Inquilab Logo Happiest Places to Work

زمبابوے میں فیری پلٹنے سے۴۴؍ افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ

Updated: August 13, 2026, 1:05 PM IST | Agency | Harare

حادثے کے وقت کشتی میں کم از کم ۱۱۴؍ مسافر اور عملہ کے ۵؍اراکین سوار تھے، ۷۷؍افراد کو بچا لیا گیا، خراب موسم کے سبب امدادی کارروائی میں تاخیر ہوئی۔

A scene of the rescue operation captured from the video. Picture: INN
ویڈیو کی مدد سے لی گئی تصویر میں امدادی کارروائی کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

زمبابوے کی سول پروٹیکشن یونٹ کے مطابق جھیل کاریبا میں گنجائش سے زیادہ مسافروں سے بھری ایک فیری پلٹنے کے نتیجے میں کم از کم۴۴؍ افراد ہلاک جبکہ۲۷؍ لاپتہ ہوگئے ہیں۔حکام کے مطابق کشتی منگل کو تیز لہروں کی زد میں آکر پلٹ گئی۔ حادثے کے بعد کم از کم۷۷؍افراد کو بچا لیا گیا۔سول پروٹیکشن یونٹ نے بتایا کہ یہ کشتی شمالی شہر کاریبا کو جھیل میں واقع متعدد جزائر اور ماہی گیری کے کیمپوں سے ملانے کے لئے استعمال ہوتی تھی۔ حادثے کے وقت فیری اپنی مقررہ گنجائش۹۰؍افراد سے زیادہ مسافروں کو لے جا رہی تھی۔حکام نے کہا کہ کشتی میں موجود مسافروں اور عملے کی حتمی تعداد معلوم نہیں ہوسکی لیکن رجسٹرڈ ٹکٹوں کی بنیاد پر کم از کم۱۱۴؍ بالغ مسافروں اور عملہ کے ۵؍ اراکین کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔حکام کے مطابق کشتی میں ٹکٹ خریدنے کی عمر سے کم تعداد میں بچے بھی سوار ہوسکتے تھے جن کا ابھی تک حساب نہیں لگایا جاسکا۔زمبابوے کی قومی پولیس نے بتایا کہ امدادی اور تلاش کی کارروائیاں جاری ہیں۔سرکاری نشریاتی ادارے زیڈ بی سی نے ایسے ویڈیو نشر کئے جس میں تیز رفتار کشتیاں جھیل میں پلٹی ہوئی کشتی کی جانب جاتی دکھائی دیں جبکہ ایک ہیلی کاپٹر اوپر پرواز کر رہا تھا۔ رپورٹ کے مطابق تلاش اور امداد کے لئے زیر آب کارروائی کرنے والی ٹیم بھی وسیع جھیل میں تعینات کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: چین کے فوڈ ڈیلیوری رائڈر وانگ جی بَنگ کی شاعری کے مجموعے کو ملک کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز سےنوازا گیا

حادثے کے عینی شاہد میکسٹن کانہیما نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ کشتی خراب موسم کے دوران روانہ ہوئی تھی اور ممکنہ طور پر ایک بڑی لہر کشتی سے ٹکرائی جس کے باعث اس کے انجن بند ہوگئے۔ انہوں نے کہاکہ جب ہم پانی میں تھے تو ایک ہنگامی اشارہ نظر آیا جس کے بعد قریب موجود کشتیوں نے مدد کے لئے رخ کیا۔کانہیما کے مطابق ماتوسادونا نیشنل پارک نے امدادی کارروائی میں مدد کے لئے ایک ہیلی کاپٹر فراہم کیا جبکہ بڑی کشتیاں اور مقامی علاقے اور فوج کے غوطہ خور بھی امدادی سرگرمیوں میں شریک ہوئے۔انہوں نے کہاکہ لوگ مشکل میں تھے۔ پانی میں لاشیں موجود تھیں اور یہ ایک انتہائی افسوسناک منظر تھا۔ جن افراد کو بچایا جاسکتا تھا، انہیں بچا لیا گیا۔ان کے مطابق خراب موسم کے باعث امدادی کارروائی میں کچھ تاخیر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ حادثے کی جگہ تک پہنچنے میں وقت لگا اور بدقسمتی سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوگئیں۔جھیل کاریبا زمبابوے اور زیمبیا کی سرحد پر دارالحکومت ہرارے سے۳۰۰؍ کلومیٹر سے زیادہ شمال مشرق میں واقع ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ میں فلسطینیوں کی جانوں کو لاحق خطرہ بڑھ رہا ہے‘‘

حجم کے اعتبار سے یہ دنیا کی سب سے بڑی مصنوعی جھیل ہے۔ یہ جھیل۱۹۵۰ءکی دہائی کے اواخر اور۱۹۶۰ءکی دہائی کے اوائل میں دریائے زمبیزی کا راستہ روکنے کے لئے ڈیم تعمیر کرکے بنائی گئی تھی۔ پانی بھرنے کے بعد وجود میں آنے والی یہ وسیع جھیل اب۲۰۰؍کلومیٹر سے زیادہ طویل اور بعض مقامات پر۴۰؍کلومیٹر تک چوڑی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK