Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارہ: فلسطینی عیسائیوں کی ہجرت تیز، قدیم برادری کے خاتمے کا خدشہ

Updated: August 11, 2026, 10:07 PM IST | Ramallah

غزہ جنگ کے آغاز کے بعد مغربی کنارے سے ۲۰۰؍ سے زائد عیسائی خاندان ہجرت کرچکے ہیں، جبکہ بڑھتے اسرائیلی آبادکار حملوں، فوجی چیک پوسٹوں، نقل و حرکت کی پابندیوں اور معاشی مشکلات نے مزید خاندانوں کو بیرونِ ملک جانے پر مجبور کردیا ہے۔ مغربی کنارے میں اس وقت تقریباً ۴۰؍ ہزار سے ۴۵؍ ہزار عیسائی آباد ہیں، جو آبادی کا ایک فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

فلسطینی عیسائی برادری کو مغربی کنارے میں مسلسل بگڑتے سیکوریٹی اور معاشی حالات کے باعث تیزی سے ہجرت کا سامنا ہے۔ غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد اسرائیلی آبادکاروں کے فلسطینیوں پر حملوں میں اضافہ، فوجی کارروائیاں اور چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھنے سے روزمرہ زندگی اور کاروبار متاثر ہوئے ہیں۔ مغربی کنارے میں موجودہ فلسطینی عیسائی آبادی کا اندازہ ۴۰؍ ہزار سے ۴۵؍ ہزار کے درمیان ہے جبکہ ۱۹۶۷ء میں جب اسرائیل نے علاقے پر قبضہ شروع کیا تو عیسائی آبادی تقریباً ۶؍ فیصد تھی۔ آج یہ تناسب ایک فیصد سے کچھ زیادہ رہ گیا ہے۔ فلسطینی وزیر خارجہ ورسین آغابیکیان شاہین کے مطابق عیسائیوں کی بیرونِ ملک منتقلی کی شرح میں اضافہ ’’سنگین خطرے کی گھنٹی‘‘ ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی مسیحی برادری سے فلسطینی عیسائیوں کو ان کی سرزمین پر برقرار رکھنے کے لیے ’’بہت مضبوط اقدامات‘‘ کا مطالبہ کیا۔ 
ریوَرینڈ متری راحب کے مطابق غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد مغربی کنارے سے ۲۰۰؍ سے زیادہ عیسائی خاندان بیرونِ ملک منتقل ہوچکے ہیں۔ ان کے بقول نوجوانوں میں ہجرت کا رجحان خاص طور پر بڑھ رہا ہے۔ رام اللہ کے ۳۱؍ سالہ کاروباری عیسیٰ قسیس بھی اپنا خاندان اور قائم کردہ اسٹارٹ اپ چھوڑ کر امریکہ منتقل ہونے پر غور کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’میں خود کو مایوس اور بے امید محسوس کرتا ہوں۔ میں اپنے کام میں ایک قدم آگے بڑھتا ہوں تو آخرکار تین قدم پیچھے چلا جاتا ہوں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’مکہ معاہدہ کسی ملک کیخلاف نہیں، اس میں مصر کی بھی شمولیت متوقع ہے‘‘

مغربی کنارے کا مکمل طور پر عیسائی آبادی والا آخری قصبہ طیبہ بھی اس بحران کی نمایاں مثال ہے۔ وہاں چرچ کے ریکارڈ کے مطابق ۲۰۲۳ء سے اب تک ۱۵؍ سے زیادہ خاندان ہجرت کرچکے ہیں۔ قصبے کی موجودہ آبادی تقریباً ۱۲۰۰؍ ہے، جبکہ ۱۹۸۰ء کی دہائی میں یہاں تقریباً ۳؍ ہزار افراد رہتے تھے۔ طیبہ کی زمینوں، گھروں اور مذہبی مقامات پر اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آتی رہی ہیں۔ طیبہ کے لاطینی چرچ کے پادری فادر بشار فوادلہ نے کہا کہ حملوں سے پیدا ہونے والی ’’روزانہ کی عدم تحفظ کی تکلیف‘‘ اور مشکل معاشی حالات لوگوں کو اپنے مستقبل پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ رام اللہ سے صرف ۱۲؍ کلومیٹر دور ہونے کے باوجود فوجی چیک پوسٹوں کے باعث طیبہ تک پہنچنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آبنائے ہرمز کھولنے کیلئے ایران نے ۶؍ شرائط پیش کیں

مغربی کنارے سے ہجرت کا مسئلہ صرف عیسائیوں تک محدود نہیں، تاہم فلسطینی حکام کے مطابق عیسائیوں کے لیے بیرونِ ملک منتقلی نسبتاً آسان ہے کیونکہ ان کے رشتہ دار بڑی تعداد میں دوسرے ممالک میں آباد ہیں۔ اس سے انہیں ملازمت، رہائش اور نئے معاشرے میں انضمام کے مواقع مل جاتے ہیں۔ فلسطینی عیسائی برادری کی بڑی ڈائسپورا پہلے ہی امریکہ اور جنوبی امریکہ میں موجود ہے، جبکہ صرف چلی میں ۴۰؍ ہزار سے زیادہ فلسطینی عیسائیوں کی موجودگی بتائی جاتی ہے۔ ۲۰۲۰ء میں فلسطینی سینٹر فار پالیسی اینڈ سروے ریسرچ کے ایک سروے میں مغربی کنارے کے ۳۵؍  فیصد عیسائیوں نے معاشی وجوہات، بہتر تعلیمی مواقع یا زیادہ استحکام اور آزادی کی تلاش میں ہجرت پر غور کرنے کی بات کہی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: مقبوضہ مغربی کنارہ: یہودی آبادکاروں کی نئی تعمیر شدہ غیر قانونی بستی میں منتقلی

مرکز کے ڈائریکٹر خلیل شقاقی کے مطابق ۶؍ سال بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں اور مغربی کنارے میں ہجرت کی خواہش عیسائیوں میں مسلمانوں کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔ غزہ میں فلسطینی عیسائی آبادی اس سے بھی کم رہ گئی ہے۔ جنگ سے پہلے بھی یہ برادری انتہائی محدود تھی اور اب جنگ زدہ علاقے میں تقریباً ۶۰۰؍  عیسائی باقی رہنے کی اطلاع ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK