Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ریکس ڈائنوسار کےلیدر سے بنا پہلا ہینڈ بیگ ۵ ؍کروڑ روپے سے زائد میں نیلام ہوگا

Updated: April 06, 2026, 4:02 PM IST | London

تقریباً چھ کروڑ سال بعد ٹائرانوسورس ریکس ( ٹی ریکس) ایک منفرد انداز میں واپس آیا ہے۔ لیبارٹری میں تیار شدہ لیدر سے بنایا گیا لگژری ہینڈ بیگ۔ یہ بیگ ایمسٹرڈیم کے آرٹ زو میوزیم میں نمائش کیلئے پیش کیا گیا ہے اور بعد میں نیلامی کیلئے جائے گا۔

This handbag, on display at the Art Zoo Museum in Amsterdam, is placed in a cage on a rock. Photo: INN
ایمسٹرڈیم کے آرٹ زو میوزیم میں نمائش کیلئے موجود یہ ہینڈ بیگ ایک پنجرے میں چٹان پر رکھا گیا ہے۔ تصویر: آئی این این

چھ کروڑ ساٹھ لاکھ سال بعد جب آخری ٹائرانوسورس ریکس ( ٹی ریکس)زمین پر چلتا تھا، یہ قدیم شکاری ایک غیر متوقع انداز میں واپس آیا ہے، ایک لگژری ہینڈ بیگ کی صورت میں ۔ سائنسدانوں اور ڈیزائنرز نے ایک ایسے منصوبے کے تحت ہینڈ بیگ پیش کیا ہے جس میں ٹائرانوسورس ریکس کے فوسلز سے حاصل کردہ کولیجن استعمال کیا گیا ہے، تاکہ لیبارٹری میں تیار کردہ لیدر کی صلاحیت کو ظاہر کیا جا سکے۔ یہ سبز مائل (ٹیل رنگ کا) بیگ اس وقت ایمسٹرڈیم کے آرٹ زو میوزیم میں نمائش کیلئے رکھا گیا ہے، جہاں اسے ایک پنجرے میں چٹان پر رکھا گیا ہے اور اس کے اوپر ٹی ریکس کی نقل موجود ہے۔ یہ۱۱؍ مئی تک نمائش میں رہے گا، جس کے بعد اسے نیلامی کیلئے پیش کیا جائے گا۔ اس کی ابتدائی قیمت ۵؍ لاکھ ڈالر (تقریباً ۵؍کروڑ روپے) سے زیادہ بتائی جا رہی ہے۔ 
یہ بیگ، جس پر اسٹرلنگ سلور اور سیاہ ہیروں کی سجاوٹ کی گئی ہے، فیشن ہاؤس Enfin Levé نے ڈیزائن کیا ہے۔ ۱۰؍ بائی ۱۵؍سینٹی میٹر کے ایک چھوٹے ٹکڑے کی قیمت کا اندازہ ۱۰؍ ہزار سے۲۰؍ ہزار یورو کے درمیان لگایا گیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کا پائلٹ کی ماں کو جواب: آپ کے بیٹے ٹرمپ کے ماتحت زیادہ خطرے میں ہیں

سائنس نے لیدر کی شکل میں ڈائناسور کو کیسے ’زندہُ‘ کیا 
یہ بایومیٹیریل کریئیٹو ایجنسی وی ایم ایل نے’آرگنائڈ کمپنی‘( Organoid Company )اورلیب گرون لیدر لمیٹڈ کے ساتھ مل کر تیار کیا۔ سائنسدانوں نے پہلے امریکہ میں ملنے والے ٹائرانوسورس ریکس کے فوسلز سے کولیجن کے باقیات حاصل کئے، پھر نامکمل جینیاتی معلومات کو مکمل کر کے ایک مکمل کولیجن بلیوپرنٹ بنایا۔ اس کے بعد اس مصنوعی ڈی این اے کو ایک نامعلوم ’کیریئر‘ جانور کے خلیے میں داخل کیا گیا، جہاں سے کولیجن پیدا کیا گیا اور اسے لیدر میں تبدیل کیا گیا۔ ٹیم کا کہنا ہے کہ یہ مواد ساخت کے لحاظ سے روایتی لیدر جیسا ہے، لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قابلِ شناخت (traceable)، بایوڈیگریڈیبل، ظلم سے پاک (cruelty-free) اور ماحول دوست ہے۔ 
لیب گرون لیدر لمیٹڈکے سی ای او چی کونن نے اس مواد کے امکانات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ صرف لیدر کا ماحول دوست متبادل نہیں بلکہ ایک ٹیکنالوجیکل اپ گریڈ ہے۔ آرٹ زو میوزیم کے کیوریٹر یاکوپو بریانڈ نے بھی اس بیگ کی نیلامی کی قدر کے بارے میں کہا ’’اتنی منفرد چیز کی قیمت کی کوئی حد نہیں ہوتی۔ ‘‘ انہوں نے اسے پہلے ایپل کمپیوٹر یا پہلے برکن بیگ سے تشبیہ دی، جو حال ہی میں ایک کروڑ یورو میں فروخت ہوا۔ وی ایم ایل کے چیف کریئیٹو آفیسر باس کورسٹن نے کہا ’’یہ کم از کم دس برکن بیگز جتنی قیمت میں فروخت ہوگا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: غیرقانونی آبادکاروں کا مغربی کنارے میں حملہ، ۱۰؍فلسطینی زخمی، کئی گھر نذر آتش

سائنسدانوں کا ‘ٹی ریکس لیدر’ دعوے پر اعتراض
تاہم، ہر کوئی اس دعوے سے متفق نہیں ۔ وریجے یونیورسٹی ایمسٹرڈیم کی میلانی ڈیورنگ کے مطابق، ڈائناسور کی ہڈیوں میں کولیجن صرف ٹکڑوں کی صورت میں باقی رہتا ہے، جو اصل جلد یا لیدر بنانے کیلئے کافی نہیں ۔ اسی طرح، یونیورسٹی آف میری لینڈ کے تھامس آر ہولٹز جونیئر کا کہنا ہے کہ فوسلز میں ملنے والا کولیجن ہڈیوں کے اندر سے ہوتا ہے، جلد سے نہیں ، اور اس میں وہ ساختی خصوصیات نہیں ہوتیں جو قدرتی لیدر بنانے کیلئے ضروری ہیں ۔ آرگنائڈ کمپنی کے سی ای او تھامس مچل نے اس تنقید کو تسلیم کرتے ہوئے کہا ’’جب آپ پہلی بار کوئی نئی چیز کرتے ہیں تو تنقید لازمی ہوتی ہے، اور ہم اس کے شکر گزار ہیں ۔ ‘‘ انہوں نے اسے معدوم انواع سے متاثر ہو کر مواد بنانے کی اب تک کی سب سے قریب کوشش قرار دیا۔ اگرچہ یہ پہلا ٹکڑا منفرد ہے، لیکن ٹی ریکس لیدر کی پیداوار جاری رہے گی اور اسے تجارتی طور پر برانڈز اور ڈیزائنرز کیلئے دستیاب بنایا جائے گا۔ ابتدائی طور پر اسے لگژری مصنوعات میں استعمال کیا جائے گا، جبکہ مستقبل میں اسے فیشن، آٹوموٹو اور دیگر اعلیٰ کارکردگی والے شعبوں تک وسعت دینے کا منصوبہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK