Inquilab Logo Happiest Places to Work

مغربی بنگال: مڈڈے میل سے انڈا ہٹایا گیا،’’اسکان‘‘ کو کانٹریکٹ دینے کے بعد فیصلہ

Updated: June 24, 2026, 5:05 PM IST | Kolkata

مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا کے سرکاری اور امدادی اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے تحت دیے جانے والے کھانے سے انڈے ہٹانےکا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ اس اسکیم کے تحت کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری ہندوتوا سے وابستہ بین الاقوامی سوسائٹی فار کرشنا کانشئسنس (اِسکان) کو سونپنے کے بعد کیا گیا۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

مغربی بنگال حکومت نے کولکاتا کے سرکاری اور امدادی اسکولوں میں مڈ ڈے میل کے تحت دیے جانے والے کھانے سے انڈے ہٹانےکا فیصلہ کیا ہے، یہ فیصلہ اس اسکیم کے تحت کھانا فراہم کرنے کی ذمہ داری ہندوتوا سے وابستہ بین الاقوامی’’ سوسائٹی فار کرشنا کانشئسنس‘‘ (اِسکان) کو سونپنے کے بعد کیا گیا۔ ناقدین اس اقدام کو بچوں کی غذائیت سے سمجھوتہ کرنے اور سبزی خور غذائی طریقوں کو مسلط کرنے کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
نئے انتظامات کے تحت، اِسکان کے ذیلی ادارے اننمترا فاؤنڈیشن کے تیار کردہ کھانے سختی سے سبزی خور مینو پر عمل کریں گے۔اس فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے، اِسکون کولکاتا کے ترجمان رادھارمن داس نے کہا کہ کھانے میں انڈے شامل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے بجائے پروٹین سے بھرپور متبادل جیسے پنیر، راجما، سویابین، دالیں اور دیگر سبزی خور اجزاء شامل ہوں گے۔داس نے مزید کہا کہ اِسکان ریاستی حکومت سے اسکولوں کی فہرست کا انتظار کر رہا ہے اور کھانے تیار کرنے اور تقسیم کرنے کے لیے باورچی خانے قائم کرے گا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ تنظیم پہلے ہی آٹھ سے زیادہ ریاستوں اور۲۲؍ شہروں میں اسی طرح کے مڈ ڈے میل پروگرام چلاتی ہے، جو ملک بھر میں تقریباً ۱۲؍ لاکھ طلباء کو کھانا فراہم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’حکومت کسانوں سے کئے گئے سارے وعدے بھول چکی ہے ‘‘

واضح رہے کہ مغربی بنگال میں موجودہ نظام کے تحت، طلباء کو عام طور پر ہفتے میں ایک بار انڈا دیا جاتا ہے، جبکہ دیگر اسکولی دنوں میں چاول، دال اور آلو کی سبزی کا معمول کا کھانا دیا جاتا ہے۔ کچھ اسکولوں میں اساتذہ کے ذریعے جمع کی گئی اضافی رقم سے کبھی کبھار چکن یا مچھلی بھی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ جو طلباء انڈے نہیں کھاتے انہیں متبادل اختیارات دیے جاتے ہیں۔تاہم، نیا انتظام موجودہ مینو کو مکمل طور پر سبزی خور مینو سے بدل دے گا۔اس اقدام نے خاص طور پر اس لیے تنقید کو جنم دیا ہے کہ اِسکان سے منسلک اکشے پاترا فاؤنڈیشن، جو کرناٹک اور اودیشہ سمیت ریاستوں میں سرکاری مڈ ڈے میل پروگراموں کو نافذ کرتی ہے، اس سے قبل خوراک کے حق کے کارکنوں کی طرف سے مخالفت کا سامنا کر چکی ہے کیونکہ اس نے تنظیم کی مذہبی روایات کے مطابق اسکولی کھانوں سے انڈے، پیاز اور لہسن کو خارج کر دیا تھا۔اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے، ترنمول کانگریس کے راجیہ سبھا ایم پی ڈیرک اوبرائن نے بی جے پی پر الزام لگایا کہ اس نے اسکولی کھانوں سے انڈے نکال کر بچوں کو غذائیت سے محروم کر دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ پارٹی ’’سبزی خوری مسلط کر رہی ہے‘‘ اور کہا کہ مغربی بنگال اسے مسترد کرتا ہے۔
اس کے علاوہ سینئر ایڈووکیٹ سنجوئے گھوش نے بھی اس اقدام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی "کو سیاسی مخالفین پر انڈے پھینکناہے لیکن بنگال کے بچوں کو مڈ ڈے میل میں کھلانا نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ عجیب بات ہے کہ وزیراعلیٰ اِسکان کے سبزی خور کھانے کے پروگرام کو متعارف کراتے ہوئے سوامی ویویکانند کو بطور الہام پیش کرتی ہیں، جبکہ ویویکانند ’’سخت گوشت خور‘‘ تھے جو مچھلی اور گوشت پسند کرتے تھے اور اکثر اپنے شاگردوں کے لیے خود پکاتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ کا بنگال سرکار کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی اپیل پر سماعت سے انکار

بعد ازاں یہ اعلان ریاستی وزیر خزانہ سواپن دیبناتھ کی پیر کو بجٹ تقریر کے بعد کیا گیا، جس میں انہوں نے کہا کہ اِسکان کولکاتا میونسپل کارپوریشن کے اسکولوں میں پکا ہوا کھانا فراہم کرے گا۔ انہوں نے پرائمری اسکولوں کے مڈ ڈے میل کے لیے مادی لاگت میں فی طالب علم۶۳  روپے  ۷۰؍ پیسےسے ۱۰؍روپے تک اضافے کا بھی اعلان کیا، جبکہ اپر پرائمری طلباء کے لیے مختص رقم فی طالب علم ۱۰؍ روپے  ۲۰؍ پیسےپر برقرار رہے گی۔
یاد رہے کہ نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ،۲۰۱۳ء کے تحت، کلاس ہشتم تک کے طلباء کے لیے پکا ہوا مڈ ڈے میل ایک قانونی حق ہے، جس میں مقررہ غذائی معیارات شامل ہیں، جس میں فی کھانے میں کم از کم ۴۵۰؍کیلوریز اور۸؍ سے۱۲؍ گرام پروٹین شامل ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK