ہندوستانی الٹرا رنر پوجا کرشنامورتھی نے برازیل ۱۳۵؍ الٹرا میراتھن ۴۸؍ گھنٹوں میں مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔ وہ اس مشکل ۱۳۵؍ میل دوڑ کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں، اور مقررہ وقت سے ۱۲؍ گھنٹے پہلے فنش لائن عبور کی۔
EPAPER
Updated: February 21, 2026, 10:10 PM IST | Mumbai
ہندوستانی الٹرا رنر پوجا کرشنامورتھی نے برازیل ۱۳۵؍ الٹرا میراتھن ۴۸؍ گھنٹوں میں مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کی۔ وہ اس مشکل ۱۳۵؍ میل دوڑ کو باضابطہ طور پر مکمل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں، اور مقررہ وقت سے ۱۲؍ گھنٹے پہلے فنش لائن عبور کی۔
الٹرا رننگ میں ڈاؤن ہِل کبھی آرام نہیں دیتی، وہ امتحان لیتی ہے۔ یہی امتحان Brazil 135 Ultramarathon میں بھی ہوتا ہے، جو ۱۳۵؍ میل طویل ایک سخت ترین برداشت کی دوڑ ہے۔ ہندوستانی رنر پوجا کرشنا مورتھی نے اس ریس کو ۴۸؍ گھنٹوں میں مکمل کیا اور آفیشل کٹ آف ٹائم سے ۱۲؍ گھنٹے پہلے فنش کیا۔ اس کے ساتھ وہ اس مقابلے کو مکمل کرنے والی پہلی ہندوستانی خاتون بن گئیں۔ پوجا کا سفر بطورکریو ممبر شروع ہوا تھا جب وہ Badwater 135 میں اپنے کوچ کے ساتھ تھیں۔ وہاں ۸۰؍ کلومیٹر سے زائد دوڑنے کے بعد انہیں احساس ہوا کہ الٹرا رننگ ہی ان کا میدان ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’ایک لمحے کے بعد یہ سب ذہنی ہو جاتا ہے۔ یہ خود کو کہتے رہنا ہوتا ہے کہ تم کر سکتے ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: نکیتا فلپوف نے غیر جانبدار کھلاڑی کے طور پر پہلا تمغہ جیت لیا
خیال رہے کہ الٹرا رننگ کی تیاری اکثر تنہا ہوتی ہے۔ لمبی دوڑیں، خاموش گھنٹے اور کم تربیتی ساتھی۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’شروع میں بہت تنہا لگتا تھالیکن وقت کے ساتھ میں نے تنہائی سے نمٹنا اور خود کے ساتھ رہنا سیکھ لیا۔ اب مجھے یہ پسند ہے۔‘‘ یہی ذہنی مضبوطی ریس کے دوران فیصلہ کن ثابت ہوئی، جب شک کی سرگوشیاں بار بار ذہن میں آئیں، مگر جسم اور دماغ نے ساتھ دیا۔
یہ بھی پڑھئے: ڈیڈ سی لینڈ میراتھن میں ۸؍ ہزار رنرز، زمین کے سب سے نچلے مقام پر دوڑ
پوجا مانتی ہیں کہ ابتدا میں انہوں نے غذائیت کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’میں بس یونہی دوڑتی تھی۔‘‘ وقت کے ساتھ انہوں نے منظم پروٹین انٹیک، ریکوری پلان اور غذائی حکمت عملی اپنائی، جس سے طویل تربیتی سیشن ممکن ہوئے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین کے شوقیہ کھیلوں میں غذائیت کے بارے میں منظم علم کی کمی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ ہمیں پروٹین کی ضرورت ہے، لیکن صحیح معلومات ضروری ہے۔‘‘
اگرچہ یہ ایک تاریخی کارنامہ ہے، پوجا اسے غیر معمولی انداز میں پیش کرنے سے گریز کرتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’میں نے پہلی خاتون ہونے کے بارے میں زیادہ نہیں سوچا۔ بس اتنا چاہتی ہوں کہ مزید خواتین ایسی ریسز میں حصہ لیں اور خوفزدہ نہ ہوں۔‘‘