مالیگاؤں میں ’’سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکاء کا اظہار خیال، بیشتر نے سوشل میڈیا کو فروغ اردو کا موثر ذریعہ قرار دیا۔
EPAPER
Updated: July 23, 2026, 9:59 AM IST | Mukhtar Adeel | Malegaon
مالیگاؤں میں ’’سوشل میڈیا کے ذریعے فروغ اردو کے امکانات‘‘ کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں شرکاء کا اظہار خیال، بیشتر نے سوشل میڈیا کو فروغ اردو کا موثر ذریعہ قرار دیا۔
مہاراشٹراسٹیٹ اُردواکیڈمی کے زیراہتمام مالیگاؤں کے اُردوگھرمیںگزشتہ ۲۱؍جولائی ،منگل کومنعقدہ ریاستی سیمیناربعنوان ’سوشل میڈیاکےذریعے فروغِ اُردوکے امکانات ‘کے آخری سیشن کی صدارتی تقریر میں سرفراز آرزو(روزنامہ ہندوستان)نے کہا کہ’’اپنی مادری زبان کے فروغ اور اشاعت کیلئے ہم سب وسیع نظرئیےکےساتھ عملی کام کریں۔اُردوکی آفاقیت اور وسعت کا تقابل کرنے کی بجائے اس میں رچ بس جانے والا کام کرنا چاہئے۔‘‘
اُن کی صدارتی تقریرسے قبل عدینہ شیخ (طالبہ ،مالیگاؤں سینئرکالج )نےسوال کیا کہ موجودہ دور میںاُردواخبارات و رسائل کی تعداداشاعت میںزبردست کمی واقع کیوںہو رہی ہے؟ اس سوال کا جواب خطبہ صدارت کا حصہ بنا۔طویل صحافتی تجربات،مشاہدات اورموجودہ حالات کے حوالے سے سرفراز آرزونے کہا کہ ’’صرف اُردونہیں بلکہ سبھی اخبارات کے میڈیم تبدیل ہوئے ہیں۔ کاغذکے بجائے ڈیجیٹل فارمیٹ میں اخبارات آرہے ہیں۔اخباربیںطبقہ آج بھی اخباربینی کے بغیررہ نہیں پا تا۔میڈیم بدلا ہےلیکن عادت نہیں۔‘‘دوسراسوال اُردورسم الخط سے متعلق ایک طالبہ نے کیاتھا۔اس کا جواب آرزوؔ نے دیا کہ’’اُردوکےفروغ میںاُردوکے رسم الخط کو رکاوٹ نہیں بننے دینا چاہئے۔اُردوکےبہت سارے الفاظ ہندوستانی لوگ اپنی روزمرہ کی بول چال میںمستعمل رکھتے ہیں۔اسے مزید مستحکم کرناہوگا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آج ونچت بہوجن اگھاڑی کا ’مہاراشٹر بند‘، تمام پارٹیوں سے شرکت کی اپیل
اس موقع پر شکیل حنیف(معلم،شاعر وبلاگر)نے اپنی نظم ’معلم‘کوسوشل میڈیاکی جادوگری سےملی عالمی مقبولیت کوبطورِ مثال پیش کرتے ہوئے کہا کہ متذکرہ نظم پڑوسی ملک کے پختونخواصوبے کی اسکولوںمیںرائج نصابی کتاب میںشامل ہے۔شکیل حنیف نے اس مثال کےذریعےفیس بُک، اِنسٹاگرام،،یُوٹیوب اور واٹس اَیپ کو فروغِ اُردوکے موثر ذرائع ثابت کئے۔حفظ الرحمٰن (وائس آف اُردو)نےاظہارخیال کےدوران سوشل میڈیاپرمتحرک ملّت ٹائمز،قومی آوازاورریختہ کی خدمات وثرات کا احاطہ کیا۔ڈاکٹرعطاء الرحمٰن نوری (اسکالر و لیکچرار)نے کہا کہ ۱۲؍سَو سے زائد طلبہ نے اُردومیں نیٹ سیٹ جےآرایف کی کوچنگ کلاسیز سےاستفادہ کرتے ہوئےحکومتی وظائف(ناقابل واپسی مالی امداد) حاصل کئے۔ نُوری اکیڈمی (مالیگاؤں)نے اُردوکوذرائع روزگار سے مربوط کرنے کے مقصد سےطلبہ کی رہنمائی کا سلسلہ شروع کیاتھا۔اس اکیڈمی سے مستفیض ہونےوالےطلبہ اتر پردیش، بہار، بنگال، جموں و کشمیر سمیت پورے ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔جامعہ ملّیہ اسلامیہ ،ڈی یو،جےاین یو(دلّی)،علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے علاوہ ملکی وعالمی جامعات میںزیرتعلیم اوربرسرملازمت بھی ہیں ۔
یہ بھی پڑھئے: احتجاج ملک گیر ہوگیامگر استعفیٰ نہیں ہوا،طلبہ اٹل، نڈا سے گفتگو
مالیگاؤںکےمعروف فلم سازاکرم خان نےبتایا کہ وہ یُوٹیوب پراُردوکی کلاسک کہانیاںپیش کرتے ہیں۔کم عمرطلبہ ،نوجوانوںاورہرعمرکےافرادکےلحاظ سےاُردوکی وہ کہانیاں جو کلاسیکل درجات میںشمارکی جاتی ہیں،اُسےایک سے ڈھائی منٹ کی ریل میںبناکریُوٹیوب پراَپ لوڈکردیتے ہیں۔اس کے سامعین وناظرین کی تعدادلاکھوںمیںہوچکی ہے۔اکرم خان فیس بُک آفیشیل پیج کے فالوورز بھی ۶؍ یا ۷؍ ہندسے عبورکررہے ہیں۔متذکرہ سیشن میںبیڑسےآئے قاضی مخدوم اورممبئی اُردوپترکاروِکاس فاؤنڈیشن کےروح رواں یوسف رانانےبھی اپنے زریں خیالات پیش کئے۔نظامت عمران راشدخان نے اوررسم شکریہ شعیب ہاشمی نےاداکئے۔اہم شرکاء میںصبا محمد انصاری(جےاےٹی گرلزہائی اسکول اینڈجونیئرکالج )،پروفیسر ساجد انصاری(ایم ایس جی ،کالج)، حاجی شاہد انجم(انجمن محبان اُردوکتب)،نخشب مسعود(افسانچہ فاؤنڈیشن) ، طاہرانجم صدیقی(افسانہ نگار) ، بلال کاتب، انورخطاط ،شبؔ انصاری،ڈاکٹردانش عتیق(ٹرسٹی اُردو لائبریری)، انجینئر عبدالرحمان ، مزمل عبدالطیف وغیرہ تھے۔
واضح ر ہے کہ یہ یک روزہ سمینارتین سیشن پرمشتمل تھا۔افتتاحی اوردوسرے سیشن کی روداد۲۲؍جولائی کوشائع ہوچکی ہے۔