• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایپسٹین فائلز: ظہران ممدانی کو جوڑنے والی وائرل تصاویر جعلی نکلیں

Updated: February 04, 2026, 10:02 PM IST | New York

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی تصاویر جن میں امریکی سیاستداں ظہران ممدانی کو بدنام زمانہ مجرم جیفری ایپسٹین کے ساتھ دکھایا گیا، ابتدائی تحقیقات میں جعلی اور مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ثابت ہوئیں۔ جاری کردہ ایپسٹین فائلز میں ظہران ممدانی کے ایپسٹین سے کسی براہِ راست تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ماہرین نے ان تصاویر کو ڈیپ فیک اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار اور جنسی جرائم کے مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق نئی عدالتی دستاویزات کے منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد وائرل تصاویر نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا۔ ان تصاویر میں امریکی سیاستداں ظہران ممدانی کو ایپسٹین کے ساتھ دکھایا گیا، جس کے بعد یہ دعویٰ کیا جانے لگا کہ ان کا تعلق ایپسٹین نیٹ ورک سے رہا ہے۔ تاہم دستیاب شواہد اور آزاد فیکٹ چیک کے مطابق یہ تصاویر حقیقی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے تیار کی گئی ہیں۔ ڈجیٹل فورنسک ماہرین کا کہنا ہے کہ تصاویر میں چہروں کی ساخت، روشنی، پس منظر اور ڈجیٹل واٹر مارکس اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ تصاویر اصل فوٹوگراف نہیں بلکہ ڈیپ فیک مواد ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: صدر مادورو کے اغوا کو ایک ماہ مکمل ہونے پر عوام کا احتجاج، مادورو کے بیٹے کا جذباتی پیغام

خیال رہے کہ یہ تصاویر سب سے پہلے ایک ایسے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے شیئر کی گئیں جو خود کو طنزیہ اور اے آئی سے تیار کردہ مواد بنانے والا پلیٹ فارم ظاہر کرتا ہے۔ بعد ازاں یہی تصاویر بغیر کسی تصدیق کے مختلف پلیٹ فارمز پر پھیل گئیں، جہاں انہیں اصل سمجھ کر شیئر کیا گیا۔ اہم بات یہ ہے کہ حال ہی میں جاری ہونے والی ایپسٹین فائلز میں ظہران ممدانی کا نام کسی بھی فہرست، گواہی یا دستاویز میں شامل نہیں ہے۔ ان فائلز میں ان کی والدہ، معروف فلمساز میرا نائر کا نام صرف ایک ۲۰۰۹ء کے سوشل ایونٹ ای میل میں آیا ہے، جس میں متعدد ثقافتی اور فلمی شخصیات کا ذکر بھی موجود ہے۔ اس کا مطلب کسی مجرمانہ سرگرمی یا ایپسٹین سے قریبی تعلق نہیں لیا جا سکتا۔ قانونی ماہرین کے مطابق کسی کا نام ایپسٹین فائلز میں آ جانا بذاتِ خود جرم کا ثبوت نہیں ہوتا۔ یہ دستاویزات محض رابطوں، دعوت ناموں یا ای میلز کا ریکارڈ ہیں، جن میں شامل بیشتر افراد کے خلاف کبھی کوئی الزام یا مقدمہ درج نہیں ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: رفح کراسنگ پر فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی رویہ، منظم دہشت گردی ہے: حماس

ظہران ممدانی کے بارے میں سوشل میڈیا پر یہ دعویٰ بھی گردش کرتا رہا کہ وہ ایپسٹین کے بیٹے ہیں، تاہم یہ الزام بھی بالکل بے بنیاد ثابت ہوا۔ دستیاب عوامی ریکارڈ کے مطابق ان کے والد معروف اسکالر محمود ممدانی ہیں، اور ایپسٹین سے کسی خاندانی یا ذاتی تعلق کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ایپسٹین جیسے حساس اور جذباتی معاملات میں اے آئی سے تیار کردہ جعلی مواد عوامی رائے کو گمراہ کرنے کے لیے تیزی سے استعمال ہو رہا ہے۔ ڈیپ فیک تصاویر اور ویڈیوز کی بڑھتی ہوئی تعداد صحافت اور سچائی کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: لیبیا: معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام قذافی کا قتل، معاشی و سیاسی صورتحال متاثر

صحافتی تنظیموں اور فیکٹ چیکرز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ وائرل تصاویر اور دعووں کو بغیر تصدیق شیئر نہ کریں، خاص طور پر جب معاملہ کسی شخص کی ساکھ، قانونی حیثیت یا سنگین جرائم سے متعلق ہو۔ اب تک دستیاب تمام شواہد کے مطابق، ظہران ممدانی اور ان کے خاندان کو جیفری ایپسٹین کے جرائم سے جوڑنے والی وائرل تصاویر جعلی، گمراہ کن اور غیر مستند ہیں، اور ان کا حقیقت سے کوئی تعلق ثابت نہیں ہوتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK