Inquilab Logo Happiest Places to Work

چین کے فوڈ ڈیلیوری رائڈر وانگ جی بَنگ کی شاعری کے مجموعے کو ملک کے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز سےنوازا گیا

Updated: August 12, 2026, 4:03 PM IST | Beijing

”دن میں ڈیلیوری رائڈر اور رات میں شاعر“ کے طور پر پہچانے جانے والے وانگ نے برسوں تک اپنے اسکوٹر پر طویل اوقاتِ کار اور دیر رات تک لکھنے کے مشغلے کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں کنشان میں ڈیلیوری رائڈر بننے کے بعد سے، انہوں نے ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر سے زیادہ طویل سفر طے کیا ہے اور ۶۰۰۰ سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں۔

Wang Jibing. Photo: X
وانگ جی بنگ۔ تصویر: ایکس

سڑکوں کی زندگی کی کشمکش کو شاعری کا روپ دینے والے ایک چینی فوڈ ڈیلیوری رائڈر نے ملک کے اعلیٰ ترین ادبی اعزازات میں سے ایک ایوارڈ کو اپنے نام کرلیا ہے۔ بی بی سی (BBC) کی رپورٹ کے مطابق، جیانگسو صوبے سے تعلق رکھنے والے ۵۷ سالہ وانگ جی بَنگ (Wang Jibing) کو ان کے شاعری کے مجموعے ”لو فلائٹ“ (Low Flight) پر معتبر ایوارڈ ’لو شون لٹریری پرائز‘ (Lu Xun Literary Prize) سے نوازا گیا ہے۔ جدید چینی ادب کے بانی مانے جانے والے ’لو شون‘ کے نام سے منسوب یہ ایوارڈ چین کے محترم ترین ادبی اعزازات میں شامل ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ’’نو مارک پروجیکٹ‘‘ ملک میں لگائے گئے ایک لاکھ سے زائد اے آئی کیمرون کو ہٹانے کیلئے سرگرم

”دن میں ڈیلیوری رائڈر اور رات میں شاعر“ کے طور پر پہچانے جانے والے وانگ نے برسوں تک اپنے اسکوٹر پر طویل اوقاتِ کار اور دیر رات تک لکھنے کے مشغلے کے درمیان توازن برقرار رکھا ہے۔ ۲۰۱۹ء میں کنشان میں ڈیلیوری رائڈر بننے کے بعد سے، انہوں نے ڈیڑھ لاکھ کلومیٹر سے زائد طویل سفر طے کیا ہے اور ۶۰۰۰ سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں۔ ان کی تحریر کردہ اکثر نظمیں ڈیلیوری ورکرز کی روزمرہ کی جدوجہد اور ثابت قدمی پر مبنی ہیں۔ ان کا تازہ ترین مجموعہ تقریباً ۲۰۰ ساتھی رائڈرز کے انٹرویوز پر مبنی ہے، جو چین کی گِگ اکانومی (gig economy) کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کرتا ہے۔ اس کا ایک یادگار مصرع یوں ہے: ”کون کہتا ہے کہ پر پھیلانے کا مطلب اونچی پرواز ہے؟ نیچی پرواز بھی تو ایک پرواز ہے۔“

یہ بھی پڑھئے: ۸۱؍ فیصد ہندوستانی طلبہ تعلیم مکمل کرکے ہندوستان واپس آنے کے خواہش مند: رپورٹ

وانگ نے مالی مشکلات کی وجہ سے نوجوانی میں ہی اسکول چھوڑ دیا تھا اور ڈیلیوری رائڈر بننے سے پہلے تعمیراتی کاموں اور اسٹریٹ اسٹال لگانے سمیت کئی متفرق کام کئے تھے۔ اس تمام عرصے کے دوران، انہوں نے پڑھنے اور لکھنے کے اپنے شوق کو کبھی نہیں چھوڑا اور بعد میں سوشل میڈیا پر کام شیئر کرنے سے پہلے رسائل میں شائع ہوتے رہے۔ انہیں بڑی کامیابی ۲۰۲۲ء میں اس وقت ملی جب ان کی نظم ”مین ان اَ ہری“ (Man in a Hurry) ویبو (Weibo) پر وائرل ہوگئی، جو ڈیلیوری کی ایک ایسی غلطی سے متاثر ہو کر لکھی گئی تھی جس کی وجہ سے انہیں شہر بھر میں تیزی سے بھاگنا پڑا تھا اور مالی جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ انہوں نے اگلے سال اسی عنوان سے اپنا پہلا شعری مجموعہ شائع کیا۔

یہ بھی پڑھئے: گرین لینڈ کا ٹرمپ سے منسلک آئل کمپنی کو غیر مجاز ڈرلنگ پر انتباہ!

’لو شون لٹریری پرائز‘ سے نوازے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد گلوبل ٹائمز سے بات کرتے ہوئے، وانگ نے اعتراف کیا کہ اعلان سے پہلے وہ زبردست دباؤ محسوس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ”میں نے اپنی سانسیں روک رکھی تھیں اور انتہائی گھبراہٹ محسوس کر رہا تھا... ایک بار جب اس کا اعلان ہوگیا، تو سب کچھ طے پا گیا۔“ اس پذیرائی کے باوجود، وانگ کا اپنی ملازمت چھوڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ۶۰ سال کی عمر تک کھانا ڈیلیور کرتے رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ وہ اس کی وجہ کام سے ان کی لگن اور اس سے ملنے والی جسمانی فٹنس کو قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ ایوارڈ ان کی شخصیت کو نہیں بدلے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK