• Sun, 27 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیزی سے آگے بڑھ رہا ہندوستان کا یو پی آئی، نئے چارجز سے سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا

Updated: September 27, 2026, 7:09 PM IST | New Delhi

نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی ) کے زیرِ انتظام یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی ) لین دین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ریٹیل فاسٹ پیمنٹ سسٹم بن چکا ہے۔ ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان نے نہ صرف روزمرہ مالی لین دین کو آسان بنایا ہے۔

UPI Payment.Photo:INN
یوپی آئی پےمنٹ ۔ تصویر:آئی این این

 نیشنل پیمنٹس کارپوریشن آف انڈیا(این پی سی آئی ) کے زیرِ انتظام  یونیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (یوپی آئی )  لین دین کی تعداد کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ریٹیل فاسٹ پیمنٹ سسٹم بن چکا ہے۔ ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے رجحان نے نہ صرف روزمرہ مالی لین دین کو آسان بنایا ہے بلکہ آبادی کے ایک بڑے حصے کو باضابطہ معیشت سے جوڑنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق، یو پی آئی ہندوستان میں ڈجیٹل انقلاب کو تیز کرنے میں اہم ذریعہ ثابت ہوا ہے اور اب یہ ملک کی ڈجیٹل معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بن چکا ہے۔ الیکٹرانک ادائیگیاں روزمرہ کاروباری سرگرمیوں کا تیزی سے اہم حصہ بنتی جا رہی ہیں، جس کے باعث یو پی آئی کا استعمال مسلسل بڑھ رہا ہے۔  سرکاری اعداد و شمار کے مطابق  مالی سال  ۲۶۔۲۰۲۵ءمیں ہندوستان میں سالانہ یو پی آئی لین دین کی تعداد بڑھ کر ۶۲ء۲۴۱؍  ارب  یعنی تقریباً ۲۴۱۶۲؍  کروڑ لین دین ہوگئی۔ اس کے مقابلے میں مالی سال ۱۷۔۲۰۱۶ء میں یو پی آئی کے ذریعے صرف۸ء۱۷؍ ملین  یعنی تقریباً ۷۸ء۱؍ کروڑ لین دین  ہوئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:آئی پی او سے قبل جے ایس ڈبلیو ون پلیٹ فارمز کا بڑا انکشاف

اسی عرصے کے دوران یو پی آئی کے ذریعے ہونے والے لین دین کی مالیت میں بھی زبردست اضافہ ہوا۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق یہ مالیت  ۷؍ہزار کروڑ روپے  سے بڑھ کر۱۴ء۳؍ لاکھ کروڑ روپے  تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان میں ڈجیٹل ادائیگیوں کے استعمال میں کس قدر تیزی آئی ہے۔   یو پی آئی کے آغاز کے تقریباً ایک دہائی بعد حکومت اب بڑے تاجروں سے یو پی آئی کے استعمال کے لیے  فیس یا چارج وصول کرنے  کے امکان پر غور کر رہی ہے۔ اس تجویز کا مقصد طویل مدت میں یو پی آئی نظام کو مالی طور پر زیادہ پائیدار بنانا اور اس کے آپریشن، دیکھ بھال اور سیکیورٹی پر آنے والی لاگت کا کچھ حصہ وصول کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یو پی آئی سے متعلق آمدنی کا ایک مستقل اور قابلِ پیش گوئی ذریعہ قائم ہوتا ہے تو اس سے بینکوں اور ادائیگی کرنے والی کمپنیوں کو سائبر سیکوریٹی، فراڈ کی روک تھام، لین دین کی نگرانی اور تنازعات کے حل جیسے شعبوں میں مزید سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب مل سکتی ہے۔ اس کے علاوہ حاصل ہونے والی آمدنی یو پی آئی کے اگلے مرحلے کی ترقی میں بھی استعمال کی جا سکتی ہے۔ مستقبل میں اس نظام کے ذریعے  کریڈٹ لائن کی سہولت، بین الاقوامی اور سرحد پار ادائیگیوں کی توسیع  سمیت دیگر مالیاتی خدمات کو مزید فروغ دینے پر توجہ دی جا سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:آئرلینڈ کے فٹبال کھلاڑی غزہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے سیاہ پٹیاں باندھیں گے

رپورٹ میں فن ٹیک کمپنی بز ۲؍کریڈٹ کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹیو افسر  روہت اروڑہ  کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ کئی برسوں تک تاجروں کے لیے یو پی آئی کے مفت استعمال کے بعد اس نظام کی لاگت کا کچھ حصہ وصول کرنا ناگزیر ہوگیا ہے۔ ایک ماہر کے مطابق، ایشیا اور گلوبل ساؤتھ  کے متعدد ممالک نے یو پی آئی ماڈل کا مطالعہ اس لیے کیا ہے کیونکہ ہندوستان نے یہ ثابت کیا ہے کہ کسی بڑے پیمانے کے ادائیگی نظام کو وسعت دی جا سکتی ہے، جبکہ ادائیگی کے سوئچ پر ویزا، ماسٹرکارڈ یا کسی غیر ملکی ادارے کا کنٹرول ضروری نہیں ہے۔
 ہندوستان کا یو پی آئی اب ملک کی سرحدوں سے باہر بھی اپنی موجودگی قائم کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ نظام  سنگاپور، متحدہ عرب امارات، فرانس، ماریشس، نیپال، بھوٹان، قطر، سری لنکا، کمبوڈیا، یونان اور ازبکستان  سمیت ۱۱؍ ممالک میں کام کر رہا ہے۔ اس توسیع سے ہندوستانی سیاحوں، کاروباری مسافروں اور بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اپنے ہندوستانی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے براہ راست  پرسن ٹو مرچنٹ ادائیگی کرنے کی سہولت ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK