Updated: January 02, 2026, 10:00 PM IST
| New Delhi
زومیٹو اور بلنک اِٹ نے نئے سال کی شام ریکارڈ ۷۵؍ لاکھ سے زائد آرڈرز مکمل کئے جو اب تک کی سب سے زیادہ ایک دن کی ڈیلیوری ہے جبکہ کچھ گگ ورکر یونینز نے ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ کمپنی کے بانی دیپندر گویل نے اس کامیابی کا کریڈٹ ڈیلیوری پارٹنرز، مقامی قانون نافذ کرنے والوں اور گراؤنڈ ٹیموں کی کوآرڈینیشن کو دیا، اور کہا کہ گِگ اکنامی ہندوستان میں روزگار پیدا کرنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
ہندوستان کی معروف فوڈ ڈیلیوری اور کوئیک کامرس سروسیز فراہم کرنے والی کمپنیوں زومیٹو اور بلنک اِٹ نے ۳۱؍ دسمبر ۲۰۲۵ء کی شب ۷۵؍ لاکھ سے زائد آرڈرز کی تکمیل کر کے ایک تاریخی کارکردگی کا مظاہرہ کیا، جو اب تک کا سب سے زیادہ ایک دن میں آرڈرز کا ریکارڈ ہے۔ یہ اعلان کمپنی کے بانی اور سی ای او دیپندر گویل نے کیا، جنہوں نے اس کامیابی کا کریڈٹ ڈیلیوری پارٹنرز، مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور گراؤنڈ ٹیموں کے اشتراک کو دیا۔ گویل نے ایکس پر لکھا کہ پورے ملک میں ۵ء۴؍ لاکھ سے زائد ڈلیوری پارٹنرز نے اس خاص دن پر خدمات انجام دیں، جس کے نتیجے میں ۶۳؍ لاکھ سے زیادہ صارفین کو آرڈرز پہنچائے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس کارکردگی نے گزشتہ سال کے نئے سال کی شام کے ریکارڈز کو پیچھے چھوڑ دیا اور یہ اب تک کا سب سے بڑا سنگ میل ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ۵؍ سال بعد مروڈ جنجیرہ میں نئے سال کے موقع پر ٹورازم فیسٹیول کا انعقاد
یہ ریکارڈ کارکردگی خاص طور پر اس تناظر میں اہم ہے کہ کچھ گِگ ورکر یونینز نے ۲۵؍ اور ۳۱؍ دسمبر کو پورے ملک میں ہڑتال کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد بہتر ادائیگیاں، محفوظ کام کے حالات اور سماجی تحفظ جیسے مطالبات تھا۔ اس کے باوجود، گویل کا کہنا تھا کہ ہڑتال نے زومیٹو اور بلنک اِٹ کی ڈیلیوری آپریشنز پر کوئی منفی اثر نہیں ڈالا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی معاونت نے کچھ علاقوں میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کو روکنے میں اہم کردار ادا کیا، جس سے ڈیلیوری کی روانی برقرار رہی۔ گویل نے ڈیلیوری پارٹنرز کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے انتہائی مصروف رات میں بھی حوصلے کے ساتھ کام کیا، حالات کا مقابلہ کیا اور دیانت داری کے ساتھ اپنے فرائض انجام دیئے۔ گویل نے یہ بھی واضح کیا کہ اس کامیابی میں کسی اضافی یا خاص اضافی انعامات کا استعمال نہیں ہوا، سوائے اس کے کہ نئے سال کی شام کے موقع پر عمومی طور پر ڈیلیوری پارٹنرز کو تھوڑا زیادہ ادائیگی دی جاتی ہے، جیسا کہ ہر سال ہوتا آیا ہے۔ ان کے مطابق سال کے اس موقع پر اضافی مراعات معمول کا حصہ ہیں اور اس سال بھی ویسے ہی عمل کیا گیا، نہ کہ ہڑتال کے پیشِ نظر کوئی خاص ترغیبات دی گئیں۔
گویل نے اپنے بیان میں گِگ اکنامی کے کردار اور اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر کوئی نظام بنیادی طور پر غیر منصفانہ ہوتا، تو وہ مستقل طور پر اتنے افراد کو اپنی طرف متوجہ اور محفوظ نہیں رکھ سکتا جو اس کے تحت کام کرنے کا انتخاب کرتے ہیں۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ گِگ اکنامی ہندوستان میں منظم روزگار پیدا کرنے کے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے اور اس کا طویل مدتی سماجی اثر قابلِ قدر ہوگا، خاص طور پر جب ڈیلیوری پارٹنرز کے بچوں کو تعلیم اور مستحکم آمدنی ملنے کے بعد وہ بھی ورک فورس میں شامل ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے: سالِ نو پر لیڈروں نےعوام کی بہتر صحت ، خوشحالی اور امن وامان کی تمنا کی
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب گگ ورکرز اور پلیٹ فارم کمپنیوں کے تعلقات پر بحث شدت اختیار کر رہی ہے، خاص طور پر ۱۰؍ منٹ میں ڈیلیوری ماڈل، ادائیگیوں میں شفافیت، اور سیکوریٹی جیسے مسائل پر۔ کچھ مزدور تنظیموں نے ان ماڈلز پر تنقید کی ہے، جبکہ گویل نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ان کے پلیٹ فارم اپنے کارکنوں کو مواقع اور روزگار کے مستقل ذرائع فراہم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ نئے سال کی شام عموماً آن لائن فوڈ اور تیز تجارت کے پلیٹ فارمز کیلئے سال بھر کا سب سے مصروف وقت ہوتا ہے کیونکہ صارفین جشن، پارٹیوں اور گھریلو پارٹیز کیلئےآرڈر دیتے ہیں، جس سے ڈیلیوری کا دائرہ معمول سے کہیں زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ اس بار زومیٹو اور بلنک اِٹ نے اس موقع کا بھرپور فائدہ اٹھایا، متعدد شہروں میں خدمات کی روانی برقرار رکھی اور ریکارڈ توڑ ڈیلیوریز کے ساتھ سال کا آغاز مضبوط انداز میں کیا۔