Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی کنارہ:سبستیا میں پارک بنانےکا اسرائیلی منصوبہ، فلسطینیوں کی زمینوں کو خطرہ

Updated: August 10, 2026, 11:11 AM IST | Sebastia / Ramla

اس علاقے میں فلسطینی خاندان برسوں سے زیتون کے باغات کاشت کرتے آرہے ہیں،آثارقدیمہ کے تحفظ کے نام پر انہیں ہڑپنے کا منصوبہ ہے۔

The area where the Israeli authorities are planning to occupy. Photo: INN
وہ علاقہ جہاں اسرائیلی اتھاریٹی قبضہ کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ تصویر: آئی این این

مقبوضہ مغربی کنارے میں قدیم آثارِ قدیمہ کے مقام سَبَستیا کے اطراف پہاڑی علاقوں میں فلسطینی خاندان نسلوں سے زیتون کے باغات کاشت کرتے آرہے ہیں، تاہم اب ان کی زمینوں پر قبضے اور علاقے میں نیا قومی پارک قائم کرنے کے اسرائیلی منصوبے سے مقامی آبادی میں تشویش بڑھ گئی ہے۔بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق زمین کے ایک مالک ابو مدیف نے بتایا کہ انہیں اطلاع دی گئی ہے کہ ان کی زمین بھی تقریباً ۴۵۰؍ ایکڑ رقبے کے اس حصے میں شامل ہے جسے اسرائیلی حکام آثارِ قدیمہ کے مقام کے تحفظ اور اسے ترقی دینے کے لیے اپنے قبضے میں لے رہے ہیں۔عام طور پر فلسطینی زمینداروں کو ایسی زمین کے قبضے کے بدلے بہت کم یا کوئی معاوضہ نہیں ملتا۔ حتیٰ کہ جب معاوضے کی پیشکش کی جاتی ہے تو بیشتر زمیندار اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ ان کے خیال میں ایسا کرنا اپنی آبائی زمین سے محرومی کو تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا۔ابو مدیف کے لیے یہ زمین آمدنی کا اہم ذریعہ ہے، لیکن ان کے مطابق معاملہ صرف روزگار تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر میں اس کی وضاحت کرنا چاہوں تو میرے لیے قریب ترین مثال یہ ہے کہ جیسے کسی کی روح جسم سے نوچ لی جائے۔ میں اپنی زمین کے بغیر خود کو تصور نہیں کرسکتا۔مقامی ریسٹورنٹ کے مالک ناہد سَخا کا ریسٹورنٹ بھی مسمار کیے جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔ ان کے مطابق اسرائیلی منصوبہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فلسطینی باشندوں کو اس آثارِ قدیمہ کے مقام سے الگ کردیا جائے، جو ہزاروں سال پرانا ہے اور یہاں قدیم یہودی دور کے ساتھ رومی، صلیبی اور عثمانی ادوار کے اہم آثار بھی موجود ہیں۔انہوں نے کہاکہ اب کھدائی کے ساتھ بحالی کا کام بھی شروع ہوگیا ہے۔ زمین کے مالکان سے کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی اپنی زمین استعمال کرنے یا اسے جوتنے کی اجازت نہیں ہوگی۔سَبَستیا کے اردگرد واقع گاؤں کے باشندوں کے خدشات کی بازگشت اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو میں بھی سنائی دی ہے۔ یونیسکو نے سَبَستیا کو عالمی ثقافتی ورثے کی جگہ قرار دینے کے ساتھ اسے خطرے سے دوچار عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں بھی شامل کیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: سابق صدر جو بائیڈن کا کینسر پھیل گیا، شدید تکلیف میں مبتلا: ہنـٹر بائیڈن

 ۶۲۷؍ نئی رہائشی یونٹوں کی تعمیر کے لئے ٹینڈر جاری

فلسطینی کالونائزیشن اینڈ وال ریزسٹنس کمیشن (سی آر آر سی) کے مطابق اسرائیلی حکام نے مقبوضہ مغربی کنارے کی وخاف یعقوب بستی میں۶۲۷؍ نئی رہائشی یونٹوں کی تعمیر کیلئے ٹینڈر جاری کیا ہے۔ کمیشن نے سنیچر کو بتایا کہ یہ منصوبہ راملہ اور البیرہ گورنریٹ کے علاقے میں واقع زمین پر تعمیر کیا جائے گا۔کمیشن کے مطابق اسرائیل نے تعمیراتی کمپنیوں کو بولیاں جمع کرانے کیلئے ۳۰؍ نومبر کی آخری تاریخ مقرر کی ہے۔ منصوبے کی پہلی بار منظوری کے صرف ۱۵؍ ماہ بعد اسے منصوبہ بندی کے مرحلے سے تعمیر کے مرحلے میں منتقل کردیا گیا ہے۔سی آر آر سی نے اس توسیع کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یروشلم اور اس کے فلسطینی اطراف کے درمیان جدائی کو مزید گہرا کرنا ہے۔وخاف یعقوب کی اسرائیلی بستی شمالی یروشلم اور رام اللہ و البیرہ کے جڑواں شہروں کے درمیان واقع ہے اور یہ ان بستیوں کے ایک مجموعے کا حصہ ہے جسے اسرائیل بنیامین کے نام سے چلاتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK