Updated: April 09, 2026, 1:03 PM IST
|
Agency
| Mumbai
بالآخر ۴۰؍ روز بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تھم گئی۔ جنگ بندی کیلئے ثالثی کی ذمہ داری امریکہ نے پاکستان کو سونپی تھی۔ اس لحاظ سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں طور پر لیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
شیوسینا (ادھو) ترجمان سنجے راؤت :تصویر:آئی این این
بالآخر ۴۰؍ روز بعد امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ تھم گئی۔ جنگ بندی کیلئے ثالثی کی ذمہ داری امریکہ نے پاکستان کو سونپی تھی۔ اس لحاظ سے عالمی سطح پر پاکستان کا نام نمایاں طور پر لیا جا رہا ہے۔ اسی پس منظر میں گفتگو کرتے ہوئے شیوسینا (ادھو) کے ترجمان سنجے رائوت نے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے پاکستان کی تعریف کو مودی کی سب سے بڑی ناکامی قرار دیا۔
سنجے رائوت نے کہا’’ ایران جیسا ملک ، اسرائیل اور امریکہ کے آگے گڑگڑایا نہیں۔ ۳۵؍ دنوں سے زیادہ عرصہ تک اس نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف مزاحمت کی۔ ان دونوں ممالک کا جو خوف تھا اسے ختم کر دیا۔ اپنے ملک کی خاطر کیسے لڑا جاتا ہے اور (ملک کیلئے) اپنی سیاست کی قربانی کیسے دی جاتی ہے یہ ایران نے دنیا کو دکھا دیا ہے۔‘‘ رائوت نے کہا ’’ ایران کا نقصان ضرور ہوا ہے لیکن اس سے زیادہ نقصان اسرائیل کا ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ جیسے گھاگ امریکی صدر کو اس نے سبق سکھا دیا۔ ‘‘
رکن پارلیمان کا کہنا ہے کہ اس پورے پس منظر میں عالمی سطح پر ہندستان کی حیثیت کمزور ہوئی ہے، جبکہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں کردار ادا کر کے اپنی اہمیت بڑھائی ہے۔ یہ صورتحال مودی حکومت کیلئے شرمناک ہے۔‘‘ انہوںنے کہا’’ جنگ بندی کا سہرا چین اور پاکستان کے سر باندھا جا رہا ہے۔ امن مذاکرات اسلام آباد میں ہونے والے ہیں۔ ‘‘ رائوت نے طنز کیاکہ ’’ وہی اسلام آباد جسے آپریشن سیندور کے دوران قبضہ کیا جانے والا تھا، جہاں بی جے پی کا جھنڈا لہرایا جانے والا تھا۔ اب اسی جگہ ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایران کے لیڈران بیٹھ کر امن کے تعلق سے گفتگو کریں گے۔ یہ حکومت ہند کیلئے بے حد شرم کی بات ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی سرگرمیاں دراصل مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہیں۔
شیو سینا (ادھو ) ترجمان کے مطابق جنگ رکوانے کا موقع پاکستان کو ملا۔ پاکستان دوبارہ دنیا کے نقشے پر آ گیا۔ یہ کریڈٹ نریندر مودی کو ملنا چاہئے تھا۔ یہ کریڈٹ ’وشوگرو‘ کو ملنا چاہئے تھا کہ ہم نے جنگ بند کروائی ہے۔ہم ڈونالڈ ٹرمپ، نیتن یاہو اور ایرانی لیڈران کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ وشوگرو کا ان سب باتوں میں کوئی کردار ہی نہیں ہے۔ ‘‘ انہوں نے الزام لگایا کہ ’’ جب عالمی سطح پر حالات سنگین تھے، تب حکومت اندرونی سیاسی معاملات میں مصروف رہی اور بین الاقوامی سطح پر ہندستان کا اثر و رسوخ قائم رکھنے میں ناکام رہی۔ وہ اپنے ملک کے اپوزیشن پر بم گرا رہی تھی۔ اس کی فوج میں الیکشن کمیشن، ای ڈی ، سی بی آئی اور عدالتیں شامل تھیں۔ ان سب کے ساتھ مل کر آپ کے ’وشو گرو‘ ملک میں جمہوریت کو مسمار کرنے میں مصروف تھے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اتنی بڑی ناکامی کے بعد مودی حکومت کو برخاست کر دینا چاہئے۔
سنجے راوت نے مزید کہا کہ حکومت کے سابقہ دعوؤں کے باوجود روس ۔ یوکرین جنگ جاری ہے اور ہندستانی قیادت صرف عالمی لیڈران سے ٹیلیفونک گفتگو تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جس کے کوئی ٹھوس نتائج سامنے نہیں آئے۔ انہوں نے سخت لہجے میں کہا کہ وزیر خارجہ جے شنکر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دینا چاہئے کیوں کہ ان کی پالیسیوں سے ہندستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اس پورے پس منظر میں وہ بری طرح ناکام رہے ہیں۔