Updated: May 12, 2026, 2:20 PM IST
| California
اوپن اے آئی کے ۶۰۰؍ سے زائد موجودہ اور سابق ملازمین نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں ایک ہی دن کے دوران مجموعی طور پر ۶ء۶؍ ارب ڈالر مالیت کے شیئرز فروخت کیے، جسے ٹیکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑا ملازم اسٹاک فروخت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ہر ملازم نے اوسطاً تقریباً ۱۱؍ ملین ڈالر حاصل کیے۔
اوپن اے آئی کے ۶۰۰؍ سے زائد موجودہ اور سابق ملازمین نے اکتوبر ۲۰۲۵ء میں ایک ہی دن کے دوران مجموعی طور پر ۶ء۶؍ ارب ڈالر مالیت کے شیئرز فروخت کیے، جسے ٹیکنالوجی کی صنعت کی تاریخ میں ملازمین کے حصص کی سب سے بڑی فروخت قرار دیا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس فروخت میں شامل ہر ملازم نے اوسطاً تقریباً ۱۱؍ ملین ڈالر حاصل کیے، جبکہ تقریباً ۷۵؍ افراد نے زیادہ سے زیادہ اجازت شدہ ۳۰؍ ملین ڈالر تک کیش کیے۔ یہ فروخت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مصنوعی ذہانت کی صنعت میں، خاص طور پر نجی اے آئی کمپنیوں میں، کس تیزی سے غیر معمولی دولت پیدا ہو رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : زراعت میں مصنوعی ذہانت کے استعمال سے لامحدود فوائد
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، چونکہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں عوامی فہرست سازی یاآئی پی او سے گریز کر رہی ہیں، اس لیے وہ ملازمین کو مالی فائدہ پہنچانے کے لیے ’’ٹینڈر آفر‘‘ ماڈل استعمال کر رہی ہیں، جس کے تحت کمپنی اپنے حصص محدود پیمانے پر اندرونی سرمایہ کاروں یا ملازمین کو فروخت کرنے کی اجازت دیتی ہے۔ اوپن اے آئی نے بھی اسی حکمت عملی کے تحت ملازمین کے لیے شیئر فروخت کی حد ۱۰؍ ملین ڈالر سے بڑھا کر ۳۰؍ ملین ڈالر کر دی تھی، جس کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے زبردست دلچسپی سامنے آئی۔ رپورٹ کے مطابق کمپنی میں شامل ہونے والے ابتدائی ملازمین کے حصص کی مالیت گزشتہ سات برسوں میں ۱۰۰؍ گنا سے زیادہ بڑھ چکی ہے۔
اس کے مقابلے میں اسی مدت کے دوران NASDAQ Composite تقریباً تین گنا بڑھا۔ کمپنی کی پالیسی کے مطابق ملازمین کو اپنے حصص فروخت کرنے سے پہلے کم از کم دو سال انتظار کرنا پڑتا ہے۔ اکتوبر ۲۰۲۵ء کی فروخت ان بہت سے ملازمین کے لیے پہلا موقع تھی جب وہ ChatGPT کی کامیابی کے بعد اپنے حصص کیش کرا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ تمام ۶۰۰؍ ملازمین کروڑ پتی بن گئے، لیکن سب نے اپنی مکمل رقم ذاتی استعمال کے لیے نہیں رکھی۔ کئی ملازمین نے اپنے حصص ’’ڈونر ایڈوائزڈ فنڈز‘‘ میں منتقل کیے، جہاں یہ رقم خیراتی سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں رکھی جاتی ہے اور بعد میں فلاحی مقاصد کے لیے استعمال ہوتی ہے۔
یہ نھی پڑھئے : اس ماہ کے آخر تک یو پی آئی یا اے ٹی ایم سے پروویڈنٹ فنڈ کو نکالنا ممکن ہوگا
اس طریقہ کار سے انہیں اسی مالی سال میں ٹیکس میں رعایت حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔ گریگ بروک مین سمیت کمپنی کے بعض اعلیٰ عہدیداروں کی ایکوئٹی کی مالیت اربوں ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گریگ بروک مین کی مالیت تقریباً ۳۰؍ ارب ڈالر بتائی جا رہی ہے۔ دوسری جانب سیم آلٹ مین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کے پاس کمپنی میں براہ راست ایکوئٹی موجود نہیں کیونکہ کمپنی کا آغاز ایک غیر منافع بخش ادارے کے طور پر کیا گیا تھا۔ اوپن اے آئی تکنیکی شعبے میں اعلیٰ تنخواہوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ بعض انجینئرنگ اور اے آئی ریسرچ عہدوں پر سالانہ تنخواہیں ۵؍ لاکھ ڈالر سے زیادہ بتائی جاتی ہیں، جبکہ اسٹاک پر مبنی مراعات دوسری بڑی ٹیک کمپنیوں سے بھی زیادہ سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان اس بات کی علامت ہے کہ مصنوعی ذہانت کی دوڑ نے نہ صرف ٹیکنالوجی کی دنیا بلکہ عالمی سرمایہ کاری اور دولت کے ڈھانچے کو بھی تیزی سے تبدیل کرنا شروع کر دیا ہے۔