی منصوبوں اور ذاتی اخراجات پر خرچ کی جا سکتی ہے تو پھر ایک معروف اور بااثر اخبار کے نیوز روم میں کٹوتی کیوں ضروری سمجھی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد صحافت جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہے اور مالی فیصلوں میں اس پہلو کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ خیال رہے کہ واشنگٹن پوسٹ کی انتظامیہ اس سے قبل وضاحت کر چکی ہے کہ عملے میں کمی کاروباری حالات، ڈیجیٹل میڈیا میں تبدیلی اور اخراجات میں توازن قائم رکھنے کے لیے کی گئی ہے۔ اخبار کے مطابق یہ فیصلے ادارے کو طویل مدت میں مستحکم رکھنے کے لیے ضروری سمجھے گئے۔ جیف بیزوس نے اس معاملے پر براہ راست کوئی تفصیلی بیان جاری نہیں کیا، تاہم ماضی میں وہ اس مؤقف کا اظہار کر چکے ہیں کہ ادارتی فیصلوں میں ان کی براہ راست مداخلت نہیں ہوتی اور واشنگٹن پوسٹ اپنی صحافتی خودمختاری کے ساتھ کام کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ’’ٹرمپ آر ایکس‘‘ نامی سستی ادویات کی ویب سائٹ شروع کی

میڈیا تجزیہ کاروں کے مطابق یہ تنازع محض ایک اخبار تک محدود نہیں بلکہ اس وسیع تر بحث کی عکاسی کرتا ہے جس میں ارب پتی سرمایہ کاروں کی میڈیا ملکیت، اخراجات کی ترجیحات اور صحافتی اداروں کی آزادی زیرِ غور آتی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ بڑے نجی اخراجات اور نیوز روم میں کٹوتیاں ایک ساتھ سامنے آنے سے عوامی اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔ سینیٹر سینڈرز کے بیان کے بعد سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ بعض افراد نے اسے آزاد صحافت کے حق میں آواز قرار دیا، جبکہ کچھ نے کہا کہ نجی اخراجات کو کاروباری فیصلوں سے جوڑنا درست نہیں۔ یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ سمیت دنیا بھر میں روایتی میڈیا ادارے مالی دباؤ، ڈیجیٹل منتقلی اور اشتہاری آمدنی میں کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کا معاملہ اسی بڑے رجحان کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، تاہم بیزوس کے ذاتی اخراجات نے اس بحث کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK