ایران کی فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ بلجیم کے خلاف اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ میچ سے دو دن قبل لاس اینجلس جانے کی اس کی درخواست مسترد کیے جانے کی شکایت بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (فیفا) سے کرے گی۔
EPAPER
Updated: June 20, 2026, 12:23 PM IST | Mexico City
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ بلجیم کے خلاف اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ میچ سے دو دن قبل لاس اینجلس جانے کی اس کی درخواست مسترد کیے جانے کی شکایت بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (فیفا) سے کرے گی۔
ایران کی فٹبال فیڈریشن نے کہا ہے کہ بلجیم کے خلاف اتوار کو ہونے والے ورلڈ کپ میچ سے دو دن قبل لاس اینجلس جانے کی اس کی درخواست مسترد کیے جانے کی شکایت بین الاقوامی فٹبال فیڈریشن (فیفا) سے کرے گی۔ ٹورنامنٹ سے قبل ایران کے بیس کیمپ کو ایریزونا سے میکسیکو کے شہر تیخوانا منتقل کر دیا گیا تھا۔ ایرانی ٹیم کا کہنا ہے کہ انہیں میچوں سے صرف ایک دن قبل سفر کرنے اور میچ ختم ہوتے ہی لوٹنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، جو غیر منصفانہ ہے۔
ٹیم میلی نے پیر کو نیوزی لینڈ کے خلاف اپنے افتتاحی ۲۔۲؍ سے ڈرا میچ سے ایک روز قبل تیخوانا انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ تک ۱۲۷؍میل کی چارٹر اڑان بھری، جوعام طور پر مختصر سفر سمجھا جاتا ہے، لیکن ٹیم کے کپتان مہدی طارمی کے مطابق سیکوریٹی اور امیگریشن جانچ سمیت اس میں تقریباً پانچ گھنٹے لگ گئے۔
یہ بھی پڑھئے: فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء: کھلاڑیوں سے زیادہ ’اوسیتو‘ اور ’میرلین‘ کی شہرت
ایک بیان میں، فیڈریشن نے اتوار کو پہلے شروع ہونے والے میچ کے وقت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا ماننا ہے کہ اس نوعیت کی پابندیاں تمام شریک ٹیموں کے لیے مساوی حالات فراہم کرنے کے اصول کے خلاف ہیں اور ٹیموں کی تیاری کے عمل پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔ ایران کے فٹبال سکریٹری جنرل ہدایت ممبنی نے جمعہ کے روز کہاکہ ہم ورلڈ کپ میں شرکت کرنے والی واحد ٹیم ہیں جو میزبان شہروں میں صرف۲۴؍گھنٹوں کے لیے پہنچی ہے اور یہ مناسب نہیں ہے۔ ہم پر عائد تمام پابندیاں ہمارے کھلاڑیوں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہیں۔
فیفا ورلڈ کپ: آسٹریلیا کو ۰۔۲؍گول سے شکست دے کر امریکہ ناک آؤٹ میں
امریکہ کی فٹ بال ٹیم نے فیفا ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء میں جمعہ کی دیر رات آسٹریلیا کو۰۔۲؍گول سے شکست دے کر ناک آؤٹ راؤنڈ میں جگہ بنالی اور گروپ ڈی میں ٹاپ مقام پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔ سیئٹل اسٹیڈیم میں گروپ ڈی کے میچ میں کھیلے گئے مقابلے میں اسٹار فارورڈ کرسچن پلسِک کے بغیر میدا میں اتری امریکی ٹیم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی مسلسل دوسری جیت درج کی۔
آسٹریلیا کے ڈیفنڈر کیمرون برجیس نے فولارین بالوگن کے کراس کو روکنے کی کوشش میں خود ہی گول کردیا اور امریکہ کو ۱۱؍ویں منٹ میں برتری حاصل کرلی۔ اس کے بعد ایلکس فری مین نے ۴۳؍ویں منٹ میں ایک ڈیفلیکٹڈ شاٹ پر سب سے پہلے پہنچ کر گیند کو ہیڈر سے گول میں ڈال کر برتری کو دُگنا کردیا۔
یہ بھی پڑھئے: آخری لمحات میں دو گول کر کے جرمنی نے ہندوستان کو شکست دی
یہ جیت اس لحاظ سے قابل ذکر تھی کہ امریکی قومی ٹیم نے اٹیکنگ کھلاڑی کرسچن پلسِک کے بغیر جیت حاصل کی، جو پنڈلی کی چوٹ کی وجہ سے میچ سے باہر رہے۔ امریکی ٹیم نے ایک بار پھر کچھ ٹیم ریکارڈ کی برابری کی۔ ۱۹۳۰ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ جب امریکہ نے ورلڈ کپ میں لگاتار دو میتے جیتے ہیں۔ اس سے قبل بھی ۱۹۳۰ءمیں ہی امریکی ٹیم نے مسلسل دو ورلڈ کپ میچوں کے پہلے ہاف میں دو یا دو سے زیادہ گول کئے تھے۔
جہاں تک آسٹریلیا کا تعلق ہے، وہ ناک آؤٹ راؤنڈ میں پہنچنے کی دوڑ سے مکمل طور پر باہر نہیں ہے۔ پیراگوئے کے خلاف اپنے آخری میچ میں جیت انہیں چھ پوائنٹس دلادے گی، جو اگلے راؤنڈ میں جانے کے لیے کافی ہوں گے۔