Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی معیشت پر جنگ کے گہرے اثرات، عالمی بینک سربراہ کا انتباہ

Updated: April 11, 2026, 10:05 PM IST | New York

ورلڈ بینک کے صدر اجے بنگا نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی معیشت کو شدید متاثر کرے گی، چاہے عارضی جنگ بندی برقرار ہی کیوں نہ رہے۔ ان کے مطابق عالمی نمو میں ۳ء۰؍ سے ایک فیصد تک کمی آ سکتی ہے جبکہ افراط زر میں نمایاں اضافہ ممکن ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ جنگ بندی کو نازک قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر تنازع دوبارہ بڑھا تو اثرات مزید گہرے ہوں گے۔

World Bank President Ajay Banga. Photo: INN
عالمی بینک کے صدر اجے بنگا۔ تصویر: آئی این این

عالمی بینک کے صدر اجے بنگا نے مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ یہ تنازع عالمی اقتصادی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکا ہے، حتیٰ کہ اگر عارضی جنگ بندی برقرار بھی رہے۔ اجے بنگا نے کہا کہ ’’اصل سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ جنگ بندی اور اس ہفتے ہونے والے مذاکرات ایک دیرپا امن کی طرف لے جائیں گے اور کیا اس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے گا یا نہیں؟‘‘

یہ بھی پڑھئے: پاکستان: اسلام آباد مذاکرات شروع، لبنان میں اسرائیلی حملے

انہوں نے مزید کہا کہ ’’اگر ایسا نہیں ہوتا اور تنازع دوبارہ شدت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر کہیں زیادہ گہرے اور طویل مدتی ہو سکتے ہیں۔‘‘ ان کے مطابق اگر جنگ جلد ختم ہو جاتی ہے تو ایک بنیادی منظرنامے میں عالمی اقتصادی نمو میں ۳ء۰؍ فیصد سے ۴ء۰؍ فیصد پوائنٹ تک کمی آ سکتی ہے جبکہ تنازع برقرار رہنے کی صورت میں یہ کمی ایک فیصد پوائنٹ تک پہنچ سکتی ہے۔ اجے بنگا نے افراط زر کے حوالے سے بھی خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جنگ کے تسلسل کی صورت میں مہنگائی میں ۲۰۰؍ سے ۳۰۰؍ بیس پوائنٹس تک اضافہ ممکن ہے، جو مجموعی طور پر تقریباً ۹ء۰؍  فیصد پوائنٹ تک اثر ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ’’اس جنگ کے اثرات صرف توانائی تک محدود نہیں بلکہ اس نے عالمی سپلائی چین کو بھی متاثر کیا ہے۔ تیل کی قیمتوں میں تقریباً ۵۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے، جبکہ گیس، کھاد، ہیلیم اور دیگر اشیا کی فراہمی بھی متاثر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سیاحت اور فضائی سفر پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔‘‘
خیال رہے کہ اجے بنگا کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کو غیر مستحکم قرار دیا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیل اور ایران کے درمیان حملے مکمل طور پر نہیں رکے اور صورتحال بدستور کشیدہ ہے۔ ایران نے جمعہ کو مطالبہ کیا کہ اس کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں اور پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات سے قبل لبنان میں بھی جنگ بندی کو یقینی بنایا جائے۔ دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکی جنگی جہازوں کو دوبارہ مکمل طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ناقد صحافیوں اور تجزیہ کاروں کو ٹرمپ نے احمق و ذہنی مریض قرار دیا

اجے بنگا نے مزید بتایا کہ عالمی بینک پہلے ہی کئی ترقی پذیر ممالک کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ انہیں اس بحران سے نمٹنے میں مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر چھوٹے جزیرہ نما ممالک، جن کے پاس قدرتی توانائی کے وسائل محدود ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ بقول اجے بنگا، ’’ہم مختلف ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں تاکہ موجودہ پروگراموں کے تحت فنڈز کو بحران سے نمٹنے کے لیے استعمال کیا جا سکے، خاص طور پر ’کرائسز ریسپانس ونڈوز‘ کے ذریعے۔‘‘ عالمی بینک کے سربراہ کے مطابق، آئندہ چند ہفتے اس بحران کے رخ کا تعین کریں گے، اور یہ فیصلہ کن ہوگا کہ عالمی معیشت ایک بڑے جھٹکے سے بچ پاتی ہے یا نہیں؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK