یکم جنوری ۲۰۲۶ء کو نیویارک شہر کے میئر کا عہدہ سنبھالنے والے ۳۴ سالہ ڈیموکریٹ لیڈر ممدانی نے اپنی مدت کا آغاز ایک تاریخی، غیر فعال سٹی ہال سب وے اسٹیشن پر حلف برداری سے کیا، جہاں انہوں نے شہر میں ”نیا عہد“ لانے کا عزم کیا۔
EPAPER
Updated: April 10, 2026, 8:02 PM IST | New York
یکم جنوری ۲۰۲۶ء کو نیویارک شہر کے میئر کا عہدہ سنبھالنے والے ۳۴ سالہ ڈیموکریٹ لیڈر ممدانی نے اپنی مدت کا آغاز ایک تاریخی، غیر فعال سٹی ہال سب وے اسٹیشن پر حلف برداری سے کیا، جہاں انہوں نے شہر میں ”نیا عہد“ لانے کا عزم کیا۔
ظہران ممدانی نے نیویارک شہر کے میئر کے طور پر ۱۰۰ دن مکمل کر لئے ہیں۔ اس دن ممدانی نے سٹی ہال سے اپنی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن میں اپنی رہائش گاہ تک تقریباً ۱۰ کلومیٹر (۶ میل) کا فاصلہ پیدل طے کیا۔ اس واک کے دوران، وہ رہائشیوں سے بات چیت کرنے، ان کے مسائل سننے اور شہریوں کے ساتھ براہِ راست رابطے کیلئے جگہ جگہ رکے۔ آن لائن شیئر کی گئی تصاویر اور ویڈیوز میں انہیں راستے میں ملنے والے افراد سے ملاقات اور گفتگو کرتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے اس اقدام کو عوام تک رسائی اور براہِ راست روابط کے ثبوت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جو ممدانی کی انتخابی مہم کے اہم موضوعات رہے ہیں۔
Mayor Zohran Mamdani walked from City Hall to Gracie Mansion, stopping to meet New Yorkers along the way as he marked his first 100 days in office 🙌 @NYCMayor
— New York Mickey (@MickmickNYC) April 8, 2026
On the way someone told him they’re thinking of dressing up as him and his wife for Halloween 🎃😄 pic.twitter.com/ULxBH84RqN
یکم جنوری ۲۰۲۶ء کو نیویارک شہر کے میئر کا عہدہ سنبھالنے والے ۳۴ سالہ ڈیموکریٹ لیڈر ممدانی نے اپنی مدت کا آغاز ایک تاریخی، غیر فعال سٹی ہال سب وے اسٹیشن پر حلف برداری سے کیا، جہاں انہوں نے شہر میں ”نیا عہد“ لانے کا عزم کیا۔ چند ہی گھنٹوں کے اندر، انہوں نے سستی رہائش پر توجہ مرکوز کرنے والے ایگزیکٹیو آرڈرز پر دستخط کئے اور ایرک ایڈمز کی قیادت میں سابقہ انتظامیہ کے کئی فیصلوں کو واپس لے لیا۔
عہدہ سنبھالنے کے آٹھ دنوں کے اندر ممدانی نے ایک بڑا پالیسی قدم اٹھایا اور نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل نے ’یونیورسل فری چائلڈ کیئر‘ کے منصوبوں کا اعلان کیا، جس کا مقصد سستی سہولیات فراہم کرنے کے انتخابی وعدے کو پورا کرنا تھا۔ انفراسٹرکچر اور شہری پالیسی کے میدان میں بھی انہوں نے اہم کام کئے۔ ممدانی نے پہلے روک دیئے گئے بائیک اور بس کے چار منصوبوں کو بحال کیا اور سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن کے ساتھ مل کر شہر کے پانچوں اضلاع میں عوامی بیت الخلاء تک رسائی بڑھانے کا اقدام شروع کیا۔
ممدانی کو شروعات سے ہی بڑے چیلنجز کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان میں برفباری کے دو بڑے طوفان شامل تھے جن کی وجہ سے سڑکوں پر ۲۰ انچ موٹی برف کی تہہ جم گئی تھی۔ سخت موسمی حالات کے دوران انہوں نے کئی ہنگامی اقدامات، جیسے برف پگھلانے کے آپریشنز اور شدید موسم کے دوران ورچوئل اسکولنگ کا طریقہ اپنانے کے احکامات جاری کئے۔
مالیاتی محاذ پر، نیویارک انتظامیہ اربوں ڈالر کے بجٹ خسارے سے نمٹ رہی ہے۔ ممدانی نے خسارے کو پورا کرنے کیلئے امیر ترین رہائشیوں پر ٹیکس لگانے کی تجویز دی ہے۔ اس منصوبے کو ریاستی سطح پر مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ دیگر زیرِ غور متبادلات میں پراپرٹی ٹیکس میں تبدیلیاں اور شہر کے محفوظ مالی ذخائر کا استعمال شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ: ٹرمپ کے بیانات پر سی این این کا فیکٹ چیک، متعدد دعوے غلط قرار دیئے
میئر منتخب ہونے کے بعد، ممدانی اور امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی دو بار ملاقات ہوئی جنہیں انہوں نے ”تعمیری“ قرار دیا، جبکہ کئی وفاقی پالیسیوں سے عوامی طور پر اختلاف جاری رکھا۔ ایک ملاقات کے دوران ممدانی نے ہاؤسنگ کیلئے ۲۱ بلین ڈالر سے زائد کی وفاقی فنڈنگ حاصل کرنے کا مسئلہ اٹھایا اور ایک زیرِ حراست طالب علم کی رہائی کی وکالت کی۔