• Tue, 01 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اے آئی کے استعمال میں جین زی سب سے آگے مگر مستقبل کے اثرات سے فکرمند بھی:رپورٹ

Updated: August 31, 2026, 10:01 PM IST | New Delhi

مصنوعی ذہانت کے بڑھتے استعمال نے ملازمتوں کے مستقبل، خصوصاً نوجوانوں کےکریئر، کے حوالے سے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ ایک نئی تحقیق کے مطابق جین زی کارکن اے آئی ٹولز کے استعمال میں سب سے آگے ہیں، مگر اس کے مستقبل کے اثرات سے سب سے زیادہ فکرمند بھی یہی نسل ہے۔

Photo: INN.
تصویر: آئی این این۔

مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کے باعث ملازمتوں کے مستقبل پر بڑھتی ہوئی تشویش کے درمیان’’ Glassdoor‘‘ کی ایک نئی تحقیق میں دلچسپ نسلی فرق سامنے آیا ہے۔ تحقیق کے مطابق’ جین زی‘ کے کارکن دیگر عمر کے کارکنوں کے مقابلے میں اے آئی ٹولز کا زیادہ استعمال کرتے ہیں، لیکن وہ اے آئی کے مستقبل کے اثرات کے بارے میں نسبتاً زیادہ فکرمند بھی ہیں۔ تحقیق کے مطابق۴۰، ۵۰ ؍اور۶۰؍ سال کی عمر کے کارکن اے آئی کے بارے میں نسبتاً زیادہ مثبت رائے رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس جین زی کارکنوں میں اے آئی کے بارے میں زیادہ محتاط اور منفی رویہ پایا گیا ہے، حالانکہ یہی نسل اے آئی ٹولز استعمال کرنے میں سب سے آگے ہے۔ 
’’Glassdoor ‘‘ کے مطابق جین ایکس کے تقریباً نصف کارکن اپنی کمپنیوں میں اے آئی کے استعمال کے بارے میں مثبت خیالات رکھتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں جین زی کے تقریباً ایک تہائی کارکن اے آئی کو اسی انداز میں نہیں دیکھتے۔ تاہم دونوں نسلوں کی اکثریت اب بھی اے آئی کے اثرات پر تنقیدی نظر رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اب کھونے کیلئے کچھ نہیں: مودی کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرنے والی رچیکا سنگھ

نوجوانوں کی ملازمتیں زیادہ متاثر ہونے کا خدشہ
ماہرین کے مطابق جین زی کی تشویش کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ اے آئی سے متاثر ہونے والی ملازمتوں میں ابتدائی سطح (entry-level) کی نوکریاں پہلے متاثر ہو سکتی ہیں۔ اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرینِ معاشیات کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے شعبوں میں ۲۲؍ سے۲۵؍ سال کے کارکنوں کی ملازمتوں کی سطح، کم متاثر ہونے والے شعبوں کے نوجوان کارکنوں کے مقابلے میں ۱۹؍ فیصد کم رہی۔ گزشتہ سال یہی فرق ۱۳؍فیصد تھا۔ 
’’Glassdoor ‘‘ کے سینئر ماہرِ معاشیات کرس مارٹن کے مطابق یہ تصور اب تک درست ثابت نہیں ہوا کہ نئی ٹیکنالوجی اپنانے میں عمر رسیدہ کارکنوں کی ہچکچاہٹ انہیں ملازمتوں میں غیر متعلق بنا دے گی۔ ان کے مطابق زیادہ تجربہ رکھنے والے کارکن فی الحال نسبتاً زیادہ محفوظ پوزیشن میں ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۰۷ء۲؍ کروڑ ووٹر مستقل طور پر خارج نہیں ہوئے: چیف الیکٹورل افسر

تجربہ کار کارکن اے آئی سے زیادہ فائدہ اٹھا رہے ہیں 
’’Glassdoor ‘‘ کے تجزیے کے مطابق۴۰؍ سال سے زیادہ عمر کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی کمپنیاں اے آئی سے پیدا ہونے والے مواقع سے فائدہ اٹھانے کی بہتر پوزیشن میں ہیں۔ کئی کارکنوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کے مالکان انہیں ’’ Generative AI‘‘ ٹولز آزمانے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں۔ تحقیق کے مطابق تجربہ کار کارکن Large Language Models (LLMs) سے بہتر نتائج حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، کیونکہ وہ زیادہ درست prompts لکھ سکتے ہیں اور اے آئی کی جانب سے پیدا ہونے والی غلط یا فرضی معلومات کو زیادہ آسانی سے پہچان سکتے ہیں۔ اسی دوران تجربہ رکھنے والے کارکنوں کیلئے ملازمتوں کے مواقع میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے۔ ’’Indeed‘‘ کے اعداد و شمار کے مطابق مئی۲۰۲۶ء تک سینئر سطح کی ملازمتوں کے اشتہارات میں سالانہ بنیاد پر۱۴ء۷؍ فیصد اضافہ ہوا، جبکہ entry-level ملازمتوں کے اشتہارات میں ۳ء۶؍ فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: من کی بات: وزیراعظم نے ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں مددگار کوششوں کا ذکر کیا

اے آئی استعمال میں جین زی سب سے آگے
ملازمتوں پر اے آی کے ممکنہ منفی اثرات کے خدشات کے باوجود نوجوان کارکن اے آئی کا استعمال ترک نہیں کر رہے۔ Deloitte کی ایک تحقیق کے مطابق جین زی کے تین چوتھائی سے زیادہ افراد نے الگ سے دستیاب اے آئی ٹولز استعمال کئے ہیں، جبکہ جین ایکس میں یہ تعداد ایک تہائی سے کچھ زیادہ ہے۔ اے آئی صنعت میں کسٹمر سپورٹ، ریسرچ اورمارکیٹنگ کے مواد کی تیاری جیسے ابتدائی سطح کے کاموں کو خودکار بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ یہی تبدیلی نوجوان کارکنوں میں اس خدشے کو بڑھا رہی ہے کہ جن ملازمتوں سے وہ اپنے کریئر کا آغاز کرتے، وہ مستقبل میں اے آئی کے ذریعے انجام دی جا سکتی ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK