• Sun, 15 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی جے پی مسلمانوں پر اے آئی بطور ’’ہتھیار‘‘ استعمال کررہی ہے: واچ ڈاگ

Updated: February 14, 2026, 10:15 PM IST | New Delhi

نئی دہلی میں منعقد ہونے والی انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء سے قبل دو اہم اداروں کی مشترکہ رپورٹ نے ہندوستان میں مصنوعی ذہانت کے سیاسی، سماجی اور نگرانی کے مقاصد کے لیے استعمال پر سنگین خدشات ظاہر کیے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تخلیقی اے آئی کو اقلیتوں کے خلاف بیان سازی، نگرانی کے نظام کی توسیع اور انتخابی عمل پر اثرانداز ہونے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ شفافیت اور مؤثر ضابطہ بندی کا فقدان برقرار ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

دارالحکومت میں انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء کے آغاز سے چند روز قبل ڈجیٹل حقوق کی تنظیم انٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن اور امریکہ میں قائم تھنک ٹینک سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے، جس میں ہندوستان میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے سیاسی اور سماجی استعمال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔’’انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء: اے آئی گورننس ایٹ دی ایج آف ڈیموکریٹک بیک سلائیڈنگ‘‘ کے عنوان سے جاری اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ تخلیقی اے آئی ٹولز کو اقلیتوں کے خلاف منفی بیانیہ تشکیل دینے اور بڑے پیمانے پر نگرانی کے نظام کو تقویت دینے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، جنریٹو اے آئی سیاسی جماعتوں کے لیے ایسا ذریعہ بن چکا ہے جس کے ذریعے مخالفین کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور سماجی تقسیم کو گہرا کیا جا سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: راجیہ سبھا میں تقریر کے حصے حذف کئے جانے پر ملکارجن کھرگے برہم

رپورٹ میں ایک مثال دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سمٹ سے ایک ہفتہ قبل بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی آسام یونٹ نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک اے آئی سے تیار کردہ ویڈیو شیئر کیا، جس میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا شمرا کو دو مسلم افراد پر گولی چلاتے ہوئے دکھایا گیا۔ ویڈیو پر ’’نو مرسی‘‘ کا عنوان درج تھا۔ رپورٹ میں اسے اشتعال انگیز مواد قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس طرح کے ویڈیوز سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اسی نوعیت کی مثالیں دہلی، چھتیس گڑھ اور کرناٹک میں بھی پیش کی گئی ہیں، جہاں مبینہ طور پر اے آئی ٹولز کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز اور جنریٹو اے آئی کمپنیوں کی جانب سے کمیونٹی گائیڈ لائنز کے مؤثر نفاذ میں ناکامی کے باعث نقصان دہ مواد بغیر جانچ پڑتال کے پھیل رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہے کہ متعدد مقبول ٹیکسٹ ٹو امیج ٹولز، جیسے میٹا اے آئی، مائیکروسافٹ کو پائلٹ، چیٹ جی پی ٹی اور ایڈوب فائر فلائی میں مقامی زبانوں اور سماجی سیاق و سباق کے حوالے سے مؤثر حفاظتی انتظامات کی کمی پائی گئی ہے۔ تحقیق کے مطابق بعض اوقات یہ ٹولز ایسے اشاروں کا جواب دیتے ہیں جو کسی خاص کمیونٹی کے خلاف تعصب کو تقویت دے سکتے ہیں۔ نگرانی کے حوالے سے رپورٹ میں مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے اس اعلان کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت مبینہ غیر قانونی بنگلہ دیشی تارکین وطن اور روہنگیا پناہ گزینوں کی نشاندہی کے لیے انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی بمبئی کے اشتراک سے ایک اے آئی ٹول تیار کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ ٹول زبان اور لہجے کی بنیاد پر ابتدائی اسکریننگ میں مدد دے گا۔ تاہم لسانی ماہرین نے اس امکان پر سوال اٹھایا ہے کہ بنگالی زبان کی مختلف بولیوں میں موجود مماثلت کے باعث قومیت کی درست شناخت ممکن نہیں ہو سکے گی۔ رپورٹ کے مطابق اس اقدام سے بنگالی بولنے والی مسلم برادری کے خلاف امتیازی سلوک کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یوپی بجٹ :گرماگرم بحث، بلڈوزر کارروائی پرسرکار کو کھری کھری

مزید برآں، پولیس کی جانب سے چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی (ایف آر ٹی) کے وسیع استعمال پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ان سسٹمز کی خریداری اور استعمال میں شفافیت کا فقدان ہے، جبکہ ان کی درستگی سے متعلق عوامی معلومات محدود ہیں۔ دستیاب اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ غلط شناخت کے واقعات افراد کی زندگیوں پر سنگین اثرات مرتب کر سکتے ہیں، خصوصاً جب معاملہ فوجداری مقدمات تک پہنچ جائے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اے آئی سسٹمز کی خامیوں کے باعث کئی ریاستوں میں فلاحی اسکیموں سے مستحقین کو غیر ضروری طور پر خارج کیا گیا۔ مبہم الگورتھمز اور عوامی مشاورت کے بغیر ان کی تعیناتی شہریوں پر یہ بوجھ ڈالتی ہے کہ وہ اپنی اہلیت ثابت کریں، جبکہ مؤثر شکایتی نظام موجود نہیں ہوتا۔
انتخابی عمل کے تناظر میں بھی خدشات ظاہر کیے گئے ہیں کہ سافٹ ویئر کی تعیناتی میں شفافیت کی کمی اور مشتبہ ووٹروں کو نشان زد کرنے کے طریقہ کار کی وضاحت نہ ہونے سے حق رائے دہی متاثر ہو سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایسی صورتحال شہریوں کو اپنے ووٹ کے حق کے تحفظ کے لیے اضافی قانونی مراحل سے گزرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ 
رپورٹ کے اختتام پر ریاستوں، صنعت اور سول سوسائٹی کے لیے متعدد سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں شفاف پالیسی سازی، انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کی پاسداری، الگورتھمز کی آزادانہ جانچ، انسانی نگرانی کا مؤثر نظام اور عوامی آگاہی میں اضافہ شامل ہے۔ رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ اے آئی گورننس کو جمہوری اقدار اور بنیادی حقوق سے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK