• Fri, 04 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈی جے کی مخالفت کرنے والے سماجی کارکن پر حملہ

Updated: September 04, 2026, 1:39 PM IST | Agency | Pune

پونے میں ’ ڈی جے فری‘ گنپتی کی تجویز پیش کرنے والے ودیانند باپٹ کو کیمرے کے سامنے تھپڑ مارا گیا، ملزم گرفتار، باپٹ کو سیکوریٹی۔

Police escorting Vidyanand Bapat to safety. Picture: Agency
پولیس ودیانند باپٹ کو بچاکر لے جاتی ہوئی۔ تصویر : ایجنسی

گنیش اتسو کے دوران ڈی جے بجانے کی مخالفت کرنے والے پونے کے سماجی کارکن ودیانند باپٹ پر جمعرات کو ایک شخص نے حملہ کر دیا۔ وہ گنیش اتسو اور ڈی جے کے پس منظر ہی میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، اس دوران کیمرے کے سامنے ہی  ان پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے حملہ آور پر معاملہ درج کر لیا گیا ہے اور باپٹ کو سیکوریٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے:۶۰؍ فیصد غزہ پر ہمارا قبضہ ہے، مزید توسیع کریں گے: اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کی شرانگیزی

یاد رہے کہ ودیانند باپٹ ایک سماجی کارکن ہیں جو پونے میں لگاتار تہواروں میں ڈی جے بجانے کے خلاف مہم چلا رہے ہیں ۔ گزشتہ دنوں پونے میونسپل کارپوریشن کے دفتر میں گنپتی کی تیاریوں کے تعلق سے ایک میٹنگ منعقد کی گئی تھی جس میں تمام گنیش منڈل کے عہدیداروں کے علاوہ سماجی کارکنان نے بھی حصہ لیا تھا۔ اس میں ودیانند باپٹ بھی موجود تھے۔ وہاں بھی باپٹ نے ’ ڈی جے فری‘ گنپتی کی تجویز پیش کی تھی جس پر گنیش منڈلوں کے عہدیدار برہم ہو گئے تھے اور انہیں میٹنگ سے نکال باہر کیاگیا تھا۔ وہ سوشل میڈیا اور دیگر پلیٹ فار م پر ڈی جے کے خلاف مہم چلاتے رہتے ہیں۔ جمعرات کو اسی تعلق سے وہ پونے کے تلک نگر روڈ پر میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے، تبھی سنتوش چوہان نامی ایک شخص آیا اور اس نے باپٹ پر حملہ کر دیا۔ اس کا کہنا تھا ’ یہ ناستک ( ملحد) ہے‘ ۔ میڈیا اہلکاروں نے خود مداخلت کی اور کسی طرح باپٹ کو بچایا گیا۔ جبکہ سنتوش چوہان وہاں سے فرار ہو گیا۔

چونکہ یہ پورا واقعہ کیمرے کے سامنے پیش آیا تھا اسلئے جلد پورے مہاراشٹر کو اس کی خبر لگ گئی۔ آناً فاناً میں پولیس بھی حرکت میں آئی۔ سنتوش چوہان نے اپنا فون سوئچ آف کر دیا اور روپوش ہو گیا مگر پولیس کو معلوم ہو گیا کہ وہ ہنومان نگر علاقے میں اپنے کچھ دوستوں سے ملنے گیا ہے۔ آخر کار پو لیس نے اسے گرفتار کر لیا۔ معلوم ہوا کہ سنتوش کا مجرمانہ ریکارڈ ہے اور اس پر پہلے ہی سے ۵؍ یا ۶؍ معاملے درج ہیں۔ وہ رائوت واڑی میں گنیش منڈل کا صدر ہے۔

یہ بھی پڑھئے:یہودی آباد کاروں کے تشدد کے سبب دنیا ہمیں غنڈہ ومجرم سمجھنے پر مجبور: پولیس چیف

 اس دوران پونے پولیس کمشنر امیتیش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ سنتوش چوہان کے خلاف غیر ضمانتی دفعات کے تحت معاملہ درج کیا گیا ہے اور اسے عدالت میں پیش  کرکے اس کی پولیس تحویل حاصل کی جائے گی۔ نیز ودیانند باپٹ کو اگلے ۲۴؍ گھنٹوں تک کیلئے سیکوریٹی فراہم کی گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کسی بھی سماجی کارکن یا میڈیا نمائندوں پر اس طرح کے حملے کو برداشت نہیں کیا جائے گا اور فوری کارروائی کی جائے گی۔ اس دوران پولیس نے شہر کے تمام گنیش منڈلوں کے عہدیداروں کی ایک ہنگامی میٹنگ طلب کی اور انہیں انتباہ دیا کہ شہر میں کسی بھی طرح سے قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کی گئی تو پولیس کارروائی کرے گی۔ ساتھ ہی انہیں عدالت کی مقرر کر دہ حد کے مطابق ڈی جے کی آواز رکھنی ہوگی اور قانون کو توڑا گیا تو پولیس قانونی کارروائی کرے گی۔ کہا جا رہا ہےکہ تمام گنیش منڈلوں نے پولیس کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہر طرح سے قانون کی پاس داری کریں گے اور اپنے تمام کارکنان کو کسی بھی غیر قانونی حرکت میں ملوث نہ ہونے کی تلقین کریں گے۔ خود باپٹ نے کہا کہ پولیس کو حملہ آور کو لاک اپ میں لے جا کر اس کی پٹائی کرنی چاہئے۔ جب تک پولیس ایسا نہیں کرے گی اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئے گی کہ نظریات کا جواب تشدد سے نہیں دیا جاتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK