گوریگائوں میں موتی لال نگر کے ۳۷؍ مکینوں نے دستخط کرکے مہاڈا کے نائب صدر کیخلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا،جیسوال نے احتجاج کرنے والوں کودرانداز کہا تھا ۔
مہاڈا نے گوریگاؤں کے موتی لال نگرکے ڈیولپمنٹ کا اعلان کیا ہے- تصویر:آئی این این
مغربی مضافات کے گوریگائوں میں واقع موتی لال نگر کی تعمیر نو کے سلسلے میں عوامی میٹنگ میں ایک شخص کی ظاہری مذہبی شناخت پر اسے غیرقانونی درانداز کہنے اور دھمکیاں دینے سے ناراض افراد نے مہاڈا کے نائب صدر اور آئی اے ایس افسر سنجیو جیسوال کے خلاف مقامی پولیس اسٹیشن میں تحریری شکایت دے کر ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس شکایت پر ۳۷؍مکینوں نے دستخط کئے ہیں جن میں مسلم اور برادران وطن دونوں شامل ہیں۔
واضح رہے کہ اڈانی کمپنی کو گوریگائوں کے وسیع و عریض موتی لال نگر کی تعمیر نو کا ٹھیکہ ملا ہے اور اس پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کیلئے مہاڈا نے یہاں کے مکینوں کے ساتھ ۱۷؍ اپریل کی شام گنیش میدان میں ایک عوامی میٹنگ رکھی تھی جس میں عوام کو یہ تفصیلات بتائی جانی تھی کہ یہ پروجیکٹ یہاں کی مکینوں کیلئے کس طرح سود مند ہے اور یہ کام کس طرح آگے بڑھے گا۔ اس میٹنگ میں شخص اپنے ہاتھ میں ایک پلاکارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر پروجیکٹ متاثرین کو ۲۴۰۰؍ مربع فٹ کے مکان دینے کا مطالبہ تحریر تھا۔ داڑھی کی وجہ سے بظاہر یہ شخص مسلمان نظر آرہا تھا۔اس شخص کا مطالبہ دیکھ کر سنجیو جیسوال اسٹیج پر ہی بھڑک گئے اور اس شخص سے اپنا شناختی کارڈ دکھانے کا مطالبہ کرنے لگے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کیا تو غیرقانونی درانداز ہے، اگر تو درانداز ہے تو تجھے یہیں سے اٹھا کر لے جائوں گا۔ اس وقت میٹنگ میں موجود چند افراد سنجیو جیسوال کے اس رویہ اور انداز گفتگو پر ناراضگی ظاہر کرنے لگے جس کی وجہ سے انہوں نے اچانک میٹنگ ختم کرنے کا اعلان کردیا اور وہاں سے چلے گئے۔اس تعلق سے مقامی افراد نے گوریگائوں پولیس اسٹیشن کے سینئر انسپکٹر کو تحریری شکایت دے کر سنجیو جیسوال کے خلاف مذہب کی بنیاد پر تفریق پیدا کرنے اور دھمکیاں دینے کے الزام میں قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
اس شکایت میں تحریر ہے کہ میٹنگ میں یہاں کی مکین جلال الدین کچوا خاموشی سے اپنے ہاتھ میں پلےکارڈ لے کر اپنا مطالبہ ظاہر کررہے تھے۔ شکایت کے مطابق جلال الدین کی داڑھی دیکھ کر سنجیو جیسوال نے انہیں غیرقانونی بنگلہ دیشی قرار دینے کی کوشش کرتے ہوئے ان کی بے عزتی کی اور انہیں دھمکیاں دیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان کی ہدایت پر پولیس اور سیکوریٹی نے مل کر ان پکڑا اور ان کا شناختی کارڈ لے لیا۔ دیگر مکینوں کی مخالفت کے باوجود اس افسر کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس وجہ سے میٹنگ کا مقصد ناکام ہوگیا۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر جو امتیاز برتا، دھمکیاں دیں اور یہاں کے لوگوں کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کی جو کوشش کی اس کی وجہ سے ان کیخلاف قانونی کارروائی کی جائے۔اس میں یہ بھی تحریر ہے کہ موتی لال نگر ۱۹۶۱ء سے بسا ہوا ہے جس میں ہر مذہب کے لوگ مل جل کر رہتے ہیں اور جلال الدین کچوا کی پیدائش بھی اسی جگہ ہوئی ہے اور ان کے آبا واجداد اس بستی میں ۱۹۶۱ء سے رہ رہے ہیں۔ اس لئے یہ ایک شخص کی نہیں بلکہ موتی لال نگر میں رہنے والے تمام افراد کی بے عزتی ہے۔ البتہ پولیس نے اب تک اس شکایت پر کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔