Inquilab Logo Happiest Places to Work

وہائٹ ہاؤس کے باہرفلسطین حامی مظاہرین کا نیتن یاہو کے دورے کے خلاف احتجاج

Updated: July 28, 2026, 9:08 PM IST | Washington

وہائٹ ہاؤس کے باہرفلسطین حامی مظاہرین نے نیتن یاہو کے دورے کے خلاف احتجاج کیا، انہوں نے فلسطین کے جھنڈے لہرائے، ساتھ ہی انہوں نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر تنقید کرنے والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

فلسطین حامی مظاہرین پیر کو وہائٹ ہاؤس کے باہر اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کے واشنگٹن دورے کے احتجاج میں جمع ہوئے، جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے ان کی طے شدہ ملاقات سے قبل تھا۔فلسطینی جھنڈے لہراتے ہوئے، مظاہرین نے اسرائیل کے لیے امریکی حمایت پر تنقید کرنے والے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ان پلے کارڈ پر  موجود پیغامات میں ’’امریکا / اسرائیل جنگی مشین کو روکو،‘‘، ’’اسرائیل کے واشنگٹن پر کنٹرول کو بے نقاب کرو،‘‘ اور ’’فلسطینی انسانی حقوق بھی اہم ہیں‘‘ شامل تھے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اپیل عدالت نے ٹرمپ کا وفاقی ووٹر فہرست منصوبہ ۲۳؍ریاستوں میں روک دیا

واضح رہے کہ یہ احتجاج اس وقت ہوا جب نتن یاہو منگل کو وہائٹ ہاؤس میں ٹرمپ سے مذاکرات کے لیے واشنگٹن ڈی سی پہنچے۔یہ نتن یاہو کی صدر کے دوسری مدت کے لیے منتخب ہونے کے بعد ٹرمپ کے ساتھ آٹھویں ملاقات ہوگی۔ٹرمپ سے ملاقات کے بعد، نتن یاہو ریپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کی یادگاری تقریب  میں شرکت کریں گے، جو اسرائیل کے دیرینہ حامی تھے۔ ذہن نشین رہے کہ امریکہ طویل عرصے سے غزہ کی پٹی میں اسرائیل کی جنگ میں حمایت فراہم کرنے پر تنقید کا نشانہ بن رہا ہے، جہاں۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ء سے اسرائیل کی جانب سے نسل کشی کی جنگ شروع کرنے کے بعد سے ۷۳؍ ہزار سے زیادہ افراد، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں، شہیدجا چکے ہیں۔اس کے علاوہ غزہ کا شہری نظام تباہ کردیا گیا، اور رہائشی علاقوں میں بمباری کرکے عملاً پوری آبادی کو بے گھر کردیا۔ اس کے باوجود امریکہ کی جانب سے اسرائیل کی کھلی حمایت عوامی ناراضگی کا سبب بن رہی ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: عرب لیگ کا انتباہ: مشرقِ وسطیٰ ’دھماکہ خیز لمحے‘ کے قریب، ٹرمپ سے اسرائیل کو لگام دینے کا مطالبہ کیا

بین عدالت انصاف نے نیتن یاہو کو جنگی مجرم قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کئے ہیں۔ بعد ازاں انصاف پسند امریکیوں کی جانب سے نیتن یاہو کو امریکہ آمد پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا جا رہاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK