Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ: انسانی امداد کی جزوی بحالی کے باوجود علاقے میں طبی سامان کی شدید قلت: ڈبلیو ایچ او کی وارننگ

Updated: March 07, 2026, 10:25 PM IST | Gaza

غزہ کے اسپتالوں میں ضروری ادویات، ٹراما سپلائیز اور جراحی میں استعمال ہونے والے سامان کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔ ایندھن کی قلت بھی اسپتالوں کو متاثر کر رہی ہے۔ اگر امداد میں اضافہ نہ ہوا تو بچا کھچا سامان بھی جلد ختم ہوسکتا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

اقوامِ متحدہ کی ایجنسی، عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں انسانی امداد کی ترسیل کے لئے اس ہفتے ایک اہم گزرگاہ کے کھولے جانے کے باوجود محصور فلسطینی علاقے میں طبی سامان کی کمی انتہائی خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ ڈبلیو ایچ او کی ریجنل ڈائریکٹر حنان بلخی نے غزہ کی وزارتِ صحت کے اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ علاقے کے کچھ طبی مراکز میں پٹیاں اور سوئیاں جیسی بنیادی اور ضروری اشیاء پہلے ہی ختم ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ادویات، ٹراما سپلائیز اور جراحی کے آلات کے ذخائر بھی ختم ہونے کے قریب ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ: فلسطینی باشندے نئی علاقائی جنگ کے متعلق خدشات میں مبتلا، مزید تنازعات میں گِھر جانے سے خائف

حنان بلخی نے جمعہ کو کہا کہ ”غزہ کے اسپتالوں میں ضروری ادویات، ٹراما سپلائیز اور جراحی میں استعمال ہونے والے سامان کے ذخائر تشویشناک حد تک کم ہوگئے ہیں۔“ انہوں نے مزید کہا کہ ایندھن کی قلت بھی اسپتالوں کے افعال کو متاثر کر رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امداد میں اضافہ نہ ہوا تو بچا کھچا سامان بھی جلد ختم ہوسکتا ہے۔

غزہ تک امداد کی رسائی کے امور کی نگرانی کرنے والی اسرائیلی فوجی ایجنسی نے انسانی امداد کی بتدریج آمد کے لئے اس ہفتے کے اوائل میں ’کریم ابو سالم‘ گزرگاہ کو دوبارہ کھولا تھا۔ یہ گزرگاہ ایران کے خلاف اسرائیل اور امریکہ کی مشترکہ فوجی کارروائیوں کے بعد پیدا ہونے والی علاقائی کشیدگی اور سلامتی خدشات کی بنا پر پہلے بند کر دی گئی تھی۔ تاہم، رفح گزرگاہ، جو شہریوں اور بیرونِ ملک علاج کے خواہشمند مریضوں کے لئے غزہ کا بنیادی خارجی راستہ ہے، اب بھی بند ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، اس بندش کی وجہ سے طبی بنیادوں پر مریضوں کا انخلاء رک گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپی قانون سازوں کا انتباہ، اسرائیل ایران جنگ کو بطور ڈھال استعمال کرسکتا ہے

غزہ کے نصف اسپتال بند

دو سال سے زائد عرصے سے جاری تنازع کے بعد غزہ کا نظامِ صحت اب بھی مشکلات کا شکار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق، محصور فلسطینی علاقے کے ۳۶ اسپتالوں میں سے نصف تاحال بند ہیں، جبکہ جو اسپتال فعال ہیں وہ شدید دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ ان اسپتالوں کو سامان اور ایندھن کی شدید قلت کی وجہ سے سرجری، ڈائیلاسز اور انتہائی نگہداشت کے مراکز (آئی سی یو) جیسی ضروری خدمات کو برقرار رکھنے کے لئے سخت جدوجہد کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کا تخمینہ ہے کہ زخمی بچوں اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں سمیت تقریباً ۱۸ ہزار فلسطینی اس وقت غزہ سے باہر فوری طبی امداد حاصل کرنے کے لئے انخلاء کا انتظار کر رہے ہیں۔ اس ہفتے کے آغاز میں کچھ طبی سامان اور ایندھن غزہ میں داخل ہوا ہے لیکن امداد کی یہ مقدار ضرورت سے نہایت کم ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امدادی تنظیموں کی اسرائیلی عدالت سے فلسطین میں کام پر پابندی ختم کرنے کی اپیل

بلخی کے مطابق، اس وقت روزانہ صرف ۲۰۰ کے قریب امدادی ٹرک غزہ میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے تخمینہ کے مطابق، علاقے کی دو لاکھ سے زائد ابادی کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے یومیہ تقریباً ۶۰۰ ٹرکوں کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK