Inquilab Logo Happiest Places to Work

ظہران ممدانی کی ٹرمپ کی فٹبال ورلڈ کپ پالیسی پر سخت تنقید

Updated: June 10, 2026, 12:01 PM IST | New York

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے ٹرمپ کی فٹبال ورلڈ کپ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے اسے ناقابل قبول قرار دیا، انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ویزوں سے انکار، ملک بدریوں اور نفاذکی کارروائیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

New York Mayor Zohran Mamdani. Photo: X
نیو یارک کے میئر ظہران ممدانی۔ تصویر: ایکس

نیویارک کے میئر ظہران ممدانی نے۲۰۲۶ء کے فیفا ورلڈ کپ سے قبل ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ویزوں سے انکار، ملک بدریوں اور نفاذی کارروائیوں کو نشانہ بنایا ہے۔ ممدانی نے ٹرمپ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بعض ممالک کے ویزوں سے انکار، ریفریوں کو روکنا، اور ایک روزہ میعاد ختم ہونے والے ویزوں کی اجازت دینا بیوروکریسی کے اس ٹورنامنٹ کی ’’روح‘‘ سے متصادم ہونے کی عکاسی کرتی ہے۔ممدانی نے کہا، ’’ہم نے وفاقی انتظامیہ کی طرف سے جو کچھ فیصلے دیکھے ہیں، چاہے وہ بعض ممالک کے صحافیوں کے ویزوں سے انکار ہو، کسی ٹیم کے کوچ کے ویزے کو مسترد کرناہو، یا مخصوص غیر ملکی قومی ٹیموں کے لیے ایک روزہ ویزے ہوں، یہ سب اس ورنامنٹ کے مقصد کے خلاف ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ڈبلیو ڈبلیو ڈی سی ۲۰۲۶ء: ایپل نے آئی او ایس ۲۷، سری اے آئی اور نیا میک او ایس متعارف کرایا

واضح رہے کہ ممدانی کا یہ بیان نیویارک ٹائمز کے رپورٹر کے اس سوال پر آیا جس میں ٹرمپ کے ’’سرحدی  زار‘‘  ٹام ہومین کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔انہوں نے فاکس نیوز کو بتایا، ’’میں نے اس سے وعدہ کیا تھاآپ نیویارک شہر میں پہلے سے زیادہ ICE ایجنٹس دیکھیں گے، اور یہ ہو کر رہے گا۔‘‘ تاہم ممدانی نے ان چھاپوں کی مذمت کی اور دعویٰ کیا کہ انہوں نے اپنے تحفظات براہِ راست صدر سے شیئر کیے ہیں۔ دریں اثناء زندگی بھر فٹ بال کے مداح رہنے والے ظہران ممدانی نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا، ’’فٹ بال کا وجود مہاجرین کے بغیر ممکن نہیں۔‘‘ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پوری فٹ بال کی فضا، کھلاڑیوں، کوچوں سے لے کر اسٹیڈیم کے دیکھ بھال کرنے والے عملے اور اسٹیڈیم بھرنے والے شائقین تک سب مہاجرین کے گرد گھومتی ہے۔ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے ہی یہ رکاوٹوں کا شکار ہے۔

یہ بھی پڑھئے: خاتون صحافی کے ساتھ ٹرمپ کا غیر مہذب رویہ ، انٹرویو ادھورا چھوڑدیا

 واضح رہے کہ یہ ورلڈ کپ، جس کی میزبانی میکسیکو، کینیڈا اور امریکہ مشترکہ طور پر کر رہے ہیں، ٹکٹوں کی قیمتوں کے حوالے سے تنازعات کا سامنا کر چکا ہے۔ بے مثال کارپوریٹ لالچ، دھوکہ دہی پر مبنی فروخت کے طریقوں، اور فٹ بال کے محنت کش طبقے کے مداحوں کے ساتھ بڑی دھوکہ دہی کے الزامات لگ چکے ہیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ ۲۰۲۶ء ورلڈ کپ کے ٹکٹوں کی قیمتیں قطر میں۲۰۲۲ء کے ورلڈ کپ کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ہیں۔ تاہم نیویارک اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلز نے تفتیش شروع کر دی ہے، اور میٹ لائف اسٹیڈیم میں ٹکٹوں کی فروخت سے متعلق اندرونی مواصلت کے لیے فیفا کو طلب کیا ہے۔مزید برآں، ویزوں کی تقسیم اور امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سلوک کے حوالے سے بھی تنازعات رہے ہیں۔ ایران کو روزانہ میعاد ختم ہونے والے ویزے دیے گئے، اور ایرانی وفد کے۱۵؍ اراکین کو ویزے سے انکار کر دیا گیا۔اس کے علاوہ انہیں تربیتی کیمپ لگانے کی اجازت نہیں تھی۔ساتھ ہی عراق کے ایمن حسین کو شکاگو کے اوہیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حراست میں لیا گیا، جبکہ ٹیم کے سرکاری فوٹوگرافر کو۱۲؍ گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا گیا۔ساتھ ہی ایک اعلیٰ درجے کے صومالی ریفری کو بھی ملک بدر کیا گیا۔ جبکہ سینیگال اور ازبکستان کے وفود نے داخلے کی کارروائی کے دوران امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے ذلت آمیز سلوک کی شکایات کیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK