ویسٹرن ریلوے کے سینئر موٹر مین محمدمحسن خان کا حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا ۔جس وقت انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا ،ان کی عمر ۴۸؍سال تھی ۔ان کی تدفین ملاڈ کے سومواری بازار قبرستان میں بدھ کو ظہر کی نماز کے بعد ہوئی ۔
محمدمحسن خان- تصویر:آئی این این
ویسٹرن ریلوے کے سینئر موٹر مین محمدمحسن خان کا حرکت قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوگیا ۔جس وقت انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا ،ان کی عمر ۴۸؍سال تھی ۔ان کی تدفین ملاڈ کے سومواری بازار قبرستان میں بدھ کو ظہر کی نماز کے بعد ہوئی ۔ مرحوم کےپسماندگان میں بیوہ ، ایک بیٹی اورایک بیٹا شامل ہیں۔
محسن خان کی طبیعت ٹھیک ٹھاک تھی ، وہ پوری طرح ہشاش بشاش تھےاور حسبِ معمول منگل کی صبح چرچ گیٹ میں ڈیوٹی کیلئے آئے۔ انہیںگوریگاؤںسے سی ایس ایم ٹی کیلئے ٹرین چلاکرلے جانا تھا، ابھی وہ مرین لائنس اسٹیشن پہنچے تھے کہ ان کے سینے میں درد شروع ہوگیا تو انہوں نے ڈیوٹی مقرر کرنے والے اہلکار کو فون پر اپنی کیفیت بتائی۔ اس کے بعد وہ گرانٹ روڈ اسٹیشن پر اتر کر بنچ پر لیٹ گئے۔کسی مسافر نے اسٹیشن ماسٹر کو اطلاع دی تواسٹیشن ماسٹرپہنچے اور انہوں نے محسن خان کو فوری طورپر جگجیون رام اسپتال (ممبئی سینٹرل) بھجوایا۔ وہاںان کا علاج شروع ہوا مگر افاقہ نہ ہوا اوران کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
محسن خان صوم وصلوٰۃ کے پابند ،نیک ،خلیق اورملنسار انسان تھے۔ انہوںنے’خلق ‘نام سے تنظیم بھی قائم کی تھی جس کے ذریعے وہ اپنے رفقاء کے ہمراہ ضرورتمندوں کی حاجت روائی کیا کرتے تھے۔ ان کا آبائی وطن الٰہ آباد تھا ۔ ان کےوالد اورننیہالی رشتہ داروں میںکئی لوگ ریلوے میں ملازمت کرچکے ہیں۔ مرحوم سے متعلق رمضان المبارک میں ڈیوٹی اورروزہ وتراویح کے اہتما م کے ساتھ دیگر تفصیلات روزنامہ انقلاب میںشائع کی جاچکی ہیں ۔ محسن خان کی علالت ،انتقال اورتدفین وغیرہ کی تفصیلات ان کی رشتہ دارفاطمہ انصاری اورکھار ریلوے اسٹیشن کےاسٹیشن ماسٹر اشفاق شیخ نے فراہم کی ہیں۔